اسلام آباد(وسیم عباسی) مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عام طور پر پاکستان کو فریق نہیں سمجھا جاتا اور پاکستان کے ہی بعض دانشور اس موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں مگر برطانیہ میں مقیم مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلبا و طالبات کے ساتھ نجی سطح پر گفتگو نے مذکورہ بیانیہ کی نفی کر دی بھارت مقبوضہ کشمیر پر گزشتہ سات دہائیوں کے غاصبانہ قبضے کے باوجود یہاں کے عوام کے ذہن و دل پر اثرانداز نہیں ہو سکا اور کشمیری آج بھی پاکستان کو اپنی منزل قرار دیتے ہیں خاص طور پر پڑھی لکھی نوجوان نسل عالمی سطح پر بھارت سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے موثر انداز میں آواز بلند کر رہی ہے۔ برطانیہ میں دو ماہ قیام کے دوران وہاں مقیم مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلبا سے مسلسل میل جول سے اندازہ ہوا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جذباتی لگائو رکھتے ہیں ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے دوران کشمیری نوجوان ہارث احمد نے یہ کہہ کر بھارتی طلبا سے کچھا کھچ بھرے ہوئے یونیورسٹی ہاسٹل میں سناٹا طاری کر دیا کہ وہ (پاکستان سے آئے ہوئے) اس نمائندے کے ساتھ پاکستانی ٹیم کی حمایت کرے گا۔ اس پر ایک بھارتی طالب علم نے غصہ سے کہا کہ پھر بھارتی پاسپورٹ واپس کر دو اگر تم نے پاکستانی ٹیم کی حمایت کرنی ہے ہارث احمد نے جواب دیا یہی تو کشمیری چاہتے ہیں کہ ان کا پاسپورٹ بھارت کی بجائے پاکستانی ہونا چاہئے ۔ ہارث نے اس نمائندے کو مزید بتایا کہ پڑھے لکھے نوجوان نتائج کی پروا کئے بغیر ہر مسئلہ پر پاکستان کی حمایت کرتے ہیں میڈیا پر ہماری نمائندگی درست انداز میں نہیں ہوتی یہ میڈیا پاکستانی ہو یا بھارتی اس وجہ سے کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ ہم پاکستان کی جانب کس قدر زیادہ جھکائو رکھتے ہیں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سے بھی ملاقات کا اتفاق ہوا جس کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیری جغرافیائی طور پر ثقافتی، لسانی اور مذہبی لحاظ سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے نسبت رکھتے ہیں۔1947 ء سے قبل کشمیری جہلم کے راستے پاکستانی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں سے تجارت کیا کرتے تھے ہمارے ٹیلی گرام پوسٹل سروسز، پٹرول اور اشیائے خوردونوش کی سپلائی پاکستان اور مظفر آباد سے ہوتی تھی نئی دہلی کی بجائے ہماری فروٹ منڈی راولپنڈی ہو سکتا ہے جو محض چھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔تاہم برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے غیرجانبدار رہتا ہے۔ کشمیری نوجوا نوں کا موقف ہے کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے لہٰذا اسے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ ریڈنگ کالج سے پی ایچ ڈی کرنے والے کشمیری طالب علم نے کہا کہ یہ محض کرکٹ کی بات نہیں یہ سیاسی معاملہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کے بالمقابل اگر بنگلہ دیش یا افغانستان کی ٹیم بھی جو مسلمان ممالک ہیں ہم پھر بھی پاکستان کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیر کی حمایت کی ہے ۔ کشمیری سیاسی لحاظ سے بالغ نظر ہیں وہ عام طور پر پاک بھارت مسائل سے دونوں ممالک کے عوام سے بھی زیادہ باخبر ہوتے ہیں مذکورہ کشمیری طالب علم نے اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ پاکستانی بھارت سے متعلق وہی گمان رکھتے ہیں جو وہ اپنی فلموں میں دکھاتے ہیں حالانکہ یہ فلمیں بھارت کی حقیقی تصویر نہیں دکھاتیں۔ خاص طور پر پاکستانی لبرل طبقہ کشمیر سے متعلق بھارتی موقف کی ترویج کرتے ہیں احتیاط کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیر ی طلبا کی شناخت بدل دی گئی ہے۔