مصر میں بیوی کے قتل کےجرم میں جج کو سزائے موت سنا دی گئی۔
قاہرہ سے خبر ایجنسی کے مطابق جج پر گزشتہ ماہ اس کی بیوی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
خبر ایجنسی کے مطابق سزائے موت پر عملدرآمد مفتی اعظم مصر کی جانب سے منظوری کے بعد ہوگا۔
ویڈیو میں طالبات کو روتے ہوئے اسکول سے باہر آتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اسرائیلی شہریوں کو تبوک سے تل ابیب لے جانے کےلیے آنے والی پرواز تاخیر کا شکار ہوگئی۔
مصری وزارت خارجہ کے مطابق صومالیہ میں بحری قزاقوں نے جہاز کے عملے میں شامل 8 مصری شہریوں کو رہا کر دیا۔ مصری وزارت خارجہ کے مطابق بحری قزاقوں نے 2 مئی کو جہاز روک کر عملے کو یرغمال بنایا تھا۔
ڈی ایم ڈی سی کے مطابق غیر مجاز صارفین نے تقریباً نو ماہ تک ایسے سرور تک رسائی حاصل کی جس میں غیر خفیہ شدہ ذاتی معلومات محفوظ تھیں۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق عراق میں امریکا اور اتحادی ممالک کا فوجی مشن باضابطہ طور پر ختم ہوگیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق طیارے کو کریش کرنے کی کوشش کرنے والا پائلٹ عمانی شہری ہے، دوسرے پائلٹ کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے۔
اس کی بڑی وجہ 2020 میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہے،
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق پرواز کو سوا 2 گھنٹے کے سفر کے بعد واپس موڑا گیا تھا، پرواز کو واپس دبئی کی بجائے تل ابیب ایئرپورٹ کے روٹ بھیجا گیا، پرواز کا دبئی ڈائیورٹ کا اسٹیٹس بھی ختم کر دیا گیا۔
پرواز کا رخ آج صبح پیش آئے واقعے کے مقام سے دبئی کی جانب موڑا گیا۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس صورتِ حال سے ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کو تقویت مل سکتی ہے اور داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
طیارے کے کاک پٹ میں غیر معمولی صورتِ حال رپورٹ ہوئی جب پرواز 34000 فٹ کی بلندی سے گرنے کے انداز میں 17000 فٹ کی بلندی پر آ گئی۔
یہ معاہدہ نیکسٹ جنریشن ایئر ڈومیننس (NGAD) پروگرام کے تحت دیا گیا ہے.
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی پیشکش میں پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک پائلٹ نے طیارے کو 30 ہزار فٹ بلندی سے 15 ہزار فٹ تک نیچے لانے کی کوشش کی۔
اسرائیل نے غزہ سے باہر موجود حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے۔
عرب میڈیا سے گفتگو کے دوران ابراہیم المدحون نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں کو منصوبہ قبول کرنے کے بدلے جارحیت روکنے، اسرائیلی فوج کے انخلا، امن دستوں اور علیحدگی کی فورسز کی تعیناتی اور ایک انتظامی کمیٹی کے قیام کی یقین دہانی کروائی گئی تھی