وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو نے کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز کی اس کارروائی میں، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا، ان کی سیکیورٹی ٹیم کا بڑا حصہ ہلاک ہو گیا۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں پیڈرینو نے ہلاکتوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی وینزویلا کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ تھی۔
انہوں نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کرنے کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مسلح افواج کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ خودمختاری کا تحفظ کیا جا سکے، جسے انہوں نے ’سامراجی جارحیت‘ قرار دیا، اس کا مقابلہ کیا جا سکے۔
پیڈرینو کے مطابق، فوج اور سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور ملک کے تمام اہم تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ وینزویلا پر گزشتہ روز امریکی حملے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑ کر طیارے میں نیویارک پہنچادیا گیا۔
انہیں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا ، منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود چلانے، تیل کے ذخائر قبضے میں لینے اور امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔
دوسری جانب عدالتی حکم پر وینز ویلا کی صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ڈیلسی روڈریگز نے نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے واحد صدر نکولس مادورو ہی ہیں، وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا۔
وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کل ہوگا، جبکہ امریکی حملے کے بعد وینزویلا کی تیل برآمدات مفلوج ہوگئیں۔