قائداعظم کا وژن

September 11, 2022

11ستمبر 1948ء کو قائداعظم کے انتقال کی خبر پاکستانی قوم پر بجلی بن کر گری۔ اگلے روز کے اخبارات میں ان کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی ملک بھر میں پھیلنے والی غم و اندوہ کی خبروں کی بھرمار تھی۔ مزید ایک روز بعد 13 ستمبر کے اخبارات قائداعظم کی تدفین اور ملک اور بیرون ملک کے عمائدین کے بیانات سے پُر تھے۔ ایک انگریزی اخبارکی اطلاع کے مطابق اُن کے جنازے کا جلوس دومیل لمبا تھا جس میں چار لاکھ سے زیادہ افراد شریک تھے۔

بانی ٔ پاکستان کے جنازے کوکندھا دینے والوں میں وزیراعظم لیاقت علی خان، مرکزی کابینہ کے وزراء، سردار عبدالرب نشتر،ظفر اللہ خان ،پیرزادہ عبد الستار اور جوگندر ناتھ منڈل کے علاوہ مشہور عالم دین علامہ شبیر احمد عثمانی بھی شامل تھے۔ 12ستمبر کو غم و اندوہ کی جو تصویر یں دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور جو اگلے روز کے اخبارات کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک پہنچیں، ان سب تصویروں نے اوربعد کے ماہ و سال میں عالمی مدبّرین اور دانشوروں کے اظہارِ خیال نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کی کہ قائداعظم کرو ڑوں انسانوں کے دلوں پر حکومت کر رہے تھے۔

تاریخ نویسوں نے قائداعظم کی قیادت اور اُن کی مقبولیت کے اسباب کو سمجھنے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے۔قائداعظم نے اپنی زندگی ایک اہم مقصد کے حصول کی خاطر وقف کی تھی۔ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کے خواہاں تھے۔ جب متحدہ ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک منصفانہ اور باوقار مستقبل کی ان کی امیدیں کانگریسی اور مہاس بھائی رویوں کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئیں اور انہوں نے ایک علیحدہ مملکت کے حصول کو اپنا منتہائے نظر بنالیا تو پھر وہ اسی منزل کے حصول کے لیے یکسو ہوگئے۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں باوجود اپنی صحت کی خرابی کے وہ اسی سمت میں آگے بڑھتے رہے۔ قائداعظم کے انتقال پر برطانیہ کے سابق وزیر ہند لارڈ پیتھک لارنس نے کہا تھا کہ ’’گاندھی ایک قاتل کے ہاتھوں موت سے دوچار ہوئے، جناح کی موت پاکستان پر جانثاری کی صورت میں واقع ہوئی‘‘۔

پاکستان کے قیام کے تناظر میں قائداعظم کے کردار کی ناگزیریت کا بہت سے لوگوں نے اعتراف کیا ہے۔ جان بِگس ڈیویسن نے تو یہاں تک لکھاکہ ،’’ گاندھی کے بغیر بھی ہندوستان آزاد ہوجاتا اور لینن اور مائو کے بغیر بھی روس اور چین انقلاب کی آزمائشوں سے عہدہ برآ ہوہی جاتے لیکن جناح کے بغیر1947ء میں کسی پاکستان کا وجود میں آنا ممکن نہیں تھا‘‘۔کسی رہنما کے لیے شاید سب سے بڑا خراج تحسین وہ ہوتا ہے جو اس کے مخالفین کی طرف سے آتا ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر سورت چندر بوس کے یہ فقرے ایک نظریاتی او ر سیاسی مخالف کی طرف سے کہے گئے جملے تھے سو ان کی معنویت کہیں زیادہ قابل غور ہے۔ بوس نے کہا ،’’جناح ایک عظیم وکیل تھے،کبھی وہ ایک عظیم کانگریسی تھے، مسلمانوں کے لیڈر کی حیثیت سے بھی وہ عظیم ہی رہے، وہ عالمی سطح کے ایک سیاستدان اور ڈپلومیٹ بن کر ابھرے تب بھی وہ عظیم تھے، اور سب سے بڑی عظمت اُن کی یہ تھی کہ وہ ایک باعمل انسان تھے۔

جناح کے رخصت ہوجانے سے دنیا ایک عظیم ترین مدبّر سے اور پاکستان اپنے حیات بخش انسان۔ایک فلسفی اور رہنما سے محروم ہوگیا ہے‘‘۔ برطانیہ کے معروف تاریخ داں آرنلڈ ٹوئن بی جن کی بارہ جلدوں پر مشتمل’’اے اسٹڈی آف ہسٹری‘‘ خود تاریخ نویسی کی تاریخ میں ایک بہت بڑے کارنامے کی حیثیت رکھتی ہے ، قائداعظم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’ جناح صدی کے سب سے عظیم رہنما تھے جو کہ دنیا نے پیدا کیے ‘‘۔

قائداعظم کی وفات کے وقت کے مناظر کو ذہن میں تازہ کریں اور عالمی مدبّرین اور تاریخ دانوں کی طرف سے ان کے کردار کی جو تحسین کی گئی اس کو پیش نظر رکھیں تو ایک بہت بڑا سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ قائداعظم اور ان کے آدرشوں کو اتنی جلدی کیو ں کر بھلا دیا گیا؟ اب سے 75سال قبل 11 ستمبر 1948 کی غمزدہ شام کو کسی کے بھی تو حاشیہ ٔ خیال میں یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ بانی ٔ پاکستان کے افکار اور ان کے وژن کو نہ صرف اتنی جلد بھلادیا جائے گا بلکہ جس سمت انہوں نے سفر کی ہدایت کی تھی عین اس کی مخالف سمت میں ایک اور ہی سفر کا آغاز کردیا جائے گا، وقتاً فوقتاً ٹھو کریں کھائی جائیں گی، بحرانوں کا سامنا کیا جائے گا، آزادی کے چوبیس سال بعد ملک دولخت ہوجائے گا،مگر اس ساری افتاد کے باوجود اس بات کو تسلیم نہیں کیاجائے گا کہ ہم غلط سمت میں آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ ستم بالائے ستم یہ کہ آزادی کے چند ہی عشروں میں لوگ خود قائداعظم کو بھی اپنے خودساختہ سانچوں میں ڈھال کر اپنے مطلوبہ رنگ و روپ میں پیش کرنا شروع کردیں گے۔ شاید ہی کسی ملک کے بانی اور تاریخ کے کسی ہر دلعزیز رہنما کے ساتھ اس کے ملک کے کرتا دھرتا لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا ہو۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قائداعظم اگر آج ہماری مملکت خدادا د میں کچھ دیر کے لیے لوٹ آئیں تو شاید وہ اپنے آپ کو بہت تنہا محسوس کریں گے اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بڑا اجنبی پائیں گے۔

مشہور روسی ناول نگار فیودورڈوسٹوفسکی نے اپنے مشہور ناول ’’کرامازوف برادرز‘‘ میں ایک باب"The Grand Inquisitor"یا’ محتسبِ اعلیٰ ‘کے نام سے لکھا ہے ۔کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک زمانے میں یورپ میں بعض خود ساختہ پیشوائوں نے ارتداد کے خاتمے کے لیے عدالتیں لگانی شروع کردیں، وہ جس کو چاہتے موردِ الزام ٹھہراتے اور سخت سے سخت سزائیں دے دیتے۔ عیسائیت کے نام پر لوگوں کے اعضاء کاٹے جاتے اور کبھی کبھی تو ان کو زندہ بھی جلادیا جاتا۔ ایک دن جبکہ اسپین کے کارڈینل کی ذاتی نگرانی میں کُشتوں کے پُشتے لگائے جارہے تھے اچانک حضرت عیسیٰ تشریف لے آئے۔لوگوں نے انہیں پہچان لیا اور ان کے سامنے اپنی تکلیفیں اور مصائب بیان کرنے شروع کردیے۔

حضرت عیسیٰ کارڈینل کے پاس گئے اور اس سے کہاکہ تم مخلوقِ خدا کے ساتھ یہ جو کچھ کررہے ہو اس کی تو کبھی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔کارڈینل نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ حکم دیاکہ حضرت عیسیٰ کو گرفتار کرلیں اور ایک تہہ خانے میں بند کردیں۔ پھر وہ تہہ خانے میں گیا اور حضرت عیسیٰ کو طویل لیکچر اس موضوع پر دیا کہ بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ کس طریقے سے نمٹا جانا چاہیے۔ آخر میں اس نے حضرت عیسیٰ کو حکم دیا کہ براہ کرم دوبارہ جنت چلے جائیں، آئندہ کبھی زمین کا رخ نہ کریں اور نہ ہی چرچ کے معاملات میں مداخلت کا خیال ذہن میں لائیں ۔اگر انہوں نے پھر سے ایسی کوشش کی تو ان کو دوبارہ مصلوب کردیاجائے گا۔ آج پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے بھی یہی خیال آتا ہے کہ کاش قائداعظم اب ادھر کا رخ نہ کریں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائداعظم کے وہ کون سے افکار تھے جن کی رہنمائی میں پاکستان کو اپنی ریاست سازی اور معاشرہ سازی کے دوران رہنمائی حاصل کرنا تھی اور پھر وہ کون سے تصورات اور مقاصد تھے جن کے تحت ملک کو ایک مختلف سمت میں عازم ِسفر کردیا گیا۔

قائداعظم کوئی ایسے مدبر اور سیاستدان تو نہیں تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اور سماجی افکار کو کسی مبسوط کتاب میں پیش کیا ہو لیکن اُن کے پورے سیاسی کیریئر میں ایسے افکار کی کارفرمائی نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے جو مطالعے اور مشاہدے اور اپنے عہد کے تجربات کی مناسب تفہیم پر استوار ہوئے تھے۔ وہ ایک وکیل تھے اور ان کی سیاسی جدوجہد بھی آئین اور قانون کی تعبیر پیش کرتے اور نئے آئینی اور قانونی راستے تجویز کرتے ہوئے آگے بڑھتی رہی تھی۔

مختلف اوقات میں ان کے اختیار کردہ موقف ایک دوسرے سے مختلف بھی ہوسکتے تھے لیکن ان کا بنیادی زاویۂ نظر اور اساسی سیاسی و سماجی نظریات میں ایک تسلسل دیکھا جاسکتا ہے بشرطیکہ ایسا کرتے وقت ہم اپنے اپنے من پسند نتائج اخذ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ قائداعظم نے ہندوستان کے مسلمانوں کا مقدمہ خالی خولی نعروں یا تجریدی خیالات کے سہارے نہیں لڑابلکہ ان کے پاس اپنے دلائل کے لیے ٹھوس حقائق کا پس منظر ہمیشہ موجود رہا ۔انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک پسماندہ کمیونٹی کے طور پر دیکھا۔

پہلے وہ اس کمیونٹی کو صرف ایک اقلیت کے طور پر دیکھتے رہے لیکن 1930ء کے عشرے کے اواخر سے انہوں نے اس کو ایک قوم کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔ قائداعظم کا خیال تھا کہ مسلمانوں کا ایک اقلیت ہونا بھی ان کے پسماندہ رہ جانے کا ایک سبب ہے۔ لہٰذا انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کو ناگزیر قرار دیا۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کو بھی مسلمانوں کی اقتصادی ترقی سے مشروط قرار دیتے تھے۔ 1934ء میں جبکہ قائداعظم ابھی متحدہ ہندوستان کے دائرے ہی میں بات کررہے تھے، تو انہوں نے بقول مرزا راشد علی بیگ فرمایا کہ ’’ ہندو مسلم ایک جسم کے دو بازو ہیں مگر ایسا جسم کس کام کا جس کا ایک بازو فالج زدہ ہو۔

مفلوج شدہ ہاتھ کو مضبوط کرکے آپ جسم کو مضبوط کرسکتے ہیں ‘‘۔ اس سے قبل 1926ء میں قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ’’ مسلمانوں کی ترقی خود ہندوستان کا کاز اور مسلمانوں کی ترقی خود ہندوستان کا کاز ہے ۔۔۔مسلمانوں کا پسماندہ رہنا نہ صرف ان کے نقطہ نظر سے مضر ہے بلکہ یہ قومی نقطۂ نظر سے بھی ایک رکاوٹ اور نقصان دہ چیز ہے‘‘۔1940ء کے عشرے میں جب مطالبہ ٔپاکستان گفتگو کا موضوع بن چکا تھا، قائداعظم کے کئی ایسے بیانات ریکارڈ پر محفوظ ہوئے جن میں انہوں نے پاکستان کے لیے ایک فلاحی مملکت کا تصور پیش کیا۔

وہ کھل کر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف اظہار خیال کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پاکستان میں جاگیرداری کو ختم نہیں کرسکے اور ہم نے سرمایہ داروں کو من مانی کرنے کی چھوٹ دے دی تو پاکستان کے حصول کا مقصد فوت ہوجائے گا۔1943ء میں دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ’’ پاکستان میں عوامی حکومت ہوگی اور یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کرتا ہوںجو ایک ظالمانہ اور قبیح نظام کے وسیلے سے پھل پھول رہے ہیں اور اس بات نے انہیں اتنا خود غرض بنادیا ہے کہ ان کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

عوام کی لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں شامل ہوگئی ہے۔انہوں نے اسلام کے سبق بھلا دیے ہیں۔۔۔میں گائوں میں گیا ہوں وہاں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے عوام ہیں جن کو دن میں ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں ۔کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے ؟ اگرپاکستان کا یہی تصور ہے تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں ‘‘۔ قائداعظم کے ایسے بیسیوں بیانات ہیں جو سماجی عدل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور امارت و غربت کے تفاوت کو ختم کرنے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

آج پاکستان کی صورت حال کیاہے ؟ آزادی کے تہتّر سال بعد بھی ہم دنیا کے غریب ملکوں کی صف میں کھڑے ہیں۔ اپنی بائیس کروڑ کی آبادی کے ساتھ پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے ۔لیکن آمدنی کے حوالے سے پاکستان دنیا کا 132واں ملک ہے جہاں30 فیصد سے زیادہ عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ 2018ء میں پوری دنیا کے انسانی ترقی کے اشاریوں میں پاکستان 152نمبر پر تھا۔ پاکستان کی غربت کثیر الجہتی نوعیت کی ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں اس کے اعدادو شمار مختلف ہیں۔

دیہی علاقے بحیثیت مجموعی زیادہ پسماندہ او رغریب ہیں اسی طرح مختلف صوبوں میں بھی غربت کی شرح مختلف ہے۔ لیکن جو چیز سب سے زیادہ قابل افسوس ہے وہ غربت اور امارت کے درمیان پایا جانے والا تفاوت ہے۔گوکہ پاکستان میں پچھلے چند عشروں میں متوسط طبقے یا متوسط درجے کی آمدنی رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن ملک میں شدید قسم کا ارتکاز دولت پایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک کی 80فیصد دولت 10فیصد افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہے جبکہ بقیہ 20فیصد دولت 90فیصدآبادی کے تصرف میں ہے ۔یہ شدید قسم کی طبقاتی تقسیم کسی فلاحی مملکت کی تصویر نہیں پیش کرتی۔

ماضی میں 1958-59ء اور پھر1972ء کی زرعی اصلاحات کے نتائج بھی عام کسانوں کے حق میں نہیں نکلے بلکہ زراعت میں جدید زرائع پیداوار مثلاً ٹریکٹر ،ٹیوب ویل اور جدید تر بیجوں، نیز ریاستی بینکوں کے فراہم کردہ قرضوں کے نتیجے میں زرعی اشرافیہ ہی زیادہ تر فوائد سمیٹنے میں کامیاب ہوئی۔ صنعتی شعبہ جس زمانے میں تیزی سے آگے بڑھا اس زمانے میں یہ بھی چند گھرانوں تک محدود رہا۔ بعد ازاں اس شعبے پر ترقی کے راستے بند ہوتے چلے گئے ۔پاکستان روزِ اول سے بیرونی قرضوں ،دوست ملکوں کی امدادا ور1970 ء کے عشرے سے تارکینِ وطن کی ترسیلات کے سہارے اپنی معیشت چلا رہا ہے ۔عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی مستقل غلامی ہماری معیشت کا نمایاں تر پہلو بن چکی ہے۔

ہم بارہا معاشی کشکول توڑنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں لیکن ہمارا کشکول وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا چلا جارہا ہے۔ اب حکومتیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ملنے والے قرضوں کے حصول پر عوام سے دادِ تحسین طلب کرتی ہیں۔ آج جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو روکنے اور ٹوکنے والا بھی کوئی موجود نہیں۔ ماضی میں آجر اور اجیر کے درمیان تعلقاتِ کار کی بہتری کے لیے کچھ قانون سازی ہوئی بھی تھی، اور تنظیم سازی کا کلچر موجود بھی تھا تو اب یہ سب کچھ گلوبلائزیشن اور ملک کے داخلی حکومتی اقدامات کے نتیجے میں بے اثر ہوچکا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے قائداعظم کے وژن کا دوسرا اہم پہلو ملک کو ایک جدید جمہوری ریاست کے طور پر دیکھنے سے متعلق تھا۔ قائداعظم کی سیاسی تربیت برطانیہ میں وہاں کے پارلیمانی جمہوری نظام کے مشاہدے سے شروع ہوئی تھی۔ وہ برطانیہ ہی میں تھے جب بمبئی سے تعلق رکھنے والے پارسی رہنما دادا بھائی نوروجی نے برطانوی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف کامنز کا انتخاب لڑا۔ قائداعظم نے ان کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک موقع پر کہا کہ ’’ میں لندن میں رہنا چاہتا تھا۔ میری خواہش تھی کہ میں برطانوی پارلیمنٹ کا رکن بنوں۔

مجھے امید تھی کہ میں اس پر کچھ اثر ڈال سکوں گا‘‘۔ قائداعظم دورانِ تعلیم برطانیہ کے لبرل سیاستدانوں گلیڈ سٹون اور جان مارلے سے بہت متاثر ہوئے ۔ ہندوستان واپسی پر وہ تقریباً پینتیس سال امپیریل قانون ساز کونسل کے رکن رہے۔ انہوں نے کونسل میں بیسیوں مرتبہ شہری آزادیوں، خاص طور سے پریس کی آزادی کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ 1919ء میں انہوں نے برطانیہ کی طرف سے متعارف کردہ آمرانہ رولٹ ایکٹ کی مذمت کرتے ہوئے امپیریل قانون ساز اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا۔ شہری آزادیوں پر ان کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ باوجود جمہوری سیاسی راستوں کی وکالت کے ،انہوں نے غدر پارٹی کے انقلابی بھگت سنگھ کے لیے بھی انہی حقوق کا مطالبہ کیا جو انگریزوں کو حاصل تھے۔

جمہوریت سے متعلق قائداعظم کے خیالات پر بعض اوقات یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ اگر جمہوریت پسند تھے تو انہیں ہندوئوں کی اکثریت کو تسلیم کرنے میں کیا مشکل درپیش تھی۔ قائداعظم کے اس زمانے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو انہوں نے کبھی بھی ہندوئوں کی عددی برتری کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا۔ ان کا سارا سیاسی موقف یہ تھا کہ اگر ایک جمہوری نظام میں ایک اقلیت صرف اپنی عددی کمتری کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک کمتر کمیونٹی بن کر رہ جائے اور ایک کمیونٹی اپنی عددی برتری کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک بالادست کمیونٹی بن جائے تو ایسی دونوں کمیونٹیاں مل کر کوئی ایک قوم نہیں بن سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم سازی کے لیے ضروری ہے کہ اقلیت کو اس کی تعداد سے بڑھ کر نمائندگی دی جائے تاکہ وہ اپنے آپ کو بہت زیادہ اور ہمیشہ کے لیے مجبور محض تصور نہ کرے۔ اس کے لیے قائداعظم نے 1916ء میں جو فارمولا پیش کیا وہ جمہوریت کو قابل عمل بنانے اور اقلیت اور اکثریت دونوں کو ایک قابل عمل نظام میں یکجا کرنے کا فارمولا تھا۔

اس فارمولے کے تحت ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کو ان کی تعداد سے زیادہ نمائندگی دینے کی تجویز پیش کی گئی اوراس کے متبادل کے طور پر مسلم اکثریتی صوبوں میں ہندوئوں کو ان کی تعداد سے زیادہ نمائندگی فراہم کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ یہ اقلیت اور اکثریت میں منقسم ایک آبادی کو جمہوریت کے راستے پر ڈالنے کا طریقہ تھا جس کی وجہ سے قائداعظم کو مسز سروجنی نائیڈو نے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا تھا۔

جمہوریت ہی سے متعلق قائداعظم کا ایک اور نظریہ صوبوں کی خود مختاری سے متعلق تھا ۔ انہوں نے 1919ء اور1935ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹس کی مخالفت کی کیونکہ ان میں صوبوں کو مناسب خود مختاری نہیں دی گئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ قیام پاکستان سے قبل ان کی یہ بھی کوشش رہی کہ مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد بڑھوائی جائے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد میں اضافہ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کے تعداد میں کم ہونے کی کسی نہ کسی حد تک تلافی ضرور کرسکتا تھا۔

تحریک پاکستان کے دوران انہوں نے مجوزہ مملکت کے لیے جمہوریت ہی کو مناسب ترین نظام تصور کیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ابتدا میں پاکستان کو 1935ء کے ایکٹ ہی کو عبوری دستور کے طور پر قبول کرنا ہوگا انہوں نے ہمیشہ اس بات کااظہار کیاکہ پاکستان ایک پارلیمانی جمہوری مملکت بنے گا۔وہ اسلام کی تعلیمات کو سیاسی نظام کے اندر کارفرما دیکھنا چاہتے تھے لیکن اس کے لیے جو سانچے ان کے پیش نظر تھا۔ وہ ایک طرف پارلیمانی جمہوری اور دوسری طرف وفاقی طرز حکومت کے نظام تھے ۔قیام پاکستان سے قبل انہوں نے واضح طور سے کہا کہ پاکستان امریکہ، کینیڈا اورآسٹریلیاکی طرز پر اپنا وفاقی آئین بنائے گا اور 11اگست 1947 ء کی اپنی تاریخ ساز تقریر میں انہوں نے پاکستان کی پارلیمینٹ کو ایک مقتدر (Sovereign) ادارہ قرار دیا۔

بدقسمتی سے پاکستان آزادی کے بعد جمہوریت کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکا۔ قائداعظم صرف تیرہ ماہ زندہ رہے۔ اُس زمانے میں ملک 1935ء کے ایکٹ کے تحت چل رہا تھا ۔قائداعظم کے انتقال کے بعد بھی یہ ایکٹ آٹھ سال مزید جاری و ساری رہا۔ 1956ء میں آئین بنا۔ ملک کو جمہوریہ قراردیا گیا لیکن ڈھائی سال بعد مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی آئین کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ پاکستان میں مجموعی طور پر چار دفعہ فوجی حکومتیں قائم ہوئیں جن کی مدت کار تقریباً 34سال بنتی ہے۔

جن ادوار میں براہ راست فوجی اقتدار موجود نہیں تھا تب بھی سویلین بالادستی ایک خواب کی حیثیت رکھتی رہی۔ 1973ء کا دستور دو مرتبہ معرض التوا میں ڈالا گیا جس کے نتیجے میں کئی دستوری ادارے عملا ً ختم ہوکر رہ گئے۔ بدقسمتی سے دستور اپنی روح کے مطابق اب بھی کارفرما کم ہی نظر آتا ہے۔ ادارے اکثر باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ عوام کی بالادستی ایک خام خیالی محسوس ہوتی ہے۔ جمہوریت کا چلن نہ تو ریاست میں نظر آتاہے نہ ہی سیاسی کلچر میں۔

قائداعظم کی زندگی میں ایک اہم موضوع خود مذہب اور سیاست کے تعلق سے مرتب ہوا تھا۔قائداعظم اسلام کو مسلمانوں کی ثقافتی شناخت کی اہم بنیاد تصور کرتے تھے ۔وہ مسلمانوں کی تاریخ سے استفادہ بھی کرتے تھے ۔ان کے خیال میں اسلام کی روشن خیال اقدار اور تعلیمات کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر ان سے ریاست و معاشرت کی تعمیر کا کام کیا جاسکتا تھا۔ اپنے ان تمام خیالات کے باوجود وہ کسی طور بھی فرقہ پرست یا مذہبی عدم رواداری کے وکیل نہیں تھے۔

انہوں نے ہندو مسلم سیاسی تنائو کے مشکل ترین ادوار میں بھی ہندوئوں کے لیے کوئی نازیبا جملہ ادا نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ اپنے موقف کو سیاست کی حد تک محدود رکھا۔ چنانچہ ایک موقع پر،یعنی 7مارچ 1947ء کو انہوں نے میمن چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ ادا کیے :’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں عظیم ہندو کمیونٹی اور اُس سب کا جس کی کہ وہ علمبردار ہے، احترام کرتا ہوں۔ اُن کا اپنا عقیدہ ہے، اپنا فلسفہ ہے، اپنا عظیم کلچر ہے۔ ایسا ہی مسلمانوں کا بھی ہے، لیکن دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔۔۔ میں پاکستان کے لیے لڑ رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے۔ اور دوسرا (حل،یعنی ) متحدہ ہندوستان کا آئیڈیل اور پارلیمانی طرز حکومت پر استوار حکمرانی ایک لاحاصل خواب اور ناممکن بات ہے ‘‘ ۔

2 نومبر 1941ء کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی یونین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بعض ہندو لیڈروں کے اس پروپیگنڈے پر سخت تنقید کی جو مجوزہ پاکستان میں اقلیتوں کے، امور مملکت سے باہر رہ جانے کا پروپیگنڈا کررہے تھے۔ قائداعظم نے ایسے ہی ایک کانگریسی لیڈر مسٹر منشی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے بارے میں اُفتراپردازی کررہے ہیں کہ ’’پاکستان میں ریاست ایک ایسی سول حکومت کی حامل نہیں ہوگی جو تما م کمیونٹیز کی نمائندہ مقننہ کے سامنے جوابدہ ہو بلکہ یہ ایک مذہبی ریاست ہوگی جو اپنے مذہب کی تعلیمات پر چلے گی۔

وہ لوگ جو اس مذہب کے پیروکار نہیں ہوں گے وہ حکومت میں حصے کے حقدار نہیں ہوسکیں گے ‘‘۔ قائداعظم نے کہا کہ ’’ کیا یہ ہندوئوں اور سکھوں کو بہکانے کی کوشش نہیں ہے ۔ وہ (ہندو اور سکھ) ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں اور وہ ریاست کے شہری بن کر رہیں گے ‘‘۔ پاکستان بننے پر تو قائداعظم نے اور بھی زیادہ واضح طور پر مذہبی منافرتوں کو ختم کرنے کی با ت کی۔

1947ء میں 11اگست کی تقریر میں انہوں نے یہاں تک کہا ’’ ہمیں اس جذبے کے ساتھ کام شروع کرنا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اکثریت اور اقلیت ،ہندو فرقے اور مسلمان فرقے کے یہ چند در چند زاویے معدوم ہوجائیں گے۔اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں کو جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں ،آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں‘‘۔

اگر قائداعظم کے ان مذہبی رواداری پر مشتمل خیالات کو دیکھیں اور پھر خود سے پوچھیں کہ کیا پچھلے 73برسوں میں ہم رواداری پر مشتمل معاشرہ قائم کرپائے یا نہیں تو یقیناً ہمیں جواب تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ان طویل برسوں میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اور رویے تو رہے ایک طرف ،خود مسلمانوں کے اندرونی تعلقات بھی کوئی بہت زیادہ مثالی نظر نہیں آتے ۔

قائداعظم کی سیاست کے بامعنی اور فکر انگیز پہلو ،ان کی اعتدال پسند سوچ اور روشن خیال افکار ماضی میں جس قدر ہمارے لیے قابل غور ہوسکتے تھے آج بھی وہ اتنے ہی غور و فکر کے قابل ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان سے استفادہ کرنا بھی چاہتے ہیں کہ نہیں۔