کامیاب و ناکام لوگوں میں فرق

June 24, 2024

پاکستانیوں نے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں دنیا بھر کے شہریوں کو مات دے دی۔85فی صد پاکستانی حالات و واقعات سے بے خبر، معاشی تنگ دستی کے باوجود پُرسکون نیند سوتے ہیں جبکہ 15 فی صد ایسے ہیں جنہیں یہ سکون میسر نہیں، اس کی وجوہات میں بڑھاپا، بیماری، ذہنی تناؤ، گھریلو حالات، بگڑتی معاشی صورت حال یاکچھ بھی کہا جاسکتاہے کہ وہ گہری نیند نہیں سوسکتے۔ یہ بات ایک عالمی سروے سے آشکار ہوئی ہے ۔ سروے سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ نیند میں کمی کے شکار 15 فی صد پاکستانیوں نے 85 فی صد کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ سروے کے مطابق عالمی سطح پر 68 فی صد افراد کو ہی اچھی نیند نصیب ہوتی ہے جبکہ 31 فی صد خراب نیند کے باعث دن میں بھی خواب دیکھتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صحت مند انسان کے لئے کم از کم چھ گھنٹے کی بھرپور نیند کافی ہے جس سے آپ کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں ہر دن تروتازہ رہتی ہیں۔ غالباً ہم نے ماہرین صحت کے مشورے پر کچھ زیادہ ہی عمل کرنا شروع کر دیا ہے کہ ہم رات دیر تک جاگنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ صبح سویرے کی بجائے دوپہر 12 بجے تک نیند کے مزے لیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کاروبار زندگی ہی دوپہر کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ تھوک و پرچون کا کاروبار کرنے والے رات گئے تک اپنا مال فروخت کرتے ہیں، گاہک اور دکان دار کا یہ طریقہ کار دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں رائج نہیں۔ ہم انوکھے لوگ اپنی آسانی کی خاطر ملک کو توانائی و معاشی بحران میں کس طرح اُلجھا رہے ہیں کوئی سوچنے کو تیار نہیں کہ اگر کاروبار کا دورانیہ صبح نو سے رات آٹھ بجے کر دیا جائے، رات کے اوقات میں اضافی بجلی و گیس صنعتوں کو فراہم ہونے لگے تو ہماری روز مرہ زندگی کیساتھ ساتھ مثبت معاشی تبدیلیوں کی توقع بھی رکھی جاسکتی ہے مگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ کون سمجھائے کہ نماز فجر کے بعد کاروبار شروع کرنے سے اللّٰہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ مغرب کے بعد کاروبار بند کرنے سے آپ کے گھریلو تعلقات میں خوش گواری کا احساس بڑھتا ہے۔ ہمارے باپ دادا کی روایات میں یہ بات شامل تھی کہ نماز مغرب کے بعد گھر آنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ بازپرس، سرزنش تک کی جاتی تھی۔اب زمانہ بدل گیا، ماں باپ کو بچوں کے آنے جانے کی فکر ہے نہ کوئی رکاوٹ۔ بچوں کی رات گئے تک سرگرمیاں کسی کی نظر میں نہیں آتیں، موبائل فون، انٹرنیٹ نے خون کے رشتے کمزور کر دیئے ہیں۔ دنیا کے کامیاب اور ناکام لوگوں میں بڑا فرق یہ ہے کہ کامیاب لوگ اپنے اوپر نیند حرام کرلیتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ اگر ایک لمحہ بھی ضائع ہوگیا تو وہ دوسرے کامیاب لوگوں سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ جو لوگ اپنے وقت کی قربانی دیتے ہیں، زندگی میں ڈسپلن رکھتے ہیں۔ احساس کمتری سے باہر نکل کر برینڈڈ چیزوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے سادگی اپناتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں وہ ناکام لوگوں کی فہرست سے نکل کر کامیاب شخصیات کے طور پر دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ دنیا ناکام لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ اکثر ایسے ہیں جو آگے بڑھنے کے لئے رسک لینے کو تیار نہیں ہوتے۔ ہم انہیں مڈل کلاسیئے، تنخواہ دار، سفید پوش کہتے ہیں۔ میٹھی نیند، خواب خرگوش کے مزے لوٹنے والے 85 فی صد پاکستانیوں کا وسیع تر سروے کیا جائے تو اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہوگی جو آسمان سے من وسلویٰ اترنے کے منتظر گھروں میں بیٹھے والدین، عزیز اقارب سے یہ توقع لگائے ہوں گے کہ وہ ساری زندگی ان کی مالی مدد کرتے رہیں گے اور وہ میٹھی نیند سے اپنی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو پیٹ میں دفن کرکے دنیا سے گزر جائینگے۔ بڑی بڑی کاروباری و صنعتی شخصیات کے حالاتِ زندگی پر غور کریں تو سب کی کہانی ایک جیسی ہے۔ انہوں نے اپنی سوچ کو ناکام لوگوں سے دور رکھا۔ چند رہنما اُصولوں پر عمل کیا۔ ان کا ٹارگٹ ایک ہی تھا محدود مالی وسائل کو منظم اندازمیں استعمال کرکے کاروبار کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جاؤ۔ منتشر سوچ اورنت نئے ہوائی خواب دیکھ کر بھٹکنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔