آبادی ۔ہم سچائی کو دیکھ نہیں پارہے؟

August 08, 2018
 

انسانی نسل اس وقت زبردست تباہ کن دھماکےکے درمیان ہے۔ یہ انسانی آبادی میں بے پناہ اضافہ کا دھماکہ ہے، یہ دھماکہ بڑی مصیبتوں کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی نے زمین کے ہر خطے میںقدرتی وسائل پر بوجھ میںاضافہ کردیا ہے۔ اس وقت آبادی میں اضافہ کی شرح3 لاکھ سے 3½ لاکھ افراد روزانہ ہے، اس طرح سالانہ دنیا کی آبادی میں 7 کروڑ کا اضافہ ہورہا ہے۔ اس پر تمام لوگوںکو غذا، پانی، کپڑا اور مکان کی ضرورت ہوگی۔ مشکل یہ ہے کہ آبادی میں اس اضافہ کا بہت بڑا حصہ ان علاقوںسے متعلق ہے جہاںپہلے ہی وسائل کی فراہمی نازک حالات سے دوچار ہے۔آبادی میں زبردست اضافے نے دنیا کے مختلف علاقوں میں انسان کو بھوک، بیماری، آلودگی اور قحط جیسی مصیبتوں میںمبتلا کردیا ہے۔ اس اضافے پر روک ٹوک نہیں لگائی گئی تو اندیشہ ہے کہ صورتحال تباہ کن ہوجائے گی۔


انسانی زندگی، تہذیب کے ارتقا کے اولین دور میں دس بارہ ہزار پہلے 50 لاکھ سے زیادہ نہ تھی لیکن جیسے جیسے زرعی سرگرمیوںمیںاضافہ ہوا اور انسان بستیوں میں بسنے لگے، خیال ہے کہ 14 ویںصدی عیسوی تک دنیا میںلگ بھگ ایک ارب لوگ ہی آباد تھے، بیماریوں کی بہتات اور دوائوں اور غذائی وسائل کی محدود فراہمی نے دنیا میںآبادی کو کنٹرول رکھا چنانچہ ماہرین نے یہ بات تسلیم کی کہ 500 برسوں تک آبادی میںکوئی خاطر خواہ اضافہ نہیںہوا لیکن جیسےہی صنعتی انقلاب نے دنیا میں اپنی گرفت مضبوط کی سائنس اور خاص طور پر طبی سائنس کی ترقی نے صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ چنانچہ 1850 میں دنیا کی آبادی ایک ارب 5 کروڑ تک جاپہنچی۔ مگر محضایک سو سال کے اندر اندر یعنی 1987 تک دنیا میں 5 ارب لوگ بس رہے تھے اور اب اکیسویںصدی تک پہنچتے پہنچتے دنیا کی آبادی ساڑھے 7ارب ہوگئی ہے۔لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صنعتی انقلاب کی جائے پیدائش یورپ میںیورپی یونین کی آبادی میں 2050 تک ڈرامائی کمی واقع ہوجائے گی اور ایسا لاکھوں تارکین وطن کی آمد کےباوجود ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق یورپ میں اموات بدستور پیدائش سے زیادہ ہوںگی اور یہ سلسلہ پوری یورپین یونین میں جاری رہے گا۔یورپین یونین میں ایک حالیہ سروے کے مطابق 2019 تک اٹلی کی آبادی کم ہونا شروع ہوجائے گی۔اس کے ایک سال بعد یعنی 2020 میں جرمنی، سلواکیہ اور 2020 میں پرتگال کی آبادی کم ہونا شروع ہوجائے گی جبکہ برطانیہ کی آبادی قدرے بڑھتی رہے گی لیکن 2040 میں برطانیہ بھی اس کی زد میںآجائے گا۔ 2050 تک یورپین یونین کے ممالک کی آبادی 450 ملین ہوگی جو 20 ملین کم ہوگی۔ یہ سروے یورپ میں پنشن کا بحران پیش آنے پر حفظ ماتقدم کے طور پر کیا گیا ہے کیونکہ اکثر حکومتیںریٹائرمنٹ کے بینیفٹ کی رقم ملازمت کرنے والوںکے ادا کردہ ٹیکسوںسے دیتی ہیں۔ ادھر یورپ سے دور جاپان کی آبادی میں نوجوانوںکی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے۔ جاپان کی آبادی کا پانچواں حصہ معمر افراد کی آبادی پر مشتمل ہے، جاپان کی حالیہ مردم شماری کی ایک رپورٹکے مطابق جاپان کی آبادی کا پانچواںحصہ 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے جبکہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد میں2004 کے بعد تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے جس کی وجہ جاپان میںخاندانی منصوبہ بندی یعنی شرحپیدائش میںخطرناک حد تک کمی ہے۔ جاپانی حکومت کے مطابق ملک میںبوڑھے افراد کی آبادی میں اضافے اور نوجوانوں کی کمی سے ملکی اقتصادیات اور ترقی کو بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ جاپان میںگزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 12 کروڑ 70 لاکھ کی آبادی میں 21 فیصد آبادی 65 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد پر مشتمل تھی۔


یورپی یونین کے ہمسائے روس میں بھی اس سے ملتی جلتی صورتحال ہے لیکن روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اس کیلئے ایک دلچسپ حل ڈھونڈا ہے، انہوں نے حال ہی میں اپنے سالانہ خطاب سے قوم کو اس گھمبیر صورتحال کا حل تجویز کیا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ اس وقت روسی قوم کا سب سے بڑا مسئلہ کم ہوتی ہوئی آبادی ہے، شرح پیدائش میںکمی اور شرح اموات میں اضافے کے باعث فردم نگاری (ڈیموگرافی) کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے۔ انہوںنے ایک قومی اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عورتوںکو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جائےگی اور حکومت انہیں بہت سی سہولتیں اور مراعات دے گی۔انہوںنے کہاکہ روس کی آبادی میںسالانہ سات لاکھ افراد کی کمی ہورہی ہے جس کی وجوہات گرتی ہوئی شرحپیدائش، شرح اموات میں اضافہ اور ملک سے ہجرت کرجانا شامل ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک دس سالہ پلان کے خدوخال کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ بچوں اور نوجوان عورتوں کی فلاحو بہبود کے اقدامات ہیں۔ اس ضمن میں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور دوسری مراعات دی جائیںگی۔ یاد رہے کہ یہی طریقہ کار سوویت یونین میں بھی اپنایا گیا تھا۔


ایک بیوی ہے چار بچے ہیں


عشق جھوٹا ہے لوگ سچے ہیں


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں