ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے ایران امریکا اور اسرائیل سے جنگ ختم کرنے کو تیار ہے، لیکن ایران چاہتا ہے کہ یہ گارنٹی دی جائے کہ تنازعہ دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا.
خلیجی نیوز چینل کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بات یورپی کونسل کے صدر انتونیو گوتریس سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کی۔
دوسری جانب ایران پر امریکا اسرائیل کے حملے آج بھی جاری رہے، امریکا نے 2000 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے ایرانی شہر اصفہان میں اسلحہ کے گودام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے حملے کے بعد کی ویڈیو شیئر کر دی، ایرانی حکام نے اصفہان میں فوجی مقامات پر حملے کی تصدیق کی، ایرانی شہر محلات میں تین رہائشی عمارتوں پر میزائل حملوں میں 11 افراد شہید اور کرمانشاہ صوبے میں ایک شہری شہید ہوا۔
شہر زنجان میں مذہبی مرکز کو نقصان پہنچا، قریب کی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جواب میں ایران نے اسرائیل پر حملوں کی 88 ویں لہر داغی، تل ابیب، بنی براک سمیت مختلف علاقوں میں میزائل گرے،11 اسرائیلی زخمی ہوگئے۔
حملے میں عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کے 5 فوجی اڈوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اسرائیلی کنٹینر شپ کو میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
اصفہان کے قریب 3 کروڑ ڈالر مالیت کا ایم کیو نائن ریپر ڈرون مار گرانے کے دعوے سمیت تک 146 امریکی ڈرون مار گرائے ہیں
خلیجی ممالک پر بھی ڈرون اور میزائل حملے جاری رہے، دبئی کی سب سے بڑی پورٹ جبل علی اور دبئی میڈیا سٹی میں دھماکوں کی شدید آوازیں سنائی دیں۔
دبئی پورٹ پر کویت کے بڑے آئل ٹینکر پر ڈرون حملے سے آگ لگ گئی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، آگ پر قابو پا لیا گیا، دبئی کے علاقے البدعہ میں میزائل کا ملبہ گرنے سے خالی مکان میں آگ لگ گئی، قریب موجود 4 افراد معمولی زخمی ہوئے، اماراتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائل اور ڈرون مار گرائے، سعودی وزارت دفاع نے ریاض کی طرف آنے والے تین بیلسٹک میزائل اور 10 ڈرون فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی علاقے الخرج میں گرائے گئے ڈرون کے ملبے سے دو افراد زخمی ہوگئے، تین گھروں اور کئی گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا، ادھر لبنان میں حزب اللّٰہ سے جھڑپوں میں ایک افسر سمیت چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے، دو مارچ سے اب تک اسرائیل کے دس فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔