Advertisement

’کراچی حلیم‘ پاکستان میں کامیاب انٹر پرینیور شپ کی ایک عظیم مثال

March 11, 2019
 

جنگ:’کراچی حلیم‘ ، آپ نے یہ نام کیا سوچ کر رکھا اور اس کے پیچھے کیا فلاسفی تھی؟

سید محمود علی:ہمارے یہاں لوگوں نے بھارتی شہروں کے نام پر اپنے حلیم کے نام رکھے ہوئے ہیں جبکہ بھارت کے مقابلے میں ہمارے پاس زیادہ اچھا حلیم بنتا ہے۔ پھر آپ کو پاکستان میں جو فطری خوبصورتی نظر آتی ہے، وہ بھارت میں نہیں ملے گی۔ ایسے میں، ہم نے جب یہ کاروبار شروع کرنے کا سوچا تو فیصلہ کیا کہ ایسا نام رکھنا چاہیے، جس میں پاکستانیت اور اپنائیت کا احساس ہو۔ اس وقت کئی نام ذہن میں آئے، جن میں سے کچھ ناموں پر غور کرنے کے بعدہم نے ’کراچی حلیم‘ کے نام پر اتفاق کیا۔ کراچی حلیم نام رکھنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ میری پیدائش اسی شہر میںہوئی ہے۔

جنگ:آپ کی پیشہ ورانہ زندگی کو 2ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک کراچی حلیم سے پہلے اور ایک کراچی حلیم کے بعد۔ کچھ اس سفر پر روشنی ڈالیں؟

سید محمود علی:اس کاروبار کی طرف آنے سے پہلے میں آرٹسٹ تھا۔ سنیماؤں پر لگائے جانے والے پاکستانی فلموںکے پوسٹربناتاتھا۔ اس زمانے میں بڑے بڑے فلمی پوسٹر اور ہورڈنگز ’واٹر کلر‘ کے ذریعے ہاتھ سے بنائے جاتے تھے۔ میں کراچی کے اوڈین، فلمستان، شبنم اور ارشی سمیت دیگر سنیماؤں میں فلمی پوسٹر بنایا کرتا تھا۔ میں نےیہ کام دس سال یعنی 1967ء سے لے کر1977ء تک کیا۔ میں اس کام کے ذریعے اچھے خاصے پیسے بنالیتا تھا۔ میں زبردست کام کرتا تھا، جس کی وجہ سے مجھے کافی سنیماؤں میں کام ملتا تھا، میں سمجھتا تھا کہ مجھے سے بڑا آرٹسٹ کوئی نہیںہے۔ اس سے پہلے میں اخبارات بیچا کرتا تھا۔ 1965ء کی جنگ کے زمانے میں، میں نے جنگ اخبار 15پیسے کا فروخت کیا ہے۔ 11 سال کی عمر میں، میں ریگل سے اخبارات اُٹھاتا تھا اور لیاقت آباد تک پیدل چلتے چلتے اخبار بیچا کرتا تھا۔

1977ء میں، کراچی شہر میں فرقہ ورانہ فسادات نے سر اُٹھایا تو میں نے کراچی چھوڑ کر ’کینپ‘ میں ملازمت اختیار کرلی۔ 1984ء میں، میں نے کھانے کا کاروبار فٹ پاتھ سے شروع کیا۔ اس وقت حلیم کی پلیٹ 2روپے جبکہ فی کلو 16روپے میں فروخت ہوتا تھا۔

میں نے دیکھا ہے کہ ترقی کا راز صرف اور صرف ’ایمانداری‘ میں پنہاں ہے۔ اگر آپ ایماندار ہیں تو بلندیوں پر جا سکتے ہیں۔ مسالوں سے لے کر گوشت اور پکانے والے تیل تک ہم نے ہر چیز 100فی صد خالص استعمال کی۔ میں نے شروع دن سے کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس سے کسی کو نقصان پہنچے یا اپنا دل مطمئن نہ ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کبھی اپنی نظر میںنہ گرے۔

جنگ:آپ کی شادی کب ہوئی اور کچھ اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں؟

سید محمود علی:میری شادی1980ء میں ہوئی اور اس وقت میں کینپ میں ملازمت کرتا تھا۔ میں خود تو اتنا پڑھا لکھا نہیں ہوں لیکن کینپ جانے کے بعد مجھے تعلیم کی اہمیت کا احساس ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ میںنے اپنے بچوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی ۔ میرے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ پہلی بیٹی نے اسلامیات میں ماسٹرز کیا ہے، ایک بیٹی ڈاکٹر ہے، ایک نے ایم بی اے کیا ہے جبکہ ایک بیٹی آرکیٹیکٹ ہے اور جامعہ کراچی میں پڑھاتی ہے۔ ماشاء اللہ، چاروں کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں۔ میرے دو بیٹے لندن سے بی بی اے اور ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرکے آئےہیں، بڑے بیٹے نے بھی ماسٹرز کیا ہے جبکہ سب سے چھوٹا بیٹا ابھی زیرِ تعلیم ہے۔

جنگ:کراچی حلیم کا اپنا ذائقہ او ر معیار ہے، جو 1985ء سے اب تک اسی طرح قائم ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوسکا؟

سید محمود علی:کراچی حلیم کی ریسیپی میری والدہ محترمہ کی ہے اور شروع میں میری زوجہ محترمہ مجھے حلیم بناکر دیتی تھیں، جو میں ٹھیلے پر بیچتا تھا۔ ہمارا 80گز کا ویسٹ اوپن مکان تھا۔ مکان کی گیلری مغرب کی سمت تھی، ہم نے حلیم کا کچن وہیں بنایا۔ جب ہم حلیم بناتے تھے تو پورا گھر شدید گرم ہوجاتا تھا۔ میں کینپ سے شام کو آتا تھا تو ڈیڑھ سو کلو حلیم تیار ہوتا تھا، جسے میں شام سے رات تک بیچتا تھا۔ شروع میں مجھے اس کام میںناکامی بھی ہوئی مگر پھر اللہ تعالیٰ نے ہاتھ پکڑا اور میرا کاروبار ترقی کرتا چلا گیا۔ اس کے بعد1989ء میں جب حسین آباد کے علاقے میں کراچی حلیم کا افتتاح کیا تو جیسے میری قسمت کواسی چیز کا انتظار تھا۔ حسین آباد میں، میراکاروبار دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا۔1991ء میں برنس روڈ پر کراچی حلیم کی برانچ کھولی اور پھر 1997ء میں لسبیلہ البیلا چوک پر۔ جب بچے اعلیٰتعلیم حاصل کرکے بڑے ہوئے تو ان کے معیار، حلقہ احباب اور ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے 2006ء میں، میں نے شارع فیصل، نرسری پر کراچی فوڈز کا افتتاح کیا، جہاںہم سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ اور انتہائی صاف ستھرا فیملی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس برانچ کو بنانے میں ہمیں پانچ سال لگے۔ اس وقت مجموعی طور پر کراچی میں ہماری پانچ کراچی حلیم کی شاخیں موجود ہیں جبکہ ایک برانچ کراچی فوڈز کی ہے۔ تمام جگہوں پر کراچی حلیم کا ذائقہ یکساں ہوتا ہے۔

جنگ:کیا آنے والے دنوںمیں کراچی حلیم کی مزید شاخیں بھی کھولی جائیںگی؟

سید محمود علی:میںآپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہم نے بخاری کمرشل ایریا، ڈی ایچ اے فیز 6میں بھی کراچی حلیم کی برانچ کھولی ہے۔ وہاں ہماری موجودہ برانچ اندر کی طرف ہے جبکہ مرکزی روڈ پر ہم ایک بڑے سیٹ اَپ کی تیاری کررہے ہیں، جو گراؤنڈ کے ساتھ چار منزلہ ہوگا۔ وہاں چار سو افراد کے بیک وقت بیٹھ کر کھانا کھانے کی گنجائش ہوگی۔ توقع ہے کہ یہ سیٹ اَپ عید تک لانچ کردیا جائے گا۔

جنگ:مزیدار کھانوں جیسے کہ حلیم کی بات کریں تو اس میں ریسیپی کی کتنی اہمیت ہے ؟

سید محمود علی:میرا تجربہ تو یہ کہتا ہے کہ ریسیپی کچھ نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر، چائے ہے۔ ہر جگہ چائے کے لیے پانی، دودھ، پتی اور چینی کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کے پکانے کا طریقہ اسے ذائقے دار یا بے ذائقہ بناتا ہے۔ کھانوں کو ذائقہ دار بنانے کے لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ان میں مسالا کم ڈالیں، ذائقہ خود بخود آجائے گا۔

جنگ:کراچی حلیم کے بعد آپ نے کراچی فوڈز کا آغاز کیا۔ دونوں برانڈز کے تحت آپ پاکستانی اور مشرقی کھانے ہی بناتے ہیں۔ دیگر کھانوں کی طرف جانے کا کبھی سوچا؟

سید محمود علی:مجھے اس کی کبھی ضرورت محسوس نہیںہوئی۔ مثال کے طور پر، آپ یہاں کراچی فوڈز آئیں اور مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں 120روپے میں بہترین لنچ کریں۔ 100روپے میں حلیم کی پلیٹ اور 20روپے کی روٹیاں لیں، ساتھ میںمسالے کی بڑی پلیٹ مفت پیش کی جاتی ہے۔ یہ چیز آپ کو کسی اور جگہ نظر نہیں آئے گی۔

یہاں میںایک اور قابلِ ذکر بات بتانا چاہوں گا کہ ہم اپنے صارفین سے جی ایس ٹی نہیںلیتے بلکہ اپنے منافع سے یہ حکومتِ پاکستان کو باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔

جنگ:کیا آپ کراچی حلیم کو ’لاہور حلیم‘ بنانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں؟

سید محمود علی:جی بالکل، لاہور جانے کاارادہ ضرور ہے۔ ہمارا لاہور میں ایم ایم عالم روڈ پر کراچی حلیم کھولنے کا ارادہ ہے۔

جنگ:اپنے کھانوں کو لذید اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیارکرنے کے لیے آپ کھانوں میں استعمال ہونے والی اشیا کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟

سید محمود علی:پہلی بات یہ کہ جس وقت ہم نے فٹ پاتھ سے شروع کیا تھا، اس وقت سے ہماری پالیسی یہی ہے کہ ہم ہر چیز نقدپر خریدیں کیونکہ ایسا کرنے سے آپ کو معیاری چیز ملتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آپ اتنی چیز خریدیںجتنی آپ کی ضرورت ہو، زیادہ نہ خریدیں۔ گرم مسالےپسوانے کے لیے ہم نے گھر پر چکی لگائی ہوئی ہے۔ آج کل شدید بے ایمانی کا زمانہ ہے، مثلاً آپ اچھی الائچی دیں وہ آپ کو غیرمعیاری الائچی پیس کردے دیگا۔ مرچیں، ہلدی اور نمک ہم کمرشل چکی سے پسواتے ہیں اور وہاں بھی ہمارا بندہ موجود رہتا ہے۔ زیادہ اہمیت گرم مسالوں کی ہوتی ہے اور وہ کام ہم خود کرتے ہیں۔ جانوراور بکرے میرے بڑے بھائی پنجاب سے لے کر آتے ہیں اور ایوب گوٹھ نارتھ کراچی میں ہمارا اپنا باڑا ہے۔ مرغی ہم ایک ہی سپلائر سے لیتے ہیں اور مرغیاں ذبح کراتے وقت ہمارا ایک بندہ وہاں بھی موجود رہتا ہے تاکہ ہمیں یقین رہے کہ صحت مند مرغیوں کوباقاعدہ اسلامی اصولوں کے مطابق ذبح کیا گیا ہے۔ ہمیں 100فی صد یقین اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم وہ کام خود کررہے ہوں یا اپنی نگرانی میں کروارہے ہوں۔ ہم سب سے اعلیٰ معیار کا چاول استعمال کرتے ہیں۔ہم معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔

جنگ:آپ کے کاروبار کے ساتھ کتنے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے؟

سید محمود علی:ابتدا میںہم تین بھائیوںنے یہ کام شروع کیا تھا اور مدد کے لیے دو لڑکے رکھے تھے، جو ٹھیلہ لے کر جاتے اور پلیٹیں دھوتے تھے۔ آج ماشاء اللہ، ہمارے ساتھ 250سے 300افراد منسلک ہیں اور پہلے جو پلیٹیں دھوتے تھے وہ آج منیجرز ہیں۔

جنگ:ٹن پیک کے ذریعے کیا آپ اپنے کھانے ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں؟

سید محمود علی:ہمارے ٹن پیک کھانے پوری دنیا میں جاتے ہیں۔ ہم کھانے خود ہی ٹن میںپیک کرتے ہیں، جس کے لیے ہمارا اپنا پلانٹ ہے۔ ٹن پیک کے ڈبے پاکستان میں نہیں بنتے، ہم باہر سے منگواتے ہیں۔ گرم گرم کھانے کو ٹن میں ایئر ٹائٹ پیک کرکے اسے خاص درجہ حرارت دیا جاتا ہے۔ ٹن پیک کھانا ایک سال تک محفوظرہتا ہے جبکہ ہم احتیاطاً چھ ماہ کی ایکسپائری دیتے ہیں۔ ٹن پیک میں ہمیں بہت پوٹینشل نظر آتا ہے، اس وقت بھی ہم ٹن پیک کی طلب پوری نہیںکرپارہے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں