Advertisement

نومولود کی صحت کی دیکھ بھال

May 30, 2019
 

آپ کے گھر میں آنے والا ننھا مہمان آپ کے اور خاندان بھر کیلئے ڈھیروں خوشیاں لاتاہے، سب لوگ اس کی دیکھ بھال اور پیار محبت کیلئے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ چھوٹے بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بہت بڑی ہوتی ہے۔ نوزائیدہ بچے چونکہ بہت نازک اور حساس ہوتے ہیں ،اس لیے انہیںلٹانے، گود میں لینے، دودھ پلانے، نہلانے اور کپڑے بدلنے تک انتہائی احتیاط کا مظاہر ہ کرنا پڑتاہے۔

دیکھ بھال کیلئے تجاویز

ننھے مہمان کی دیکھ بھال میں سب سے زیادہ زور حفظان صحت پر دینا چاہئے۔ بچے کے ارد گرد کی جگہ اور چیزیں صاف ستھری اور گندگی سے پاک ہونی چاہئیں جبکہ مائوں کو خود بھی ہر وقت صاف ستھرا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔بچے کی مناسب دیکھ بھال اس بات کا تقاضاکر تی ہے کہ اس کے کپڑے نرم و ملائم ہوں، ایسے نہ ہوں جس میں روئی یا دھاگے نکل رہے ہوں اور نہ ہی کپڑوں کوتیز خوشبو والے ڈٹرجنٹ سے دھویا جائے، ورنہ یہ سب چیزیں بچے کی حساس جِلد پر الرجی کا باعث بن سکتی ہیں۔

■ نومولود بچوں کی جِلد پر کسی بھی قسم کا پائوڈ ر استعمال نہ کریں بلکہ اس کے بجائے آپ اعلیٰ معیار کے بے بی آئل سے بچے کی جِلد پر نرمی کے ساتھ مساج کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ پائوڈر کے ذرات اگر ناک، آنکھ یا منہ میں چلے جائیں توبچے کیلئے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

■ بچوں کو نہلاتے وقت بھی انتہائی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے اعضاکو سختی سے نہ پکڑیں، نہ ہی اس کے ہاتھ پائوں کو ٹب سے ٹکرانے دیں کیونکہ ان کے اعضا نازک ہوتے ہیں اور اس طرح ان کونقصان پہنچنے کا احتمال ہو سکتاہے۔

جِلد کی دیکھ بھال

نوزائیدہ بچے کی جِلد نازک اورپتلی ہوتی ہے ، اسی لئے اس کو سارا سال خاص حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر براہ راست سورج کی الٹراوائلٹ شعاعیں پڑنے نہ دیں، خاص طور پر گرمیوں میں صبح 11بجے سے شام 4بجے کے درمیان خاص احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ گرمیوں میں اسے ہلکے کپڑے اور بڑی اور گہری ٹوپی پہنائے رکھیں۔ اگر بچے کو سن برن ہوجائے تو فوراََ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کمرےمیں ہوا کونم رکھنے کیلئے اگر ہیومڈیفائر استعمال کرسکیں تو مناسب ہوگا ، لیکن اس آلہ کو ہمیشہ صاف رکھیں ورنہ اس کی آلودگی ہوا میں شامل ہو کرسانس کی بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔

اس کے علاوہ موسم سرما میں بچے کی جِلد کو جس قدر ہوسکے گرم کپڑوںسے ڈھک کر رکھیں۔

ناخنوں کی دیکھ بھال

نوزائیدہ بچوں کے ناخن چھوٹے، نرم اورباریک ہوتے ہیں، اگر انھیں بروقت نہ تراشا جائے تو بچے کا اپنا ہاتھ لگنے سے اس کے چہرے پر خراش آسکتی ہے۔ بچوںکے ناخن انتہائی تیزی سےبڑھتے ہیں، اسی لیے ان کے ناخن بہت احتیاط کےساتھ ہر ہفتے یا دس دن میںکاٹتے رہیں اور اس طرح کاٹیں کہ ان کی انگلی کو نقصان نہ پہنچے۔

دانتوں کی حفاظت

نوزائیدہ بچوں کے دانت عموماً چھ ماہ میں نکلتے ہیں، لیکن ان کے دانتوں کی حفاظت کے اقدامات ابتدا سے ہی کرنے ہوتے ہیں۔ اس کیلئے آپ ایک صاف کاٹن کا کپڑا لیں، جسے صاف پانی سے تر کرکے بچے کے مسوڑوں پر آرام سے پھیریں ۔ دن میں ایک مرتبہ بچے کو آخری فیڈ دینے کے بعد یہ عمل کرنے کی کوشش کریں ۔

بعض بچے ایک یا دو دانتوں کے ساتھ پیدا ہوتےہیں ، اس صورت میں ایک نرم دندانوں والے برش سے بچے کے دانت انتہائی نرمی سے دن میں دو بار صاف کریں یعنی ایک بار پہلی فیڈ اور دوسری بار آخری فیڈ کے بعد۔ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال چھ ماہ سے کم عمر بچے کیلئے مناسب نہیں ہوتا کیونکہ یہ بچے میں فلورائیڈ کی زیادتی کا سبب بن سکتاہے۔ بچوں کو چپ کروانے کیلئے اکثر ان کے منہ میں چُسنی یا فیڈر دے دی جاتی ہے، اس عمل سے بچوں کے آنے والے دانتوںکو نقصان پہنچ سکتاہے ۔

نیند کا خیال

نومولود بچے شروع کے تین مہینوں میں روزانہ 15سے18گھنٹے سوتے ہیں لیکن دن ہو یارات،ان کی نیند کا دورانیہ تین سے چار گھنٹے سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ بچے کی ان علامات کو دیکھئے جس سے پتہ چلے کہ اسے نیند آرہی ہے۔ کیا وہ اپنی آنکھیں مسل رہا ہے، اپنے کان کھینچ رہا ہےیا اس کی آنکھوں کے گردحلقے پڑ رہے ہیں۔ اگر آ پ اس میں نیند کی ان میں سے کوئی یا پھر دوسری علامت دیکھیں تو اسے سُلانے کی کوشش کیجئے۔ ہر وقت اپنے بچے میں نیند کی علامات کو دیکھے رہیے۔ اپنے بچے کو کمر کے بل سُلائیے، سینے کے بل یا پہلو کے بل نہ لٹائیے۔

جب آپ کا بچہ 2ہفتوں کا ہوجائے تو آپ اسے دن اور رات کا فرق سمجھانے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ دن میں جب وہ جاگے اور بالکل ہوش میں آجائے تو اس کے ساتھ جتنا ہوسکے کھیلیں لیکن اس دوران کمر ہ جتنا روشن رکھ سکتی ہوں، اسے روشن رکھیں۔ رات میں جب آپ اسے دودھ پلانے لگیں تو اس سے مت کھیلیں یا باتیںکریں، اس طرح وہ جلد ہی سمجھ جائے گا کہ رات کا وقت سونے کیلئے ہوتا ہے۔

یہ دیکھتے رہیے کہ بچے نے جو چادر اوڑھی ہے، وہ اس کیلئے بہت زیادہ ٹھنڈی یا گرم نہ ہو۔ اگر بچے کو گرمی لگ رہی ہو تو اس کے اوپر سے چادر ہٹا دیں۔ اس کے پیروں یا ہاتھوں کے درجہ حرارت پر نہ جائیں کیونکہ عام طور پر وہ ٹھنڈے محسوس ہوتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں