Advertisement

جسٹس فائز جیسے ججز کی چھٹی کرادی گئی تو لائن لگ جائیگی،وکلا رہنما

June 12, 2019
 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وکلا رہنماؤں نے کہا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ جیسے ججز کی چھٹی کرادی گئی تو لائن لگ جائے گی انصاف کرنے والے ججوں کو عدلیہ سے صاف کرنے کا منصوبہ ہے،کوئٹہ بلاسٹ کیس کی رپورٹ کے بعد سے جسٹس عیسیٰ نشانے پر ہیں اور ان کا جاری کردہ فیض آباد دھرنے کا فیصلہ بھی اداروں کو پسند نہیں آیا،وکلا تنظیمیں اس ریفرنس کے خلاف مزاحمت کریں گی،وکلا کی ہڑتال روکنے کی کوشش کی گئی تو انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار سینئرنائب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن صلاح الدین گنڈا پور نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد سمیت دیگر وکلا رہنما بھی موجود تھے۔صلاح الدین گنڈا پور نے کہاکہ کسی کے ورغلانے پر کچھ وکلا ایکشن کمیٹی کے نام سے سامنے آئے ہیںجو وفاقی وزیر قانون اور بابر اعوان کے لوگ ہیں،ہم عدلیہ کی آزادی کیلئے بھرپور جدو جہد کریں گے۔جسٹس فائز عیسی کا معاملہ ایک جج یا فرد کا ایشو نہیں، وکلا کے اشتعال کی وجہ حکمرانوں کے مخصوص فیصلے ہیں ،ججز کے 205 ریفرنسز موجود ہیں جن میں سے متعددجج صاحبان اب بھی سروس میں ہیں،کسی جج سے کوئی شکایت ہو تو اس کے خلاف جلد بازی میں ریفرنس کی سماعت ہوجاتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کو ہڑتال کی کال دی ہےریفرنس کی واپسی کے بغیر ہڑتال اور احتجاج کا فیصلہ واپس نہیں لیا جاسکتاکیونکہ وکلا برادری قانونی طالب علم کی حیثیت سے سمجھتے ہیں کہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے نشان زدہ انتقامی ریفرنس قبول نہیںاس ریفرنس کو دفن کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ اور فیض آباد دھرنے سے متعلق فیصلوں میں سفارشات پر عمل کیا جائے ۔اس حکومت میں اتنا حوصلہ نہیں کہ قوم کو بتائے کس کے کہنے پر ریفرنس دائر کیا گیاسپریم جوڈیشل کونسل اپنے برادر جج کے ساتھ انصاف کرے ۔جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف منفی پروپیگنڈا کردار کشی ہے۔اس موقع پر سابق اٹارنی جنرل بیرسٹر خالد جاوید خان نے کہا کہ ہمارے لئے تمام ججز قابل احترام ہیں۔14 جون کو بھرپور احتجاج اور ہڑتال کریں گے۔وکلا رہنما ؤں نے کہاکہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ریفرنس فوری طور پر واپس لیا جائے۔بار کونسلز کے پاس ضابطوں کی خلاف ورزی پر وکلا کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار ہے ۔پاکستان بار کونسل کا کل بھی اجلاس ہے جس میں مزید فیصلے کئے جائیں گے ۔ پاکستان بار کونسل کو آج تک کسی بھی ریفرنس کی نقول فراہم نہیں کی گئیں پاکستان بھر کے وکلاء سپریم جوڈیشل کونسل کے ساتھ کھڑے ہیں یہ ریفرنس منتخب حکومت کے کہنے پر فائل نہیں کیا کسی اور کے کہنے پر فائل کیا گیا ہے ،ہمیں اس مجبوری کے بارے میں بتایا جائے۔


مکمل خبر پڑھیں