Advertisement

بوند بوند کو ترسے رے....

June 26, 2019
 

٭… واٹربورڈکے کنڈیوٹ کی اکثریت شہر کے مضافاتی علاقوں میں واقع ہے جس کی وجہ سے سائفننگ یا چوری آسان ہوتی ہے کیوں کہ وہاں زیادہ چہل پہل نہیں ہوتی۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی تحقیق کے مطابق پانی چوری کرنے والے 3، 6 اور 8 انچ قطر کی پائپ لائنز سے ناجائز کنکشن حاصل کرتے ہیں اور اس کام میں پولیس کے بعض اہل کار اور بعض سیاسی افراد ان کے معاون ہوتے ہیں

ورلڈ واٹر ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مطابق دنیا کی ایک تہائی آبادی میٹھے پانی کی قلت کا شکار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب سے زاید افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔ واضح رہے کہ ان تمام افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی ان دنوں پانی کی شدید قلت ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کو مہیا کیے جانے والے پانی کا چالیس فی صد چوری ہوجاتاہے(بعض ماہرین یہ مقدار اس سے بھی زیادہ بتاتے ہیں)جو بعد میں منہگے داموں واپس شہریوں کو فروخت کردیا جاتا ہے۔دوسری طرف کراچی میں قلت آب اور آلودگی نے پانی کی فراہمی کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔

طلب اور رسد کا فرق بڑھتا جارہا ہے

دو کروڑ سے زاید آبادی والے اس شہر میں پانی کی یومیہ ضرورت کا تخمینہ 918ملین گیلن ہے، لیکن فراہم 580ملین گیلن کے لگ بھگ کیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب یہ بتایا جاتا ہے کہ ترسیل کے بوسیدہ نظام کی وجہ سے فراہم کیے جانے والے پانی میں سےتقریبا 174ملین گیلن ضایع ہو جاتا ہے اوربہ مشکل 406ملین گیلن پانی ہی شہریوں کو میسر آتا ہےجو شہر کی ضرورت کا محض 44فی صد ہے۔یعنی طلب اور رسد میں چھپّن فی صد کا فرق ہے۔ یہ فرق کم کرنے کے لیے واٹر بورڈ نا غہ سسٹم کے تحت شہر میں پانی فراہم کرتاہے۔بتایا جاتا ہے کہ پہلے بیش تر علاقوں میں پانی ایک ہفتے میں فراہم کیا جاتا تھا، تاہم اب اس میں اضا فہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے۔اس برس کراچی میں رمضان المبارک کے دوران پانی کے بحران نے تیزی سے سر اٹھانا شروع کیا۔ شہر میں قلت آب کے مسئلے میں شدت آنے کے ضمن میں واٹر بورڈکے حکا م سے رابط کیا گیا تو انہوں نےپانی کی فراہمی متاثر ہو نے کی تما م تر ذمے داری کے الیکٹرک پر عاید کردی۔ واٹر بورڈ کے ترجمان کے مطابق مختلف پمپنگ اسٹیشنز پر بار بار بجلی کے تعطل کی وجہ سے شہر میں پانی کی فراہمی شدید طور پر متاثر ہے۔

تیرہ برس میں کچھ نہیں ہوا

اس صورت حال میں شہر کے باسی پانی حاصل کرنے کےلیے اپنا سکون، وقت اور پیسہ تینوں ہی صرف کرنے پر مجبور ہیں۔ اس مسئلے کا ایک اہم اور مجرمانہ پہلو یہ بھی ہے کہ کراچی میں اُنّیس برسوں میں آباد ی میں سالانہ اوسطاً 2.4فی صدکے حساب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، لیکن تیرہ برس سے شہر میں پانی کی فراہمی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے حکام برملا پانی کی قلت کا اعتراف کرتے ہیں۔ادارے کےمینیجنگ ڈائریکٹر، اسد اللہ خان کے مطابق 2006کے بعد سے شہر کے لیے پانی کی فراہمی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔تاہم این جی او ’’شہری‘‘ اور اورنگی پائلیٹ پروجیکٹ کی تحقیقی رپورٹس کے مطابق پانی کی کمی کے اعداد و شمار بڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں تاکہ شہر میں پانی کا کاروباری جاری رکھا جاسکے۔

بوسیدہ نظام اور واٹر بورڈ کا غلط موقف

کراچی کو فراہمیٔ آب کا بنیادی اور مرکزی ذریعہ دریائے سندھ ہے ۔ دریائے سندھ سے پانی ہالیجی کے پمپنگ اسٹیشن پر، پھر گھارو کے فلٹر پلانٹ پر اور و ہا ں سے دھابے جی کے پمپنگ اسٹیشن پر پہنچتا ہے۔ وہاں سے یہ کنڈیوٹ کے ذریعے پیپری کے پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ پر اور پھر کورنگی اور لانڈھی کے پمپنگ اسٹیشنز پر پہنچتا ہے۔ ہر پمپنگ اسٹیشن سے 66 انچ قطر کی لائن نکلتی ہے۔ ادارے کے کل چار فلٹر پلانٹس ہیں یعنی گھارو، پیپری، شمال مشرقی کراچی اور سی او ڈی کے فلٹر پلانٹس۔ حب ڈیم سے پانی کی فراہمی بارشوں سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر بارشیں کافی مقدار میں ہوں تو حب ڈیم سے عموماً 50 ایم جی ڈی پانی ملتا ہے جسے ادارہ 80تا 89ایم جی ڈی بتاتا ہے۔ آزاد ذرایع کے مطابق ادارے کا یہ موقف غلط ہے کہ وہ شہر کو 654ایم جی ڈی پانی فراہم کرتا ہے۔ درحقیقت یہ مقدار 540ایم جی ڈی ہے۔ ادارہ 40 تا 50گیلن یومیہ فی فرد کے معیار کے مطابق فراہمیٔ آب کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے کی بات کرتا ہے، لیکن درحقیقت شہر میں 15سے 20گیلن پانی یومیہ فی فرد کی ضرورت ہے۔

یہ دونوں ذرایع شہر سے کم و بیش 150کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ یاد رہے کہ ملک کا کوئی اور بڑا شہر پانی کے ذرایع سے اتنے فاصلےپرواقع نہیں ہے۔دریائے سندھ سے پانی دھابے جی کے مقام پر پہنچایا جاتا ہے جہاں سے وہ پمپنگ اسٹیشن کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچتا ہے۔ لیکن ساٹھ برس قبل قائم کیے گئے اس پمپنگ اسٹیشن کے کئی پمپ پرانے ہونے کی وجہ سے درست طور پر کام نہیں کرتے اور اکثر خراب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سےوقتا فوقتا پانی کی فراہمی متاثر ہوتی رہتی ہے۔

لوڈ شیڈنگ بھی اہم وجہ

کراچی میں جہاںپانی کےبحران کی دو بڑی وجوہ غیرقانونی ہائیڈرینٹس اورپانی کی چوری ہے وہیں ایک اور اہم وجہ و اٹربورڈ اورکے الیکٹرک کی ضدی انتظامیہ بھی ہیں جن کے واجبات کی عدم ادائیگی پر جھگڑوں کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کراچی کے مختلف پمپنگ اسٹیشنز پر گھنٹوں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بھی کراچی کے شہریوں کو لاکھوںملین گیلنزیومیہ پانی کی قلت کا سامناہے ۔بعض حلقوں کے مطابق کراچی میں پانی کے بحران کی اصل وجہ غیرمنصفانہ تقسیم ہے اور اِس بحران کی ذمے دارکے الیکٹرک اور کراچی واٹربورڈ کی انتظامیہ ہیں ۔ماضی میں اس وقت کےصوبائی وزیر بلدیات، شرجیل میمن بھی اس ضمن میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرچکے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ الیکٹرک کی جانب سے عدالت عالیہ کے واضح احکامات کے باوجود واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز پر گھنٹوں لوڈشیڈنگ کراچی کاامن تباہ کرنے کی سازش ہے ۔ اُنہوں نے اپنے بیان میںکے الیکٹرک کی انتظامیہ کو متنبہ کیا اور کہا تھاکہ وہ عدالت کے احکامات کےبر خلاف واٹربورڈ کے پمپنگ اسٹیشنزپر لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کرے۔بہ صورتِ دیگرکے الیکٹرک کے خلاف حکومت سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو گی۔

واٹر بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی کو ہر روز 918ملین گیلن پانی درکار ہوتا ہے۔جس میںسے 350ملین گیلن شارٹ فال کی مد میں گھٹ جاتا ہے۔ مرے پر سو دُرّے کے مصداق شہر کو پانی کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ حب ڈیم ہے، لیکن بارشیں نہ ہونے سے ڈیم سے پانی کی فراہمی میں بعض اوقات بہت زیادہ کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اس طرح یومیہ شارٹ فال چار سے پانچ سو ملین گیلن تک پہنچ جاتا ہے اور کئی کئی گھنٹے ہونے والی بجلی کی لوڈ شیڈنگ اس مسئلے کو سنگین تر کردیتی ہے۔ یاد رہے کہ چند برس قبل دھابے جی پمپنگ اسٹیشن پر اچانک ہونے والے بریک ڈاوٴن کے سبب 72ا نچ قطر کی پائپ لائن مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔بتایا گیا کہ اگر بلک سپلائی کے مرکز پر بجلی معطل ہوجائے تو پمپنگ کا عمل معمول پر آنے میں تقریباً چار گھنٹے لگتے ہیں۔ اگر بلک سپلائی کا نظام بہتر نہ بنایا گیا تو سارا نظام بری طرح متاثر ہوگا۔ بجلی کے تعطل سے مینجمنٹ ، شیڈول اور سپلائی کا عمل تباہ ہوجاتاہے۔ ٹائونز کی سطح پر پمپنگ اسٹیشنزپرجنریٹر نصب کیے گئے، لیکن بلک سپلائی پر توجہ نہیں دی گئی ۔

پیسہ پھینک،تماشا دیکھ

موجودہ صورت حال میں اس شہر میں جس کے پاس جتنا پیسہ اور اثرو رسوخ ہے اسے اتنا ہی صاف پانی دست یاب ہے۔ دوسری طرف بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو پانی کے حصول کے لیےگھنٹوں قطار میں لگ کر اپنی باری آنے کا انتظار کرتے ہیں تو کہیں گھروں کے باہر کئی گھنٹے پانی بہتا نظر آتا ہے ۔ کراچی کا تیس فی صد علاقہ، جو پائپ لائن کے آخری سرے پر ہے، پانی سے محروم ہے۔ یہ سب غریب آبادیاں ہیں اور ان کے حصے کا پانی چوری کرکے بیچا جاتا ہے۔

ملی بھگت

ماہرین کے مطابق واٹربورڈکے کنڈیوٹ کی اکثریت شہر کے مضافاتی علاقوں میں واقع ہے جس کی وجہ سے سائفننگ یا چوری آسان ہوتی ہے کیوں کہ وہاں زیادہ چہل پہل نہیں ہوتی۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی تحقیق کے مطابق پانی چوری کرنے والے 3، 6 اور 8 انچ قطر کی پائپ لائنز سے ناجائز کنکشن حاصل کرتے ہیں اور اس کام میں پولیس کے بعض اہل کار اور بعض سیاسی افراد ان کے معاون ہوتے ہیں۔ بعض مقامات پر رسائو پیدا کرکے یہ کام کیا جاتا ہے اور گڑھے میں جو پانی جمع ہوتا ہے اسے ٹینکر میں بھر کر فروخت کیا جاتا ہے یا ان گڑھوں کے قریب بورنگ کرکے غیر قانونی ہائیڈرینٹس بنا لیے جاتے ہیں۔ یہ ادارے کا میگا مینیجمنٹ فیلیور ہے۔ یہ کام منظم گروہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ اسے بورنگ کہتے ہیں، لیکن دراصل وہ ادارے کا پانی چوری کر رہے ہیں۔ ایسے ہائیڈرینٹس عموماً بڑی پائپ لائنز کے ساتھ واقع ہوتے ہیں۔

کروڑوں کادھندا اور غریب کی مشکل

اس مکروہ دھندے پر نظر رکھنے والوں کے مطابق شہر میں پانی بیچنے والی مافیا یومیہ کروڑوں روپے کماتی ہے اور اس کام میں بڑے بڑے نام ملوث ہیں۔ان کے بہ قول خود واٹر بورڈ کے لوگ بھی اس سلسلے کا حصہ ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پانی کی اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی چوری پکڑی نہیں جاتی۔پانی کی سرکاری پائپ لائنزسے گھروں اور کارخانوں کو غیر قانونی کنکشنز دیے گئے ہیں،یہاں تک کہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس پر غیر قانونی کنکشن سے چوری کا پانی بیچا جاتا ہے۔

دوسری طرف پانی کا بحران غریبوں کے لیے مزید مشکلات ساتھ لایا ہے ۔ شہر کا ہردوسرا ،تیسرا خاندان پانی کی کمی کو پورا کرنے کےلیے گھر میں بورنگ کروا رہا ہے ۔ پھر گلی محلوں میں ریورس اوسموسس پلانٹس لگ چکے ہیں جس کی وجہ سے پانی کی زیر زمین سطح نیچے ہوتی جارہی ہے۔ اس لیے اب بورنگ بھی مشکل اورمنہگی ہوگئی ہے۔

واٹر بورڈ کے مسائل

ادارہ فراہمی و نکاسیٔ آب دیگر مسائل کی طرح مالی مشکلات کا بھی شکار ہے۔بتایا گیا کہ کراچی کے ہر ٹائون کو ادارہ اپنی تنصیبات کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے سالانہ جورقم فراہم کرتا ہےوہ بہت کم ہوتی ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا اتنی قلیل رقم(تقریبا دس تا پندرہ لاکھ روپے) سے یہ کام ہوسکتاہے؟ دوسری طرف صارفین ادارے کو بہت کم ادائیگی کرتے ہیں۔ پھر یہ کہ ادارے میں نااہل افراد کی سفارش پر بھرتی اور ترقیوں نے اسے ناکارہ بنادیا ہے۔کیا اداروںکے نظام اسی طرح چلتے ہیں یا چلائے جاسکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب قلتِ آب کے شکار افرادکے مظاہروں اور احتجاج سے متعلق اخبارات میں شایع ہونے والی تصاویر اور خبروں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ واٹر بورڈ کی آمدن ہر ماہ40کروڑ روپے کے قریب بتائی جاتی ہے اور اس کے ملازمین کی صرف تنخوائیں 30کروڑ روپے بنتی ہیں ۔ باقی ماندہ رقم خرابیاں دور کرنے پر خرچ کردی جاتی ہے، جس کی وجہ سے کے الیکٹرک کو بلز کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا رہتاہے۔تاہم 2014میں پہلی مرتبہ صوبائی بجٹ میں چھ ارب روپے واٹر بورڈ کو بجلی کے بلز کی ادائیگی کے لیے سبسڈی دی گئی تھی۔

’’کے فور‘‘ایک خواب

شہر کے باسی طویل عرصے سے یہ سن رہے ہیں کہ کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کا منصوبہ ’’کے فور‘‘ زیر تکمیل ہے۔ اس منصوبے کے ذریعےشہر کو مجموعی طور پر 650 ملین گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلوں میں 260،اور تیسرے مرحلے میں130ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جائے گا۔ لیکن یہ منصوبہ کم از کم گیارہ برسوں سے تاخیر کا شکار چلا آ رہا ہے اور اس پر لاگت کا تخمینہ پندرہ ارب روپے سے بڑھ کر پچھتر ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کے ڈبلیو ایس بی کےایم ڈی کے مطابق اس وقت منصوبے کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرائی جارہی ہے اور یہ عمل ایک ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد منصوبے کے پہلے مرحلے پر دوبارہ کام شروع ہو جائے گا۔ لیکن کراچی کے شہریوں کو نئے منصوبے کے ذریعے اضافی پانی کی فراہمی مزید کئی برسوں تک صرف خواب ہی لگتی ہے۔

مسئلے کا فوری حل

واٹر بورڈ کے اندرونی ذرایع کہتے ہیں کہ اگر بلک سپلائی کوٹےکے مطابق ہو اور شیڈول کے مطابق ہر علاقے کو پانی فراہم کیا جائے تو قلتِ آب سے متعلق 80 فی صد مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ نظام کی خرابی اور سیاسی مسائل کا بوجھ ادارے کے عملے پرہے۔ ماہرین کے مطابق بلک سپلائی اسٹریٹجک اثاثہ ہے اس کی حفاظت یقینی بنانا حکومت کی سیاسی ذمّے داری ہے۔یہ گورننس کا مسئلہ بھی ہے۔ پہلے اس مسئلے کو سائنسی بنیاد پر قبول کیا جائے۔ ادارہ پانی کی ساٹھ فی صد چوری کو قبول کرچکا ہے اور اسے نان ریونیو واٹر کہتا ہے، لیکن اس میں غیر قانونی کنکشنز بھی شامل کرلیے جاتے ہیں۔ مسئلہ حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رسائو کو روکا جائے، چوری پر نظر رکھی جائے، سیاسی نمائندوں کو اس ضمن میں ذمّے داریاں دیں، پورا نظام شفاف بنائیں اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا انتظام کیا جائے۔ متبادل ذرایع تلاش کرنے کی بات توہو رہی ہے، لیکن پانی کے زیاں اور چوری پر قابو نہیں پایا جارہا۔بتایاجاتا ہے کہ واٹر بورڈ کی 14بڑی لائنوں میں96بڑے رساؤ سے روزانہ 10کروڑ گیلن پانی ضایع ہوجاتا ہے۔لیکن حقیقتا یہ پانی ضایع نہیں ہوتا بلکہ اسے بیچ کر کروڑوں روپےکمائے جاتے ہیں۔اسی لیے یہ رساو بند کرنے میں کسی کو کوئی دل چسپی نہیں۔

واقفان حال کے مطابق صنعتوں میں بھی پانی چوری ہو رہا ہے۔بہت سی صنعتیں ری سائیکل پانی سے چلائی جا سکتی ہیں۔اگر ایسا ہوجائے تو یومیہ 100ایم جی ڈی پانی کی بچت ہوسکتی ہے۔ڈملوٹی کے کنوئوں کی حالت بہتر بنائی جائے۔ سجاول اور دنبہ گوٹھ میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔وہاں ریزروائر بنا کر کافی پانی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔کے تھری کا منصوبہ تقریباً سات ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔ اگر پانی کے زیاں اور چوری پر قابو پانے کی کوشش کی جائے تو اس پر تقریباً تین ارب روپے خرچ ہوں گے اور 100 ایم جی ڈی پانی دست یاب ہوگا۔

آبی امور کے ماہرین کے مطابق کراچی میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی پانی کی فراہم کے منصوبے کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پانی کی فراہمی کے بوسیدہ نظام میں بہتری لانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ شہریوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ پانی کا استعمال اعتدال سے کیا جائے۔ ان تجاویزپر عمل کر کے ہی کراچی جیسے میگا سٹی میں پانی کی شدید قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ٹینکر مافیا کا راج

شہر کے اکثر علاقوں میں اگرچہ پائپ لائنز کے ذریعے تو پانی نہیں ملتا، مگر غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے ذریعے منہگے داموں پانی کی فراہمی ایک معمول ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار بھی کیے جاتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ کام چوری چھپے اور بالخصوص مضافاتی علاقوں میں مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں جاری ہے اور اس کے ذریعے خوب منافع کمایا جا رہا ہے۔

خود سندھ کے وزیر بلدیات ،سعید غنی یہ سمجھتے ہیں کہ شہر میں پانی کی کوئی قلت نہیں،بلکہ یہ مصنوعی بحران ہے۔عیدالفطر کے روز کراچی میں انہوں نے ذرایع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پانی کی قلت نہیں، یہ تو مصنوعی بحران ہے۔ان کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ کے ملازمین اور روایتی ٹھیکے دار بحران میں شامل رہے ہیں۔اس بحران میں ملوث افراد کو ضرور سزا دیں گے۔اس موقعے پرانہوں نے کراچی والوں کو آئندہ ماہ مزید پانی ملنے کی خوش خبری سنائی اور بتایا کہ دھابے جی سے اضافی پانی کی پمپنگ شروع ہوگی۔

واٹر بورڈ کے مطابق اس نےشہر میں پانی کی فراہمی کے لیے آٹھ قانونی ہائیڈرینٹس قائم کیے ہیں، جہاں سے شہریوں کو ٹینکرز کےذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ غیر قانونی کنکشنز کے ذریعے پانی کی چوری معمول کی بات ہے۔ ایک اور مسئلہ یہاں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا بھی ہے۔ شہر کے کچھ علاقوں میں 24 گھنٹے پانی میسر رہتا ہے اور بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں مہینوں بلکہ برسوں پانی نہیں آتا اور وہاں کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔

شہر کی آبادی میں اضافے کے ساتھ نئے رہائشی منصوبوں اور صنعتوں کے لیے پانی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔لہذا شہر میں پانی کی فروخت ایک منافع بخش کاروبار بن چکاہے۔ یہ پانی منرل واٹر کی بوتلوںمیں ، صاف کیے ہوئے پانی کے نام پر اور ٹینکرز کے ذریعے فروخت ہوتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس پانی کہاں سے آتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ یہ پانی مرکزی پائپ لائنز سے چوری کیا جاتا ہے جو کل پانی کا بیالیس فی صد ہے جس سے یومیہ کروڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے۔ مرکزی پائپ لائن میں غیر قانونی طریقے سے کنکشن کیے جاتے ہیں یا سوراخ کر کے پانی ٹینکرز کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان دنوں 1000گیلن کے ایک ٹینکر کے تین تا پانچ ہزار روپے اوربعض علاقوں میں اس سے زاید بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔ ٹینکرز ہائیڈرینٹس سے پانی حاصل کرتے ہیں ، جن میں سے زیادہ ترغیر قانونی ہیں۔کراچی کے سابق ناظم ، مصطفی کمال نے 2009 میں دعوی کیا تھا کہ پانی کی چوری میں کمی ہوئی ہے،پہلے نو ہزار ٹینکرزتھے،لیکن اب صرف ستائیس سو ٹینکرز پانی فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن آج یوں لگتا ہے کہ شاید یہ تعداد نو ہزار سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔

شہر میں پانی کے درست استعمال کے لیےعوام میں شعور اور آگاہی کے لیےکام کرنے والی تنظیموں اور افراد کا کہنا ہے کہ جب تک ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فروخت اور فراہمی کو نہیں روکا جائے گا اس وقت تک تمام لوگوں کو پانی کی فراہمی ممکن نہیں۔ان کے مطابق ہر شہری کو پانی کا بل دینا چاہیے۔ جو نہیں دے سکتا اسے سبسڈی دی جائے یا پانی کے لیے بھی میٹر لگائے جائیں کہ اتنے فی صد پانی مفت ہوگا اس سے زاید جو استعمال کرے گا اسے ادائیگی کرنا پڑے گی۔ اس عمل سے لوگ احتیاط سے پانی استعمال کریں گے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی کے لیے مطلوب پانی سے زیادہ پانی موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بد عنوانی،نااہلی اوربدانتظامی کی وجہ سے شہر کے لاکھوں باسی پانی سے محروم ہیں اور ان کے حصے کا پانی ان ہی کو منہگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں