Advertisement

زہریلی شراب کی فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن

August 18, 2019
 

اس کے استعمال سے اب تک درجنوں اموات ہوچکی ہیں

آئی جی پولیس ،سید کلیم امام کی جانب سے سندھ بھر میں منشیات فروشوں بالخصوص کچی شراب کی تیاری اور فروخت میں ملوث عناصر کےخلاف کریک ڈائون کے احکامات کے بعد سکھر پولیس نے منشیات فروشوں کے خاف ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کردیا۔ اس دوران کچی شراب بنانے والی فیکٹریوں پر چھاپے مارکر 2ملزمان کو گرفتار کرلیا، جن کے قبضے سے 2ہزار 300لیٹر کچی شراب برآمد ہوئی ہے جبکہ متعدد فیکٹریوں میں کچی شراب بنانے میں استعمال ہونے والاسامان بھی ضبط کرلیا۔ گرفتارہونے والے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے۔ ماضی میں کچی زہریلی شراب پینے سے سندھ کے مختلف اضلاع میں درجنوں اموا ت ہوچکی ہیں ، جس پر آئی جی سندھ کے احکامات کے بعدصوبے کے تمام اضلاع کے پولیس افسران نے اس سلسلے میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ کچی اورزہریلی شراب بنانے والوں کاقلع قمع کیا جاسکے۔

ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد نے اس سلسلے میں اقدامات کرتے ہوئے ریجن کے آٹھوں اضلاع ،سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، خیرپور، گھوٹکی، جیکب آباد، کشمور کندھکوٹ، قمبر شہدادکوٹ کے ایس ایس پیز کو منشیات فروشوں بالخصوص کچی شراب بنانے اور فروخت کرنے والوں کی گرفتاری کے لئے ہدایات دیں، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیاہے۔ سکھر پولیس نے آپریشن کے آغاز میں ہی کچی شراب تیار کرنے والوں علاقوں میں کارروائی کی اور 2ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایس ایس پی سکھر ،عرفان علی سموں کے مطابق عید تہوار یا خوشی کے موقع پر نشے کے عادی نوجوان منشیات بالخصوص کچی شراب کا استعمال کرتے ہیں

جس سے ماضی میں مختلف شہروں میں متعدد اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔ اس سال آئی جی سندھ کی ہدایات پر منشیات فروشی کے اڈوں خاص طور پر کچی شراب بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈائون کیا گیا اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاکہ اس گھنائونے دھندے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے کچی شراب کی بھٹیاں بند کرکے قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے۔ اس حوالے سے پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی، پولیس نے کچی شراب کی فروخت کو روکنے اور کچی شراب فروخت کرنے والوں کی گرفتاری کے لئے ٹارگیٹڈ آپریشن کیا۔ تھانہ سائیٹ ایریا کی حدود کھوسو گوٹھ، سعید آباد سمیت اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن کیا گیا، اس دوران 2ملزمان اللہ بخش اور شاہ بیگ کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 2300لیٹر کچی شراب برآمد ہوئی ہے جبکہ ایسے مقامات جہاں پر کچی شراب بنائی جاتی ہے وہاں بھی چھاپے مارکر کچی شراب کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کر لیا ۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے۔

ایس ایس پی سکھرکے مطابق ،ضلع کے تمام علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو اپنے فرائض تندہی سے انجام دے رہی ہیں، سائیٹ ایریا میں کی جانے والی کارروائی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تھانہ انچارجز کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں اس حوالے سے کڑی نظر رکھیں اور کچی شراب تیار کرنے والے فیکٹری مالکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپروائی برداشت نہیں کی جائےگی۔ ایس ایس پی سکھر نے تمام تھانوں کے ہیڈ محرر جنہیں عام طور پر تھانے کا بڑا منشی کہا جاتا ہے کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اپنی حدود میں منشیات کی فروخت پر نظر رکھیں اور جہاں بھی منشیات فروخت ہورہی ہو اس کی فوری اطلاع ایس ایس پی سکھر کو دی جائے اگر ایسا نہ ہوا اور منشیات فروشی خاص طور پر کچی زہریلی شراب پینے سے کسی شخص کی موت کا واقعہ سامنے آیا تو متعلقہ تھانہ انچارج کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔

سکھر کی سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایس ایس پی سکھر، عرفان علی سموں کی ہدایت پر سکھر پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں قابل تحسین ہیں لیکن محکمہ ایکسائز جس کی ذمہ داری ہےوہ نہ صرف مکمل طور پر غیر فعال دکھائی دیتا ہے بلکہ منشیات فروشوں خاص طور پر کچی شراب کی فیکٹریوں اور فروخت کرنے والوں کو اس محکمے کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی حاصل ،یہی وجہ ہے کہ آج تک منشیات کے اڈوں کے خلاف ایکسائز پولیس کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارروائی سامنے نہیں آئی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محکمہ ایکسائز کچی شراب سمیت منشیات کی فروخت کی روک تھام میں نہ صرف مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر محکمہ ایکسائز کے افسران کچی شراب کی فروخت اور اس سے ہونے والی اموات سے اکثر بے خبر رہتے ہیں۔محکمہ ایکسائز سکھر کی جانب سے سیکریٹری ایکسائز اور صوبائی وزیر ایکسائز کو بھی سب ٹھیک ہے کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ محکمہ ایکسائز صرف اس وقت حرکت میں آتا ہے جب کچی شراب پینے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، جس کے بعدحکام بالاکی سخت ہدایات پر رسمی کارروائیاں کی جاتی ہیں مگرمعاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد محکمہ ایکسائیز کی کاروائیاں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔کچی اور زہریلی شراب پینے کے باعث سکھر اور بالائی سندھ سمیت سندھ بھر میں اکثر وبیشتر اموات ہوتی ہیں لوگ ان اموات کو تھانوں میں رپورٹ نہیں کراتے جس کے باعث کچی زہریلی شراب پینے سے ہو نے والی اموات کے درست اعداد وشمارسامنے نہیں آتے۔سیاسی، سماجی، مذہبی، عوامی، تجارتی حلقوں نے پولیس کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو محکمہ ایکسائز کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور غیر ذمہ دار افسران واہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی جب تک اس محکمے میں سدھار نہیں آئے گا، اس وقت تک معاشرے سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔


مکمل خبر پڑھیں