Advertisement

محکمہ بورڈز و جامعات میں تعیناتی کے حوالے سے بے قاعدگیوں کا انکشاف

September 03, 2019
 

کراچی( اسٹاف رپورٹر) محکمہ بورڈز و جامعات میں اہم عہدوں کی تعیناتی کے حوالے سے سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے بتایا جاتا ہے کہ اسٹنٹ پروفیسر خالد مہر جو بنیادی طور پر کالج کیڈر کے ہیں وہ ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر کام کرہے ہیں اسی طرح کالج لیکچرار یاسین سبز زوئی جو محکمہ بورڈ و جامعات میں سیکشن افسر کے طور پر کام کررہے تھے انہیں دو ماہ قبل واپس کالج ایجوکیشن بھیج دیا گیا تھا مگر اس کے باوجود نہ صرف وہ محکمہ بورڈز و جامعات میں کام کررہے ہیں بلکہ سرکاری گاڑی اور پیٹرول کا بھی استعمال کررہے ہیں۔ یاسر سولنگی جو محکمہ بلدیات سے آئے ہوئے ہیں وہ سیکشن افسر بورڈز کے طور پر کام کررہے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تمام محکموں سے ڈیپوٹیش ختم کیئے جاچکے ہیں تاہم محکمہ بورڈز و جامعات میںدوسرے محکموں سے آئے ہوئے افسران کا راج ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل محکمہ بورڈ و جامعات نےچیف سکریٹری سندھ ممتاز شاہ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر میٹرک بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر سعیدالدین کو بیمار قرار دے کے ہٹانےکی کوشش کی تھی اور ان کی جگہ میٹرک بورڈ کے سابق کلرک مظفر شاہ کو چیئرمین لگانے کی کوشش بھی کی تھی جسے چیف سکریٹری سندھ ممتاز شاہ نے واپس آ کر ناکام بنادیا تھا۔ چیف سکریٹری سندھ ممتاز شاہ کے مطابق جب انھوں نے مظفر بھٹو کو چیرمین بورڈ میٹرک بورڈ لگانے سے متعلق پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت کی روشنی میں ان کا ڈالا گیا تاہم جب میں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ وزیر اعلیٰ نے ایسا کوئی حکم نہیں ہی دیا تھا۔ جس پر وہ سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو دوباہ بھیجی گئی جس کے نتیجے میں مظفر بھٹو کو چیرمین بورڈ لگانے کا فیصلہ ختم کردیا گیا۔ جنگ نے سکریٹری بورڈز و جامعات ریاض الدین سے موقف لینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا انھیں وٹس اپ بھی کیا گیا جس کا میسج انھوں نے دیکھا مگر رابطہ نہیں کیا۔


مکمل خبر پڑھیں