وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے حالیہ ڈانس اور ہلکے پھلکے عوامی مظاہرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے لیے حتمی حد بن گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے 3 جنوری کو کراکس میں اپنے کمپاؤنڈ سے امریکی خصوصی دستوں کے ذریعے گرفتار ہونے سے قبل کئی ہفتوں تک گانے اور ڈانس کے مظاہرے کیے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو امریکی فورسز نے ان کے بیڈ روم سے پکڑا۔
مادورو ڈانس میں اکثر ٹرمپ کے مشہور فسٹ پمپنگ اسٹائل کی نقل کرتے نظر آئے۔ دسمبر میں بین الاقوامی اسکول برائے خواتین قیادت کے افتتاح پر مادورو نے اپنی تقریر "No War, Yes Peace" کے الیکٹرانک ری مکس پر ڈانس کیا، جس میں ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ کی ٹیم نے مادورو کے یہ مظاہرے واشنگٹن کے حوصلے کو آزمانے کے مترادف سمجھا اور اسے کارروائی کی آخری وجہ قرار دیا۔
امریکی اہلکاروں کے مطابق مادورو کے یہ مظاہرے وائٹ ہاؤس کے کچھ اہلکاروں کو یقین دلا گئے کہ مادورو واشنگٹن کے حوصلے کو آزما رہا ہے، جس نے امریکی فوجی دھمکیوں پر عمل کرنے کا فیصلہ کروا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر کے آخر میں مادورو نے ٹرمپ کی جانب سے استعفیٰ دینے اور ترکی میں جلاوطنی قبول کرنے کی پیشکش کو مسترد کیا۔
اس کے بعد انہوں نے الیکٹرانک بیٹ پر ڈانس کیا اور ریکارڈ شدہ آواز میں انگریزی میں کہا، ’’No crazy war‘‘، جسے امریکی حکام نے امریکی انتباہ کی کھلی تضحیک سمجھا۔
نتیجتاً ہفتے کی صبح امریکی خصوصی دستے نے کراکس میں صبح سویرے کارروائی کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا اور نیویارک منتقل کر دیا، جہاں وہ منشیات اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔