لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے 8 رکنی انکوائری کمیٹی بنا دی، کمیٹی ڈین فیکلٹی آف لاء جسٹس ریٹائرڈ محمد بلال خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔
کمیٹی میں پروفیسر مغیث، پروفیسر احمد بلال، فرخ حفیظ، ڈاکٹر عائشہ، علی اسلم، محمد عامر، اسماہان رمضان شامل ہیں۔ محمد عامر اور اسماہان زخمی طالبہ کے کلاس فیلو ہیں۔
کمیٹی واقعہ کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔
خیال رہے کہ لاہور میں رائیونڈ روڈ پر واقع نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی جسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبہ کو دماغ پر چوٹ آئی ہے، وہ ہوش میں نہیں، طالبہ کی کمر کی کچھ ہڈیوں اور گھٹنے میں فریکچر ہے، اس کی حالت تشویشناک ہے، طالبہ کو جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اسی نجی یونیورسٹی میں پیش آیا جہاں کے ایک طالبعلم محمد اویس نے تقریباً دو ہفتے پہلے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔
پولیس کے مطابق 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے نجی یونیورسٹی کی دوسری منزل سے نیچے چھلانگ لگائی۔ یونیورسٹی کے اندر سے موصول ہونے والے موبائل کلپس میں گارڈز کو زخمی لڑکی کو لے جاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعہ کے بعد یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا، طلبا یونیورسٹی کے باہر جمع ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور فارنزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنے شروع کیے۔ اس بارے میں متعدد طلبا نے بھی یونیورسٹی انتظامیہ کے بارے میں شکایات کیں۔