Advertisement

تُم بِن کیسے جیئیں گے؟

September 18, 2019
 

پلاسٹک کی ایجاد کے بعد سے دنیا بھر میں اس کا استعمال جتنی تیزی سے بڑھا ہے وہ حیران کن بات نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنوعی طورپر تیار کردہ یہ مادہ اپنی مضبوطی،لچک اور ہر شکل میں ڈھل جانے کی وجہ سے ہر طرح کے کام آسکتا ہے۔لیکن اس کی یہ ہی خصوصیات ماحول اور جان داروں کے لیے بہت مہلک ثابت ہورہی ہیں،کیوں کہ اس سے تیار شدہ ہر قسم کی اشیا دنیا بھر میں بہت تیزی سے استعمال ہونا شروع ہوئیں اور پھر وہ کچرے میں بھی شامل ہونے لگیں۔اس مادے کی سب سے تباہ کن خصوصیت یہ ہے کہ یہ دہائیوںبعد بھی پوری طرح تحلیل نہیں ہوتا، یعنی یہ بایو ڈی گریڈ ایبل نہیں ہے اور فطری طریقے سے ماحول کا حصہ نہیں بن پاتا۔اور یوں ماحول کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے۔یہ درست ہے کہ آج پلاسٹک ہماری زندگی میںبہت اہمیت کا حامل ہےاور اگر یہ نہ ہوتا تو شاید ہم بہت سی سہولتوں سے محروم رہتے۔لیکن دوسری جانب یہ ماحول کو جس تیزی سے نقصان پہنچارہا ہے وہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ اس وجہ سے دنیا بھر میں اس کے محفوظ انداز میں استعمال پر آج کل بہت توجہ دی جارہی ہے۔

دراصل پلاسٹک مصنوعی طورپر تیار کردہ ایسا مادہ ہے جسے ختم ہونے یا زمین کا حصہ بننے کے لیے ہزاروں سال درکار ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہ ماحول، صحت و صفائی اور جنگلی حیات کے لیے بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ ساحلوں پر پھینکی جانے والی پلاسٹک کی بوتلیں اور تھیلیاں سمندر میں چلی جاتی ہیں جس سے سمندری حیات کی بقا کو سخت خطرات لاحق ہیں۔اکثر سمندری جانور پلاسٹک کے ٹکڑوں میں پھنس جاتے ہیں اور ساری زندگی نہیں نکل پاتے۔ اس کی وجہ سے ان کی جسمانی ساخت ہی تبدیل ہوجاتی ہے۔بعض سمندری حیات پلاسٹک کو کھا بھی لیتی ہیں جس سے فوری طور پر ان کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔ چناں چہ ماہرین پلاسٹک بیگزکے متبادل کے طورپر کپڑے کے تھیلے استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں جو کافی عرصے تک استعمال کیے جاسکتے ہیں اور پھینکے جانے پر تھوڑے ہی عرصے میں تحلیل ہوکر زمین کا حصہ بن جاتے ہیں۔

پولی تھین بیگز ایک عفریت

دنیا بھر میں پولی تھین بیگز عفریت کی صورت اختیار کرچکے ہیںجو زمین ،ہوا اور سمندروں کویک ساں طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پلاسٹک کے بنے ہوئے شاپنگ بیگز، جنہیں پولی تھین بیگ کہا جاتاہے،کی آمد سے قبل جب لوگ سامان لینے کے لیے بازار جاتے تو اپنے ساتھ کپڑے کا تھیلا یا کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ٹوکری لے کر نکلتے تھے۔کپڑے کے تھیلے مارکیٹ میں سلے سلائے بھی ملتے تھے اور خواتین گھروں میں خود بھی سی لیتی تھیں۔مگر آج آپ بازارکا رخ کریں توہر سودا سلف خریدنے والا ہاتھ میںپولی تھین بیگ تھامے ہوئے دکھائی دے گا۔ایک پاؤ لیموں سے لے کر کپڑوں تک ہر چیز آپ کو پولی تھین بیگز میں مل جاتی ہے۔

چوں کہ پلاسٹک جدید کیمیائی صنعت میں بہت ہی سستی اور عام شے ہے اس لیے دنیا بھر میں یہ کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔یہ آج دنیا بھر میں اس قدر اہمیت حاصل ہوچکی ہے کہ اس کے بغیر اب روزمرہ زندگی ادھوری لگتی ہے۔ہم روزانہ پلاسٹک سے بنی ہوئی کوئی نہ کوئی شے ضرور استعمال کرتے ہیں۔پلاسٹک کا سب سے زیادہ استعمال ہم پولی تھین کے تھیلوں کی صورت میں کرتے ہیں۔ یہ تھیلے وزن میںبہت ہلکے اور سستے ہوتے ہیں اور ہم انہیں کسی بھی طرح سے استعمال کرسکتے ہیں۔ ان ہی فواید کو دیکھ کر ہم ان کا بہ کثرت استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کے مضر اثرات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان پلاسٹک بیگز کو استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے، لیکن یہ اپنی کیمیاوی خصوصیات کے باعث مٹی، پانی یا ہوا میں گلنے سڑنے کے بجائے ہمارے ماحول کےلیے سخت ضرر رساں بن جاتے ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق روزانہ 15سے29کروڑ پلاسٹک بیگز استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 2015میں پاکستان میں پلاسٹک بیگز کا سالانہ استعمال 122بلین تک پہنچ چکا تھا۔اگر اس تعداد کو روزانہ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے توپاکستان کی پوری آبادی پر ایک پلاسٹک بیگ فی کس روزانہ آتا ہے۔

آلودگی کا بڑا سبب

سویڈن کی ایک کمپنی نے 1965میںیہ تھیلے متعارف کرائےتھے جو دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا میں عام ہوگئے۔پاکستان میں پلاسٹک کے تھلے 1980کی دہائی میں متعارف ہوئے اورپھر پورے پاکستان میں مشہور ہو گئے۔ان تھیلوں نے پورے پاکستان میں ماحول کو آلودہ کیا ہوا ہے، گٹر بند ہو رہے ہیں، نالیاں شاپرزاور چپس کی تھیلیوں سے اٹی پڑی ہیں۔ کوڑے کے ساتھ انہیں جلانے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ہمارے خطے میں لوگ پولی تھین سے بنےتھیلے اور تھیلیوں کواستعمال کرنے کے عادی ہوچکے ہیں، لیکن انہیں استعمال کرنے کے بعد صحیح ڈھنگ سے ضایع کر نے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔انہیں بلا تردد گلی کوچوں، سڑکوں، نالیوں، دریاؤں،باغیچوں، حتٰی کہ اپنے گھروں کے صحن میں بھی بغیر سوچے سمجھے پھینک دیا جاتا ہے۔یہ ہی لاپروائی ہمارے ماحول کی آلودگی کا سب سے بڑا سبب بن چکی ہے۔ عام استعمال میں آنے والا پولی تھین اگرچہ ہمارا سستا دوست ہے، لیکن ہماری ناسمجھی اور غفلت کی وجہ سے یہی سستا دوست ہمارا سب سے بڑا دشمن بنتا جارہا ہے ۔ملک کے مختلف علاقوں میں پولی تھین سے نالیوں اور سیوریج کے نظام کا بند ہوجانا ایک وبابن چکی ہے۔ دوسری جانب ہمارے آبی ذخائر پولی تھین کی آماج گاہ بن رہے ہیں جن سے آبی حیات کا بری طرح متاثر ہونا لازمی بات ہے۔پاکستان کی متعدد جھیلوں اور دریاؤں میں پولی تھین اور پلاسٹک سے بنی ہوئی بے شمار اشیا کو تیرتے، بہتے اور جمع ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کے پرفضا پہاڑی علاقوں میں بھی پولی تھین اپنے برے اثرات پھیلا چکا ہے ۔

انسان اور ماحول کے لیے سخت نقصان دہ

پولی تھین چوں کہ نہ سڑنے اور گلنے والی شے ہے اس لیے یہ زمین کی ساخت اور زرخیزی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ زمین کی سانس بند کرکے اسے منجمد کر دیتا ہے اور نباتات کو زمین سے جو غذا اور دیگر اجزا ملنے چاہییں ان کی ترسیل میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں نباتات کی افزائش رک جاتی ہے اور زمین کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب پولی تھین بیگز میں استعمال کیے جانے والے رنگ بھی مضرصحت ہوتے ہیں، جن کے برے اثرات ہماری صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اگر ان تھیلوں اور بیگز کو جلایا جائے تو ان کا دھواں ہوا کو زہر آلود کردیتا ہے۔یہ دھواں ہماری آنکھوں، جلد اور نظام تنفس پر بری طرح اثر انداز ہوتاہے۔المختصر ،پلاسٹک اور پولی تھین اپنے مضر صحت اور انتہائی نقصان دہ اثرات سے انسانی زندگی، حیوانات و نباتات، چرند پرند،غرض یہ کہ ہمارے پورے ماحول کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرتا ہے۔بیش تر ترقی یافتہ ممالک میںپلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی عاید کی جاچکی ہے اور کئی ممالک پابندی لگانے پر غور کرر ہے ہیں۔پلاسٹک کے تھیلے یا پولی تھین بیگز کو عالمی سطح پر ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا ہے،کیوں کہ ان کی وجہ سے جان دار کئی بیماریوں اور مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق یہ تھیلیاں اگر مٹی میں دبی ہوں تو کم از کم ایک ہزار سال بعداور اگر پانی میں پڑی رہیں تو تقریباً 4500 سال بعد پوری طرح تحلیل ہوں گی۔

ماحولیات کے ماہرین کے مطابق صرف ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کا استعمال جرم ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔وہ کہتے ہیں کہ پلاسٹک کے متبادل کے طور پر ری سائیکل کے قابل پلاسٹک کا استعمال کرنا چاہیے اور اگر کارخانے دار صرف اپنا خام مال تبدیل کرکے ماحول میں تحلیل ہوجانے والے (بائیو ڈی گریڈ ایبل) اور ری سائیکل کے قابل پلاسٹک بنائیں تو یہ کارخانے بند ہوں گے اورنہ کوئی بے روزگار ہوگا اور ہمارا ماحول بھی محفوظ رہے گا۔

پابندی اور پھر پابندی

اگرچہ پاکستان میں ماضی میں پلاسٹک کے بیگزپر پانچ مرتبہ پابندی لگائی جاچکی ہے، لیکن ہرمرتبہ تھوڑے ہی عرصے بعد پابندی لگانےاورپابندی کرنےوالے اس پابندی کو بھول جاتے ہیں۔تاہم اب حکومت کہتی ہے کہ اس بارپلاسٹک سے چھٹکارا حاصل کر ہی لیاجائے ۔ابھی بھلے ہی یہ اقدام صرف اسلام آباد تک محدود ہے ، مگر اس کی کام یابی ملک کے دیگر علاقوں میں ایسے ہی اقدام کے لیے مثال ثابت ہوسکتی ہے۔وفاقی حکومت نے چودہ اگست کے بعد اسلام آباد میں پلاسٹک پر پابندی عاید کر دی ہے۔ اس پابندی کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ،ملک امین اسلم کہتے ہیں کہ 1990میں پاکستان میں ایک کروڑ پلاسٹک بیگز بنتے تھے،لیکن آج یہ تعداد55ارب تک پہنچ چکی ہے۔یہ پلاسٹک بیگز ہر شہر میں آپ کا استقبال کرتے ہیں۔یہ گندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔بھاری جرمانوں کی وجہ لوگوں سے پلاسٹک کے استعمال کی عادت چھڑواناہے ۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں یہ عادت اب اتنی پختہ ہوچکی ہے کہ صرف پابندی لگانا کافی نہیں،بلکہ لوگوں کو اِس کے بغیر زندگی گزارنےاور اس کا متبادل اختیار کرنے پر آمادہ کی بھی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام اور عزم بہت اچھی بات ہے،لیکن ایسی کسی بھی مہم کی کام یابی کا انحصار دیگر عوامل کے ساتھ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ آیا عوام خود کو اس تصور سے ہم آہنگ کر بھی پاتے ہیں یا نہیں۔ملک امین اسلم اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ہماری تین مراحل پر مشتمل میڈیا آگاہی کی مہم چل رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں عوام کو یہ بتانا ہے کہ یہ پابندی کیوں عاید کی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ بتانا ہے کہ پلاسٹک پر پابندی کاجو قانون بنایاگیاہے وہ دراصل کیا ہے۔ اور تیسرے مرحلے میں یہ بتائیں گے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کیا جرمانے کیے جائیںگے۔

زمینی حقایق

بہ ظاہر یہ منصوبہ بہت زبردست لگتا ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ تھوڑی سی تگ و دو کے بعدیہ کام یابی سے ہم کنار ہوجائے گا، مگرزمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے حکومت کی اس کوشش کو خوش آئند قرار دیاہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ شکوہکرتے نظر آتے ہیں کہ اس کا متبادل کیا ہوگا؟اگرچہ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک نجی کمپنی کے بنائے ہوئے ری سائیکل ہونے کے قابل تھیلے مارکیٹ میں لوگوں کو نمونے کے طور پر دیے گئے ہیں، لیکن اس ضمن میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

وفاقی حکومت کے بعد صوبائی حکومتیں بھی اس ضمن میں اقدامات اٹھارہی ہیں۔دوسری جانب اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کی نوکریوں اور کارخانے داروں کے مالی نقصان کا بھی خدشہ ہے۔اس پابندی کےنتیجےمیں پلاسٹک بنانے،بیچنےاور خریدنے والوںپربھاری جرما نےکیے جائیں گے۔نئے قانون کے تحت پلاسٹک خریدنے والے پر پانچ ہزار روپے،بیچنے والے پردس تا پچاس ہزار روپے اوربنانے والے پر ایک تا پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ایک اجلاس میں کمیٹی بنائی گئی ہے جو سائنسی بنیادوں پر اس بات کا مطالعہ کرے گی کہ کیسے کسی پلاسٹک کے شاپر بنانےکے کارخانے کو بہتر مٹیریل کا پلاسٹک بیگ بنانے والے کارخانے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ملک امین اسلم کے مطابق ہر طرح کے پلاسٹک پر پابندی عاید نہیںہو رہی اور بعض اقسام کے پلاسٹک کے استعمال کی اجازت ہے۔قانون میں ایک شق ایسی بھی رکھی گئی ہے کہ ایسا پلاسٹک جو میڈیکل ویسٹ میں یا پیکجنگ میں استعمال ہوتا ہے اس کے استعمال کی اجازت ہے، لیکن وہ بھی ایکسٹنڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلٹی کی شرط کے ساتھ، یعنی پلاسٹک پیدا کرنے والے پر ذمے داری عاید کرنے کا ضابطہ۔اس میں یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ پلاسٹک کسی اسپتال کو بیچ رہے ہیں تو یہ آپ کی ذمے داری ہوگی کہ اپنے پاس ایک لاگ بک رکھیں۔ اس پلاسٹک پر آپ کی کمپنی کا لوگو ہونا چاہیے اور یہ آپ کا کام ہے کہ اس کو اکٹھا کرکے ری سائیکل کریں۔ابھی یہ قانون صرف اسلام آباد کی حد تک ہے، مگر خیبر پختون خوا میں بھی اس طرح کی قانون سازی ہوچکی ہے، پنجاب والے بھی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی معلومات کے مطابق سندھ اور بلوچستان نے بھی اس میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔

برطانیہ کا انوکھا قانون

برطانیہ میں پلاسٹک بیگز کا استعمال ختم کرنے کےلیے اکتوبر 2015 میں انوکھا قانون بنایا گیا تھا۔اس قانون کے تحت وہاں سپر مارکیٹس میں استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگز پر حکومت کی جانب سے قیمت وصول کی جانے لگی تھی جس کے کچھ ہی مہینے بعد پلاسٹک بیگز کے استعمال میں 85 فی صد کمی دیکھی گئی تھی۔یہ اقدام ماحول کو پلاسٹک سے درپیش خطرات اور اس کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیاتھا۔ایک پلاسٹک بیگ کی قیمت پانچ پونڈ رکھی گئی تھی اور یہ قانون تجرباتی طور پر لندن کی سات بڑی سپر مارکیٹس میں نافذ کیا گیاتھا۔اس سے قبل ان سپر مارکیٹس نے اپنے گاہکوں کے استعمال کےلیے سات ارب کے قریب پلاسٹک بیگز بنوائے تھے، لیکن اس اقدام کے صرف چھ ماہ بعد ان سپر اسٹورز نے صرف پچاس لاکھ بیگز ہی منگوائے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمت کی وصولی کے باعث گاہکوں نے شاپنگ بیگز لینا چھوڑ دیاتھا۔یاد رہے کہ یہ اعداد و شمار برطانیہ کے شعبہ برائے ماحولیات، غذا اور دیہی امور، ڈیفرا کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔تاہم اس وقت یہ قدم صرف سپر مارکیٹس کے لیے تھا اور چھوٹی دکانیں اس سے مستشنیٰ تھیں۔برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثال ہے کہ ایک چھوٹے سے قدم سے آپ کتنی بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں۔

اس سے قبل برطانیہ میں پلاسٹک بیگز کے استعمال کی شرح 140فی شخص ماہانہ تھی اوراس کا کل وزن اکسٹھ ہزار ٹن تھا۔وہاں اس قانون کے نفاذسے قبل صرف ایک ہفتے میں ان سات سپر اسٹورز سےتیس لاکھ پلاسٹک بیگز گاہکوں کو دیے جاتے تھے۔

پانی میں گُھل جانے والے ماحول دوست تھیلے

دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جنہیں ماہرین کرہ ارض کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے جہاں آلودگی کے اسباب تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتوں کو قرار دیا ہےوہیں اُن کا یہ بھی خیال ہے کہ ہمارے زیر استعمال پلاسٹک کے بیگز بھی ماحول کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ایک کھرب سے زاید پلاسٹک کی تھیلیاں استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہیں جو کروڑوں ٹن کچرے کی شکل میں ہماری زمین کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں۔

چین کی ایک کمپنی نے اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے گزشتہ برس انسانی ضرورت کے لیے ایسا پلاسٹک کاتھیلاتیار کیا ہے جو استعمال کے بعد پانی میں حل ہوجاتا ہے۔ اس کمپنی کے مالک رابرٹو ایسٹی ٹی نے یہ خیال ماحولیاتی آلودگی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے سامنے پیش کیا تھا جسے سب نے سراہا تھا مگر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا انہیں مشکل نظر آرہا تھا۔رابرٹو نے ایک سال کی کوشش کے بعد پلاسٹک کا ایساچھوٹا بیگ تیار کیا جسے استعمال کر کے اگر پانی میں پھینک دیا جائے تو وہ آسانی سے اُس میں گُھل جائے گا۔واضح رہے کہ ہمارے زیراستعمال پلاسٹک کے بیگز سیکڑوں برس تک تلف نہیں ہوتے اور اگر یہ سمندر میں چلے جائیں تو آبی مخلوق کے لیے بھی موت کا باعث بنتے ہیں۔

ایسٹی ٹی کے بہ قول انہوں نے جو تھیلے تیار کیے ہیں اُن کے لیے کسی بڑے سرمائے یا مشینری کی ضرورت نہیں اورہم آسانی کے ساتھ ہم انہیں بنا کر آلودگی پر قابو پاسکتے ہیں۔

اس سے قبل 2016میں یہ خبر آئی تھی کہ پلاسٹک کے مؤجد نے چار سال تک نئے پلاسٹک پر تجربات کیے اور بالاخر سورج مکھی کے تیل‘ آلو‘ مکئی‘ قدرتی نشاستے‘ سبزیوں کے تیل اور کیلے کے مرکبات سے ایک پلاسٹک نما مٹیریل تیار کرلیا ہے جس کی تیاری کے طریقے کو خفیہ رکھا گیاہے۔تاہم اتنا معلوم ہوسکا تھا کہ پہلے اس کا خام مال مایع صورت میں ڈھالا جاتا ہے اور اس کے بعد چھ مختلف مراحل سے گزار کر پلاسٹک بیگز تیار کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کی قیمت روایتی پلاسٹک بیگ کے مقابلے میں35فی صد زایدہے،لیکن اس کے فواید اس اضافی رقم سے کہیں زیادہ ہیں۔اسے تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا تھا کہ اس نے ایسا پلاسٹک بنایا ہے جسے جانور اور خود انسان بھی کھاسکتے ہیں۔اینوائے گرین نامی کمپنی نے قدرتی نشاستے اور سبزیوں کے تیل سے پلاسٹک نما مادہ بنانے کا دعوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سو فی صد نامیاتی (آرگینک)‘ ماحول دوست اور ازخود گھل کر ختم ہوجانے والا ہے۔ اس کے علاوہ اس مادے کو کھایا بھی جاسکتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اگراس سے بنے تھیلے کو کچرے میں پھینک دیا جائے تو 180 روزمیںیہ ازخود گھل کر ختم ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں پانی میں ڈالا جائے تو ایک روز میں ور ابلتے پانی میں 15 سیکنڈ میں حل ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح تین برس قبل یہ خبر آئی تھی کہ امریکن کیمیکل سوسائٹی کے ماہرین پلاسٹک کے متبادل کے طور پر ایسی اشیا کی پیکنگ بنانے پر کام کر رہے ہیں جنہیں انسان یا جانور کھا بھی سکتے ہیں اور اگر اسے پھینک دیا جائے تو یہ مختصر عرصے میں حل ہو کر زمین کا حصہ بن سکتی ہے، یوں یہ کچرے اور آلودگی میں اضافے کا سبب نہیں بنے گی۔یہ پیکنگ دودھ کے پروٹین سے تیار کی جائے گی اور یہ وہی کام کرے گی جو پلاسٹک کرتاہے۔ یہ آکسیجن کو جذب نہیں کرسکے گی لہٰذا اس کے اندر لپٹی چیز خراب ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا۔خبر کے مطابق اس پیکنگ میں کافی یا سوپ کو پیک کیا جاسکے گا۔ استعمال کرتے ہوئے اسے کھولے بغیر گرم پانی میں ڈالا جاسکتا ہے جہاں یہ پیکنگ بھی پانی میں حل ہوجائے گی۔ چوں کہ یہ پروٹین ہی سے بنی ہے لہٰذا یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوگی۔

ماہرین کا کہنا تھاہے کہ مستقبل میں زمین کی بڑھتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے یہی خورنی پیکنگ استعمال کی جائے گی۔


مکمل خبر پڑھیں