Advertisement

ہر نگاہ منتظر: عمران خان کشمیر پر اقوام متحدہ میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں

September 19, 2019
 

مسئلہ کشمیر کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں اگرچہ پس منظر میں چلی گئی ہیں لیکن پھر بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی محاذ آرائی پارلیمنٹ میں بدستور جاری ہے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر ’’گو نیازی گو‘‘ کے نعرے لگائے۔ حکومت اور اپوزیشن کے دو ممبران میں تو باقاعدہ ہاتھا پائی بھی ہو گئی۔ صدر مملکت جن کی تقریر کے لئے تاریخ میں پہلی بار ٹیلی پیرامیٹر کا استعمال کیا گیا نے ایسے ماحول میں خطاب کیا کہ اپوزیشن کے شور شرابے کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی ہیڈ فون لگا کر صدر کی تقریر سنی اور بعد میں ہیڈ فون اتار کر وہ اپنی نشست کے سامنے جمع اپوزیشن ممبران کے نعرے سنتے رہے اور مسکراتے رہے البتہ ایک دو مرتبہ وہ نعروں سے مضطرب بھی نظر آئے۔ اپوزیشن کا مطالبہ یہ ہے کہ اسیر ممبران قومی اسمبلی آصف علی زرداری، رانا ثنااللہ، خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ا سپیکر اسد قیصر ماضی میں یہ رعایت دیتے رہے ہیں لیکن اب ان پر بھی حکومتی پارٹی کا دباؤ ہے کہ یہ رعایت نہ دی جائے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اگرچہ روایتی خطاب کیا جس میں حکومت کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا ذکر کیا گیا اوران مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومتی کاوشوں کا اعتراف کیا گیا بلکہ سراہا گیا لیکن صدر مملکت نے یہ اعتراف ضرور کیا کہ معاشی اعتبار سے ملک اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔

صدر مملکت نے کہاکہ حکومت کو کرنٹ اکائونٹ، بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے ہیں۔ سابق حکمرانوں نے کرپشن کا بازار گرم کر کے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ صدر نے مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر دنیا نے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ نسلی کشی کا نوٹس نہ لیا تو بڑا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔ کشمیریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ صدر کا توجہ دلانا مناسب ہے لیکن ایسے موقع پر اپوزیشن کی ہلڑ بازی اور احتجاج سے عالمی سطح پر پارلیمنٹ سے مثبت کی بجائے منفی پیغام گیا ہے کم از کم مسئلہ کشمیر کی حد تک تو قومی اتفاق رائے ہونا چاہیئے۔ یہاں تو عالم یہ تھا کہ اپوزیشن نے کشمیر پر سودا نامنظور اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے ۔ ٹرمپ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کہ نعرے لگائے۔

حکومت اگر پروڈکشن آرڈر کے معاملے میں نرم روی سے کام لے تو کم از کم پارلیمنٹ کی حد تک ماحول بہتر ہو سکتا ہے کیونکہ قومی اسمبلی کے رواں سیشن میں بھی پروڈکشن آرڈر کے ایشو پر اپوزیشن کا احتجاج جاری ہے۔ دراصل وزیراعظم عمران خان کا رویہ اپوزیشن کے بارے میں بالکل بے لچک ہے۔ وہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ تو دور کی بات ہے مصافحہ کرنے کو بھی تیار نہیں دراصل وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے ہاتھ ملانے سے شاید ان کا وہ بیانیہ کمزور پڑ جائے گا جس کی بنیاد پر وہ الیکشن جیت کر آئے ہیں۔ ان کا بیانیہ ایک ہی ہے کہ دونوں جماعتوں نےملک کو لوٹا ہے اور ان سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیئے۔ اصولی طور پر ان کا موقف درست ہے کے انہیں احستاب کے عمل میں کوئی لچک نہیں دکھانی چاہیئے لیکن یہ کس طرح انہوں نے رائے قائم کر لی ہے کہ ساتھ والی نشست پر بیٹھے اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ کرنا کوئی سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے۔ بہر حال ہماری سیاسی، سماجی اور پارلیمانی اقدار ہیں کہ مخالفین ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور رواداری سے ملتے ہیں۔ پارٹی منشور اور پالیسی الگ الگ ہے جس پر قائم رہنا سب کا حق ہے۔

وزیراعظم عمران خان کشمیر کا کیس بہت موثر انداز میں لڑ رہے ہیں وزیراعظم نے ایران، سعودی عرب، ترکی، ملائشیا، انڈونیشیا اورمتحدہ عرب امارات کے علاوہ مغربی ممالک کی قیادت سے رابطے کئے، ٹوئٹر کے ذریعے جرات مندانہ موقف اپنایا۔ انہوں نے موثر انداز میں وزیراعظم مودی کے آر ایس ایس کے پس منظر اور ان کی ہٹلر لابی پر تشدد اور انتہا پسندانہ سوچ کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ وہ آرمی چیف کے ہمراہ کنٹرول لائن پر گئے۔ آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کیا، رواں ہفتے انہوں نے مظفر آباد میں جلسہ عام سے خطاب جس سے اہل کشمیر کو پاکستانی قوم کی جانب سے اچھا پیغام گیا ہے۔

وزیراعظم کا تمام تر فوکس اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب پر ہے۔ وہ 27ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے ہر نگاہ منتظر ہے کہ وزیراعظم کیا موقف اختیار کریں گے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت اور فورسز کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو بے نقاب کریں گے۔ وہ 19ستمبر کو سعودی عرب جائیں گے۔ سعودی قیادت سے وہ دو طرفہ امور کے علاوہ کشمیر ایشو پر بھی بات چیت کریں گے وہ21ستمبر کو سعودی عرب سے امریکہ چلے جائیں گے۔ تاکہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب سے پہلے امریکی قیادت، اقوام متحدہ کے ممبر لیڈروں اور عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کرسکیں۔ وہ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں کرینگے۔ جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں اٹھانے سے اس ایشو کو عالمی حیثیت مل جائے گی۔

قومی سیاست میں اس وقت تمام تر توجہ کا مرکز جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ہیں جنہوں نے اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ اب انہوں نے اس مارچ کو دھرنے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے تو اپنے آپ کو اس مارچ اور نعرے سے الگ کرلیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت بھی تذبذب کا شکار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے کہ لیگی کارکن ان کے دھرنے میں شریک ہونگے مگر ابھی تک پارٹی کے صدر شہباز شریف کی جانب سے واضح اعلان نہیں کیا گیا۔ شہباز شریف کی کمر میں درد بتایا جاتاہے جس کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیاں ٹھنڈی ہوگئی ہیں لیکن بات کمر میں درد کی نہیں ہے، اختلاف رائے کی ہے۔ شہباز شریف صلح جو اور مصلحت پسند سیاستدان ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات کے حامی ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کر کے سیاست کرنا ممکن نہیں ہے اس کے برعکس نواز شریف اور مریم نواز شریف جارحانہ موڈ میں ہیں۔

مقدمات اور جیل کی سختیوں کی وجہ سے وہ اب تلخ ہو گئے ہیں۔ دوسرا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بہتر بارگینگ پوزیشن کیلئے بھی محاذ آرائی کی سیاست ضروری ہے۔ لیگی قیادت کے تذبذب کی وجہ سے ان کا کارکن بھی مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔ یہ تو بھلا ہو پی ٹی آئی حکومت کا کہ ان سے معیشت سنبھل نہیں رہی۔ صنعت اور کاروبار جمود کا شکار ہے۔ سرمایہ کاری نہیں آرہی۔ کارخانے بند ہورہے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج 13ماہ گزرنے کے باوجود 32 ہزار پوائنٹس سے نیچے ہے جو لیگی دور میں52 ہزار پر تھی۔ خود پی ٹی آئی کے ووٹرز مایوس نظر آتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں