مشکلات کا مقابلہ محنت سے کریں

September 21, 2019
 

عاقب جاوید

’’لوجی اسٹیل پالش لے لو، سوتی کپڑے، واشنگ مشین صاف کرے، موٹر سائیکل، استری کو نیا رنگ دے، گیزر، پیتل، تانبہ، اسٹیل کے برتن چمکائے۔ صرف تیس روپے میں لو۔ لوجی اسٹیل پالش لے لو‘‘

29 سالہ دانش احمد ہر روز گجرانوالہ کی اونچی نیچی گلیوں میں گرجکھ روڈ سے حافظ آباد روڈ تک اور کبھی ہفتہ وار بازاروں میں انہی آوازوں کے ساتھ صبح سے شام کرتا ہے۔ کوئی مائیک پہ گونجتی اس کی آواز پہ کان دھرے نہ دھرے، دانش کا گیٹ اپ دیکھ کر ایک بار ٹھہرتا ضرور ہے۔ کانوں پہ مائیک، کمر پہ اٹیچی کیس، کندھے، بازو پہ دھرے تھیلے، کمر سے لٹکی سپرے گن، ہاتھوں میں پکڑی پالش اور سر پہ تنی چھتری، اسے سینکڑوں ہزاروں میں نمایاں کر دیتی ہے۔

تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود مناسب ملازمت نہ ملی تو گھر کا روز مرّہ کا خرچ پورا کرنے کی خاطر محنت مزدوری شروع کر دی۔ ابتداً رنگ و روغن تیار کرنے والے کار خانے میں کام کیا، جب گزر بسر مشکل ہونے لگا تو ایک دوست کے مشورے پر شہر چلا آیا۔ ابتداً میں دشواری کا سامنا رہا۔ بعدازاں تین سو روپے دیہاڑی پر ایک نوکری مل گئی۔ لیکن گھر خرچ پورا کرنے کے لیے ابھی بھی تنخواہ کم تھی۔ مشکلات تو بے پناہ تھیں لیکن ہمت نہیں ہاری، مسلسل آگے بڑھنے کی لگن، حوصلہ اور کامیاب ہونے کے جذبے سے سرشار، مستقبل سے پُرعزم ایک روز معمول کی طرح دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر کے لیے کار خانے سے باہر آیا۔ جہاں اس کی ملاقات باسط نامی نوجوان سے ہوئی، جس کا حلیہ وہی تھا جو آج خود اس کا ہے۔ وہ اس سے اتنا متاثر ہوا کہ ایک دوسرے سے واقف نہ کے باوجود بھی بھی بغیر تنخواہ اس کا شاگرد بننا قبول کرلیا۔ باسط بھلا نوجوان تھا، سو پر دیسی شاگرد کو دنوں میں آواز لگانے، پیکنگ کرنے میں طاق کر دیا۔

ایک روز استاد نے شاگرد کو اپنے علاقے میں واپس جانے اور کام شروع کرنے کا مشورہ دیا، یہی نہیں بلکہ اس کے علاقے میں اُس مارکیٹ کا پتا بھی دیا جہاں سے چائینہ پالش باآسانی مل سکتی ہے۔ دو سال پہلے دانش واپس گجرانوالہ آیا۔ اپنے کام میں دو نئے اضافے کیے، ایک تو اپنی پراڈکٹ کی پینا فلیکسں بنوا کر چھتری پر لگوائیں۔ دوسرا اپنا وزنٹنگ کارڈ بھی چھپوایا۔ اور اللہ کا نام لے کر اپنے بچوں کے لیے رزق حلال کمانا شروع کر دیا۔ آج وہ روزانہ ہزار سے بارہ سو کما لیتا ہے۔ دانش مستقبل کے حوالے سے پُر امید تو ہے لیکن چاہتا ہے کہ کسی طرح مہنگائی کا مقابلہ کرسکے تاکہ اپنے بچوں کو تعلیم سے بہرہ مند کرکے اُن کا مستقبل روشن کرسکے۔