Advertisement

فرسودہ نظام تعلیم اور ہمارا نصاب

October 05, 2019
 

محمد عثمان

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے نوجوانوں کے تعلیمی استعداد پر مبنی ہوتا ہے۔ بہترین تعلیم نسل نو کی شخصیت و کردار کی تعمیر کی ضامن ہوتی ہے، تعلیم ہی انسان کو تہذیب و تمدن کی اعلیٰ اقدار سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ افراد کی ذہنی تطہیر کا کام بھی کرتی ہے۔ اس سے اخلاقی و معاشرتی نظام سنورتا ہے، جس قوم کا تعلیمی نظام اور نوجوانوں کی تعلیمی کیفیت اعلیٰ ہو وہ قوم ترقی کی منازل طے کر کے اوج ثریا پر اپنا علم بلند کر جاتی ہے۔

1940 میں قرار داد پاکستان منظور ہونے کے ساتھ ہی قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی، جس کی ذمہ داری تھی کہ پاکستان کے لئے تعلیم و ثقافت کا ایک ایسا نظام وضع کرے، جس کے ذریعے نئی ریاست اور اس کے نظام تعلیم کو اسلامی تقاضوں کے مطابق مرتب کیا جاسکے، اس کمیٹی کے ذمے تین کام تھے (1) نظام تعلیم (2) نظام معیشت (3) نظام سیاست

پاکستان بننے کے فوری بعد اکتوبر 1947 ء میں پہلی قومی تعلیمی کانفرنس بلائی گئی، جس میں پورے ملک سے ماہرین تعلیم کو دعوت دی گئی تھی۔ اس کانفرنس کے نام ایک پیغام میں قائد اعظم محمد علی جناح نے لکھا کہ، موجودہ نظام تعلیم ہماری ضروریات کی تکمیل نہیں کر سکتا اور ہمیں مکمل صحیح خطوط پر استوار نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ ہماری بد قسمتی تھی کہ بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو زیادہ مہلت نہ مل سکی اور وہ قیام پاکستان کے صرف ایک برس بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے، ان کے بعد ایک خاص طبقہ بلکہ انگریز کا وفادار طبقہ ہم پر مسلط رہا، بقول علامہ اقبال ’’ زاغوں کے تصرف میں رہے عقابوں کا نشیمن ‘‘ واقعی عقابوں کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں ہے۔

دنیا کی سمجھ دار اور دور اندیش قومیں اپنے نظام تعلیم کو اس طرح مرتب دیتی ہیں کہ، اس کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل ان کے نظریے کی علمبردار اور ان کی تہذیب و تمدن کی نقیب ہو۔ ہم گذشتہ 73 برسوں سے اپنی بیشتر کاوشیں، سرگرمیاں، توانائیاں اور وسائل اُن علوم کو پڑھنے پڑھانے میں صرف کر رہے ہیں، جو انگریزوں نے رائج کیے۔

ہماری تمام تعلیمی کوشش اور وسائل و اسباب ابھی تک عملاً اسی ہدف کے حصول کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جو 1984 ء میں لارڈ میکالے نے طے کئے تھے۔ رنگ اور نسل میں ہندوستانی اور ذوق و مزّاج میں انگریزی برطانوی مغربی سوچ و فکر کا غلبہ ہماری کیا رہنمائی کرے گا۔

اس انگریزی نظام تعلیم نے ہمیں کیا دیا ہے؟، صرف کلرک اور چپڑاسی۔ یہاں واضح رہے کہ ہم عصری تعلیم کی افادیت سے انکار نہیں کر رہے، اس کی افادیت اپنی جگہ پر ہے۔ مگر ہمارے ہاں لارڈ میکالے کا جو نظام تعلیم رائج ہے، اس کے فائدے کم اور نقصان زیادہ ہیں۔

آخر ہم اس پر غور کیوں نہیں کرتے کہ ہمارے ہاں تعلیم بالغاں کی ساری اسکیمیں کیوں ناکام ہوتی ہیں؟ دیہی علاقوں کے بچوں کی زیادہ تعداد کیوں سرکاری اسکولوں سے بھاگتی ہے؟ خواتین کی بڑی تعداد سرکاری اسکولوں کی تعلیم سے کیوں متنفر ہے؟ اس ناکامی، اس فرار اور اس تنفر کی ایک بڑی وجہ اس تعلیم کا غیرعملی، غیر حقیقی اور غیرافادی ہونا ہے۔ آج ہمارے ہاں تعلیم ایک باقاعدہ اور انتہائی نفع بخش تجارت بن چکی ہے۔ اب استاد اور شاگرد کا رشتہ باپ، بیٹے جیسا نہیں بلکہ ایک تاجراور آجر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

بھانت بھانت کے تعلیمی ادارے معاشرے کو طبقات میں تقسیم در تقسیم کے عمل کو پُختہ سے پُختہ تر کر رہے ہیں ۔ معاشرے میں وی آئی پی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ آج ہمارا تعلیمی نصاب اور تعلیمی ادارے استعماری قوتوں کے آلۂ کار بن چکے ہیں۔ اسلامیات کا نصاب غیرمسلم پڑھارہے ہیں۔ آج بے مقصد اور بے جہت تعلیمی اداروں کا ملک میں سیلاب آیا ہوا ہے، جن کی تعلیم کا کوئی مقصد نہیں نظر آرہا۔

ان تعلیمی اداروں کے فضلاء ملک وملت اور معاشرے کے کسی کام کے نہیں، آج خواندگی کی سیڑھی پر بھتر سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا 141 واں نمبر کیوں ہے؟ خواندگی کے فروغ پر خرچ کئے جانے والے وسائل اور اداروں کی ساری کاوشیں بے نتیجہ کیوں ثابت ہورہے ہیں؟

ہماری اجتماعی قیادت کا رویہ تعلیم کے بارے میں کیا ہے؟ ہمارا جاگیردارانہ اور سیاسی نظام تعلیمی اداروں پر کیا اثرات مرتب کررہا ہے؟ ہماری تعلیمی پالیسیاں ہمارا تعلیمی نصاب سامراجی قوتوں کے نرغے میں ہے ، غیر ملکی اداروں کے عمل دخل نے علم اور تعلیم کی آزادی کو ختم کر ڈالا ہے۔

نصاب تعلیم سے اسلامی تاریخی مواد کا اخراج جدید درس گاہوں سے اردو، عربی اور فارسی کی بے دخلی تاریخ، معاشیات، سیاسیات، قانون اور انگریزی ادب میں ہندو مصنفین کی کتب کا بے جا استعمال، کم تعلیمی بجٹ اور ناقص تعلیمی نصاب یہ تمام وجوہات تعلیمی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آج اس صورت حال کی اصلاح اور خرابیوں کا ازالہ کرنا چاہیں، جن کا ذکر کیا گیا ہے، تو اس کے لیے ہمیں چند اقدامات کرنا ضروری ہیں مثلاً ، مقصد تعلیم، نتائج تعلیم ، منہاج تعلیم ، نظام تعلیم ، نصاب تعلیم ، ذریعہ تعلیم ، نگران تعلیم۔ ان تمام شعبوں میں بامقصد اور دیرپا تبدیلی لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ اقدامات فوری نوعیت کے اور قلیل المیعاد ہوں اور کچھ طویل المیعاد اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پہلا کام اساتذہ کی تربیت اور توجیہ نو کا ہے۔

پرائمری اور مڈل کلاسز کے اساتذہ سے لے کر کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ تک تربیتی پروگرام مرتب کئے جائیں ۔ دوسرا سب سے اہم اور فوری کام یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے لئے بالخصوص اور دیگر افراد کے لئے بالعموم ایسا دینی ادب تیار کیا جائے جو مغرب کی فکری اور تہذیبی غلامی سے نجات دلانے کےلئے جامع ہو۔ فوری توجہ کا تیسرا پہلو بڑھتی ہوئی ناخواندگی ہے، اس پر قابو پایا جائے۔

اس کے علاوہ سیاسی اور جاگیر داری نظام کو تعلیمی اداروں میں مداخلت سے روکا جائے۔ تعلیمی بجٹ کی کڑی نگرانی کی جائے، ہمارے ناقص تعلیمی نظام سے بےشمار معاشرتی ،اخلاقی ،سیاسی ،اقتصادی ،قباحتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ڈگری ہولڈر کی تعداد اور بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

نوجوان نسل کے اخلاق و کردار تباہ ہو رہے ہیں، لہٰذا جب تک تعلیم کے پورے نظام اور نصاب پر از سر نو غور کرکے اس کو وطن عزیز کی اجتماعی، ملی اور اقتصادی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک ہمارے فارغ التحصیل نوجوانوں کی بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لاتعداد اور لامتناہی خرابیوں کا سد باب نہیں کیا جائے گا۔

ایک معیاری و مثالی نظام تعلیم کی تدوین من حیثیت القوم ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت، تعلیمی اداروں ، دانشوروں ، ماہرین تعلیم اہل علم سماجی تنظیموں اور عمائدین ، متکلمین اسلام سب کو باہمی مشاورت کے ذریعے ان اہداف کو حاصل کرنا چاہیے اور اگر اہل پاکستان نے اس معاملہ میں کو تاہی کی تو آئندہ نسلوں کی گمراہی کا وبال ان کی گردنوں پر رہے گا۔ مسائل کا رونا رونے سے مسائل حل نہیں ہوتے البتہ ان میں اضافہ ضرور ہو جاتا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں