بچوں میں نیند بہتر بنانے کے مشورے

October 06, 2019
 

ہم میں سے اکثر لوگ ’نیند‘ کو شاید ایک لازمی فطری عمل سمجھتے ہیں، جو اپنے وقت پر ہر شخص کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وقت پر نیند آنا اور ضرورت کے مطابق مناسب نیند لینا اتنا آسان نہیں، جتنا کہ محسوس ہوتا ہے۔

امریکا کی ’نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن‘ ہر شخص کو اس کی مخصوص ضرورت کے مطابق رات کو روزانہ 8سے 10گھنٹے نیند لینے کا مشورہ دیتی ہے۔ تاہم تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم عمر افراد (13سال سے 19سال) نیند کی کمی کا شکار ہورہے ہیں۔

اس حوالے سے 2015ء میں ایک اہم تحقیق سامنے آئی۔ یہ وسیع تر تحقیق امریکا میں 20سال کے مشاہدے کے بعد شائع کی گئی تھی۔ رپورٹ میں پہلی بار انکشاف کیا گیا کہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی بالخصوص ورکنگ کلاس، غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکیوں اور شہروں میں مقیم گہری رنگت کے بچوں کو نیند کی کمی کے مسائل کا زیادہ سامنا ہے۔

نیند کی کمی کا مطلب

کم عمر بچوں میں نیند کی کمی کا مطلب محض تھکا ہوا محسوس کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ نیند کی کمی نہ صرف بچوں کی تعلیم پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ یہ ان کی جسمانی، دماغی اور جذباتی صحت کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نیند کی اہمیت کے پیشِ نظربہت سے لوگ صبح دیر سے اسکول شروع کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، نیند کا معیار بہتر بنانے کے لیے والدین کو اپنے بچوں میں نہ صرف صحت مند عادتیں پیدا کرنی ہوں گی بلکہ ان کے حیاتیاتی گھنٹے (بائیولوجیکل کلاک) کو بھی ضابطہ میںلانا ہوگا۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل مشورے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

خوشبوؤں کی اہمیت

تازہ اور نت نئی خوشبوؤں کے زندگی میں شامل ہونے سے آپ کے بچے خود کو پُرسکون محسوس کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف قسم کے ضروری آئل (Essential Oils) بچوں کے کمرے میں رکھنے سے آپ اسے ایک پُرسکون اور اچھا احساس پیدا کرنے والی جگہ میں بدل سکتے ہیں۔

نیوپورٹ اکیڈمی میں چیف کلینکل آفیسر باربرا نوزل کہتی ہیں، ’’مختلف قسم کے ضروری آئل خصوصاً لیوینڈرآئل مزاج میں سکون پیدا کرتے ہیں اور دماغ کو نیند کے لیے تیار کرتے ہیں۔ لیوینڈر تیل کے چند قطرے ڈفیوزر میں ڈال دیں، چند قطرے لے کر اپنے ہاتھوں اور کلائی پر مل لیں یا پھر لیوینڈر کے ساشے اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنی نیند کے معیار میں واضح فرق محسوس کریں گے‘‘۔

مارکیٹمیں اچھے معیار کے Calming اسپرے بھی دستیاب ہیں، جن کا کم مقدار میں بچوں کے کمرے میں اسپرے کرکے آپ ماحول کو نیند کے لیے سازگار بناسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مختلف قسم کے ضروری آئل کے ٹائمر کے ساتھ ڈفیوزر بھی مارکیٹمیں دستیاب ہیں، جو بچوں کی نیند کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ البتہ، سونے کے کمرے میں عطر چھڑکنے اور موم بتیاں جلانے سے پرہیز کریں۔ آپ کے سو جانے کے بعد جلتی موم بتی کمرے میں آگ کا باعث بن سکتی ہے۔

شیڈول پر سختی سے عمل کریں

تھوڑی سی محنت سے ہم اپنی زندگیوں کو فطری شیڈول کے ماتحت کرسکتے ہیں۔ اگر ہم ایک رات دیر تک جاگتے رہیں گے تو اگلی رات بھی ہماری باڈی کلاک ہمیں اس وقت تک جگائے رکھے گی۔ ڈاکٹر ہاپکنز کہتی ہیں، ’’کم عمر بچوں کا جسم رات کو دیر تک جاگنے اور اگلے دن دیر تک سونے کے شیڈول کو آسانی سے اپنا لیتا ہے۔

یہ شیڈول اس وقت خطرناک بن جاتا ہے جب بچے رات بہت زیادہ دیر تک جاگتے رہتے ہیں اور اگلے دن وہ اسکول جانے کے لیے اُٹھ نہیں پاتے یا پھر وہ اسکول اور کلاس میں غنودگی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے بچے دوپہر میں طویل قیلولہ لیتے ہیں اور ایک بار پھر جب رات ہوتی ہے تو وہ بروقت سو نہیں پاتے‘‘۔

خوش قسمتی سے ہم اپنی باڈی کلاک کو اپنے شیڈول کے تابع بناسکتے ہیں۔ ’’بچے رات میں زیادہ سے زیادہ کس وقت تک جاگ سکتے ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ہاپکنز کہتی ہیں، ’’صبح میں بچے نے جس وقت اُٹھنا ہے، اس سے آٹھ نو گھنٹے پیچھے گنتی کریں، یہ آپ کے بچے کے سونے کا دُرست وقت ہے‘‘۔

اسکرین ٹائم کم کریں

الیکٹرانک آلات سے خارج ہونے والی نیلی روشنی بچوں کی نیند میں خلل ڈال سکتی ہے۔ جان ہاپکنز آل چلڈرن ہاسپٹل میں سلیپ سینٹر کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر بوبی ہاپکنز معیاری نیند سونے سے دو گھنٹے یا کم از کم ایک گھنٹہ قبل اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر اسکرینز کو بند کردینے کا مشورہ دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اسکرین دیکھنے کے بجائے اس وقت کو اگلے دن کے لیے تیاری میں صرف کریں۔ ڈاکٹر بوبی ہاپکنز کہتی ہیں، ’’میرے پاس آنے والے بچوں کو میں یہی مشورہ دیتی ہوں کہ وہ سونے سے قبل کے ایک، دو گھنٹے اگلی صبح کے ناشتے کی تیاری، کپڑے تیار کرنے اور ہوم ورک مکمل کرنے پر صرف کریں‘‘۔

آواز کو شامل کریں

جس وقت آپ کے بچے سونے کی کوشش کررہے ہوں، اس وقت کچھ مخصوص آوازیں آپ کی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ’لائیو سائنس‘ کے مطابق، یہ مخصوص آوازیں آپ کی نیند میں خلل پیدا کرنے والی دیگر آوازوں کے خلاف ایک ماسک (رکاوٹ) کا کام کرتی ہیں۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں بائیو بیہیوریل ہیلتھ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اورفیو بگسٹن کہتی ہیں،’’ایک ماسکنگ آواز ان آوازوں کو آپ تک پہنچنے سے روکتی ہے، جو آپ کے اختیار میں نہیںہیں۔ جیسے گھر کے باہر ٹریفک کا شور وغیرہ‘‘۔