Advertisement

مسئلہ کشمیر، عمران خان اور حساس اشارے

October 09, 2019
 

بلا تعصب اور جانبداری اور غیر جانبداری کے قضیے میں پڑے بغیر یہ اعتراف آن ریکارڈ جانا چاہئے کہ عمران خان نے کشمیر کے مسئلہ پر تاریخی تقریر کی، عالمی برادری، عالمِ اسلام اور پاکستان سمیت سب چونک اٹھے، یہ ایک اجتماعی سچائی ہے، خواہ میرے جیسے عمران مخالف اس پر کس قدر ہی جزبز کیوں نہ ہوں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران کی تقریر کے چند حصے ملاحظہ فرمائیں۔

وزیراعظم پاکستان نے 27ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان نے تمام انتہاء پسند گروپ ختم کر دیئے۔ اقوامِ متحدہ اپنا مشن بھیج کر چیک کرا لے۔

کشمیر پر اب صلح صفائی کا نہیں کارروائی کا وقت ہے۔ غرور نے مودی کو اندھا کر دیا، ہمارا ایمان کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہمارے پاس دو راستے ہیں سرنڈر یا جنگ، بھارت نے کچھ غلط کیا تو آخر تک لڑیں گے۔ نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ عالمی برادری کشمیر سے فوری کرفیو ہٹوائے۔

کشمیریوں کی طرح صرف 8ہزار یہودی (انگلینڈ میں) محصور ہوں تو یہودی برادری کو درد نہیں ہو گا؟، دنیا میں اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں، اسلامو فوبیا سے تقسیم ہو رہی ہے، دنیا میں اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں، کچھ ملکوں میں کپڑے اتارنے کی تو اجازت ہے لیکن (حجاب) پہننے کی نہیں، 13ہزار نوجوانوں کو جنہیں کشمیر سے اٹھایا گیا ہے ان کے والدین کو ان کی خبر تک نہیں۔

اگر کوئی خونریزی ہوئی تو مسلمان شدت پسند ہوں گے، وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا۔

دوسرا مسئلہ زیادہ اہم ہے اور وہ یہ کہ ’’ہر سال غریب ممالک کے اربوں ڈالر نکل کر امیر ممالک کے بینکوں میں پہنچ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک تباہ ہو رہے ہیں، منی لانڈرنگ اس لئے ہو رہی ہے کہ پیسے غریب ملکوں سے نکل کر امیر ممالک میں پہنچ جاتے ہیں، امیر ممالک کو چاہئے کہ غیر قانونی طور پر آنے والی رقم کو ملک میں آنے سے روکیں‘‘۔

’’ہم چاہتے ہیں آزادی اظہار کی آڑ کو ہمارے نبی ﷺ کی تضحیک اور توہین کے لئے استعمال نہ کیا جائے‘‘۔ ’’آپ کی سرزمین سے ہمارے بلوچستان میں حملے کئے جا رہے ہیں جس کا ثبوت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے عمران خان کا خطاب جیسا کہ عرض کیا، کوئی مخالف ہو یا حامی، اسے اس خطاب کی نہ صرف بھرپور حمایت حاصل ہے بلکہ اس سے قوم میں اجتماعی حوصلہ اور خود اعتمادی کی ایک تاریخی لہر نے جنم لیا جس کے ڈانڈے بھارت اور پاکستان کی سابقہ جنگوں سے جا ملتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اپوزیشن سمیت اس قوم نے پاکستان کی بقا و تحفظ کے مسئلے پر کبھی بھی کسی کم نگاہی کا مظاہرہ نہیں کیا، جو بھی حکمران تھا اس نے جب بھی پاکستان کی سلامتی کے تقاضوں کا پیغام دیا پوری قوم اس کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور اسی سچائی کا عمران خان کی موجودہ تقریر کے حوالے سے ایک بار پھر ثبوت دیا گیا۔

سیاسی، معاشرتی اور انتظامی طور پر البتہ عمران حکومت کا بقول جناب خورشید ندیم صاحب ’’ڈھلوان کی طرف سفر جاری ہے‘‘ اور ہماری رائے میں اس سفر کی رفتار میں تیزی آتی جا رہی ہے، امکان غالب ہے دسمبر 2019ختم ہوتے ہوتے ڈھلوان کا یہ سفر عمران حکومت کے لئے غیر متوقع طور پر ناخوشگوار نتائج کا سبب بن جائے۔ سیاسی طور پر اپوزیشن کو دیکھیں ایک طرف صرف مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کا متوقع دھرنا عمران حکومت کی بقا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

کسی سسٹم میں آپ کا نامکمل طور پر بااختیار ہونا اور بااقتدار ہونا جب کسی ضعف کی زد میں آ جائے اس کے اثرات عموماً حکمران کے لئے زوال کی بنیاد رکھے بغیر ختم نہیں ہوتے۔

مسلسل اس قسم کی خبروں کی اشاعت کے ساتھ اب ڈیل کرنے کی کوششیں اور درخواستیں کی جا رہی ہیں۔ شہباز شریف اس معاملے میں گو نرم گوشہ رکھتے ہیں مگر نواز شریف صاحب نے ہر چہ باوا باد کے مصداق ایسی ہر کوشش یا درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

تاہم عمران خان نے چاہے کوئی پسند کرے یا نہ کرے کشمیر کے مسئلے پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کروائی اور بے حد طاقتور اور بے باک طریقے سے کرائی مگر ہم دیکھتے ہیں آہستہ آہستہ حقائق کی فصل کے خوشے سامنے آنے کی باتیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔

بہرحال کچھ بھی ہو، کشمیر کے معاملے میں عمران خان کی جرأت مندانہ نمائندگی سے انکار ناممکن ہے مگر کیا مستقبل میں حامد میر کے ان متوقع خدشات پر غور کر لینے میں کوئی حرج ہے کہ ’’میری ناچیز رائے میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو بڑھایا جائے گا‘‘۔

دشمن صرف باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بھی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مجھے عمران خان صاحب سے خدانخواستہ ذہنی بغض ہو تو حامد میر کے یہ جملے میرے لئے ’’زاد راہ‘‘ بن سکتے ہیں کہ ’’قوم کی قیادت گفتار کا غازی نہیں بلکہ صرف کردار کا غازی کر سکتا ہے‘‘ لیکن یہ نظریاتی کم ظرفی ہو گی، میرے نزدیک حامد میر کے یہ جملے ہی دراصل کشمیر کے سلسلے میں ان متوقع حقائق کی آمد کا اشارہ ہیں جن کی اکتوبر میں آمد پر پاکستانی عوام کا عمران حکومت کے خلاف ذہنی غیظ و غضب بڑھ جائے گا، خدانخواستہ۔


مکمل خبر پڑھیں