’حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ‘

October 14, 2019
 

ڈاکٹر سعید احمد صدیقی

وادیِ مہران،باب الاسلام سندھ کو یہ عظیم اعزاز حاصل ہے کہ برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش اس خطے پر نقش ہوئے۔اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ بلند پایہ صوفیائے کرام اور مشاہیر اسلام نے یہاں دین کے پیغامِ امن و سلامتی کی ترویج کےلیے گراں قدر اور بے مثال خدمات انجام دیں۔شاہ لطیف بھٹائیؒ بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔جنہوں نے اپنے پیغام ،تعلیمات اور شاعری سے یہاں دین کے پیغام کو عام کیا۔

شاہ صاحب امن ومحبت اور انسان دوستی کے سفیر تھے،آپ نے اپنے پیغام کے ذریعے رواداری اور انسان دوستی کا درس دیا، آپ کی شاعری میں صلح و آشتی، اخوت و اتحاد اور وحدت کا پیغام موجود ہے

عظیم صوفی بزرگ، نابغۂ عصر، درویشِ خدامست، عظیم المرتبت جمالیاتی شاعر،شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے کلہوڑا خاندان کے سربراہ نصیر محمد کے دور حکومت میں 1689ء میں اس عالمِ رنگ و بو میں آنکھ کھولی۔آپ سندھی زبان کے عدیم المثال اور عظیم صوفی شاعر ہیں۔ وادی مہران کے باشندے آپ کو عقیدت و محبت سے کھینو لطیف،بھٹائی گوٹ اور مالک لطیف کے ناموں سے بھی یاد کرتے ہیں۔

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے خاندان کے بارے میں اب تک جو تحقیق منظرِ عام پر آئی ہے،اس کے مطابق آپ کے آباء واجداد آپ کی پیدائش سے تقریباً 290 سال قبل سے سندھ میں مقیم تھے۔شاہ صاحب کا خاندان سندھ کے بڑے پیروں میں سے ایک تھا اور تصوف کی دنیا میں اعلیٰ مقام رکھتا تھا۔آپ کے والد شاہ حبیب ایک فرشتہ صفت بزرگ تھے،جو قرب و جوار کے علاقوں میں بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔شاہ صاحب کے والد شاہ حبیب کی بزرگی نے کوٹری کے جاگیردار مغل بیگ کو بھی متاثر کیا،وہ اپنے خاندان سمیت شاہ حبیب کے عقیدت مندوں میں شامل تھا۔

حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی ابتدائی زندگی خصوصاً تعلیم کے حوالے سے پردۂ خفا میں ہے۔مختلف مورخین نے آپ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں اپنی اپنی عقیدت کے اعتبار سے ذکر کیا ہے،لیکن حتمی طور پر تاریخ خاموش ہے۔ (تذکرہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، ڈاکٹر شاہد مختار)

شاہ صاحب امن ومحبت اور انسان دوستی کے سفیر تھے،آپ نے اپنے پیغام کے ذریعے رواداری اور انسان دوستی کا درس دیا۔وہ ایک درویش تھے،جنہیں قدرت نے شعر کہنے کا سلیقہ عطا کیا۔آپ نے شاعرانہ حیثیت میں بہ حیثیت صوفی شاعر شہرت حاصل کی۔آپ کے مجموعۂ کلام کا نام ’’شاہ جو رسالو‘‘ ہے ،جو سندھی زبان میں ہے،جس کا کلام نہ صرف روحانی ترقی اور فکری بالیدگی کا حامل ہے،بلکہ ایک جغرافیائی،تاریخی حقائق کا بھی آئینہ دار ہے۔شاہ صاحب کا کلام کسی نہ کسی حوالے سے سندھی سماج کے ہر طبقے میں زباں زد خاص وعام ہے ۔

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ قرون وسطیٰ کے بڑے شعراء میں آخری شاعر تھے،خصوصاً سندھ میں آپ کی شاعری لافانی ہے۔’’شاہ جو رسالو‘‘ شاہ صاحب کے احساسات، جذبات اور مشاہدات کا مجموعہ ہے جو 1822 ابیات پر مشتمل ہے ،جسے 28 سروں میں گایا گیا ہے،یہ اس وقت کے عوامی جذبات و احساسات کا مجموعہ ہے،جس میں نہ صرف سر زمین سندھ کی معاشرتی، اقتصادی،مذہبی و سیاسی تحریکوں کی نشان دہی کی گئی ہے،بلکہ سندھ کے رسم و رواج،وطن پرستی،خود داری،غیرت اور ادبی رجحانات کی عکاسی بھی موجود ہے۔

شاہ صاحب نے سندھ کے منتشر واقعات اور بکھرے ہوئے مسائل حیات کو اپنی شعوری برتری کے سبب پہلے خود سمجھا اور پھر شاعری میں ان حقائق کی ترجمانی کی۔شاہ صاحب کی شاعری لسانی اور موضوعات کے اعتبار سے عوام کے دل کی دھڑکنوں سے زیادہ قریب ہے،بادشاہوں،امراء اور اہل ثروت کے طرز زندگی پر گہری تنقید ہے،بلاشبہ شاہ صاحب کی شاعری حکمت و معرفت اور اخلاق کا خزانہ اور بنی نوع انسان کے لیے عظیم درس کا درجہ رکھتی ہے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کو سندھی زبان کے علاوہ عربی، فارسی، سرائیکی، ملتانی،ہندی،بلوچی،پوربی اور پنجابی زبانوں پر عبور حاصل تھا،لیکن شاہ صاحب کا کلام ہمیں صرف سندھی زبان میں ملتا ہے،سندھی زبان بنیادی طور پر ساخت و پرداخت،لب و لہجہ اورصوفیانہ رنگ و آہنگ کے اعتبار سے ایک قدیم زبان ہے،جس کی قدامت کا رشتہ ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت سے ملتا ہے اور شاہ صاحب کا مزاج بھی صوفیانہ تھا۔

سندھ میں قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اورسہروردیہ سلسلوںکے بزرگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ان بزرگوں کی عادات و خصائل اور طور طریقوں نے شاہ صاحب کی متصوفانہ طبیعت پر گہرا اثر ڈالا۔شاہ صاحب کو سب سے زیادہ متاثر مخدوم محمد معینؒ کی شخصیت نے کیا اور ان کی رہنمائی اور صحبت نے شاہ صاحب میں عبادت و ریاضت اور خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔

شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒکے کلام کا پہلا حصہ دعائیہ عشق و محبت کے مدارج اور کیفیات پر مبنی ہے۔اس حصے میں دنیوی علامتیں استعمال ہوئی ہیں، جسے عقیدت مند بلند روحانی احساس سے تعبیر کرتے ہیں،دوسرے حصے میں سندھی زندگی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے سندھی زبان کے مختلف پہلوئوں کی دل کش تصویر کھینچی گئی ہے۔تیسرے حصے میں مروّجہ لوک کہانیوں کے ٹکڑے نظم کیے گئے ہیں۔عقیدت مند اس حصے کے کلام کو تصوف سے تعبیر کرتے ہیں۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام سدا بہار پیام فکر و عمل ہے،جس میں فلسفۂ حیات بیان کرتے ہوئے امن و آشتی، عدل و انصاف،خلوص و محبت اور اتحاد و یگانگت کا درس دیا گیا ہے۔وہ ایک جانب محنت کشوں،مزدوروں، کسانوں اور پس ماندہ مظلوم انسانوں کو جینے کا رنگ سکھاتے ہیں تو دوسری طرف صاحب اقتدار لوگوں کو عدل و انصاف،اخوت و مساوات، فراخ دلی،روا داری، خدا ترسی اور انسان دوستی کا سبق دیتے نظر آتے ہیں۔

شاہ صاحب کا رسالہ سندھی ادب کا شاہ کار اور لازوال خزانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔پورے رسالے میں کہیں بھی کوئی لفظ بے جا،بے معنی استعمال نہیں کیاگیا۔ تمام اصطلاحات،محاورات، تشبیہات، استعارات، تمثیلات، تراکیب، روانی، صنائع و بدائع، ترنم،وزن،قافیہ فن کے لحاظ سے پختہ،برجستہ اور اعلیٰ ہیں۔

شاہ صاحب کے رسالے میں کہیں مولانا رومی کی مثنوی کی بو قلمونی، کہیں گلستان و بوستان سعدی کی گل کاری، کہیں حافظ کی مستی،تو کہیں حکیم سنائی کا تصوف، کہیں امیر خسرو کا تغزل،کہیں فردوسی کی منظر کاری، کہیں نقاشی فطرت،مولانا جامی کی پنج گنج کی جھلک،تو کہیں غزالی کی حقیقت پسندی موجیں مارتا ہوا سمندر نظر آتی ہے۔

آپ کی شاعری میں صلح و آشتی، اخوت و اتحاد،اتفاق و حدت کا پیغام موجود ہے،بلا شبہ آپ کی شاعری وجد کی کیفیت طاری کر دیتی ہے۔تصوف کی اصطلاحات کی شناسائی رکھنے والوں کے لیے یہ کلام مشعل راہ اور توشۂ حیات ہے۔شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے کلام کا اگر ہم خلاصہ پیش کریں تو وہ یہ ہے کہ انسان خود کو پہچانے، ریاکاری اور کینہ حسد، جھوٹ سے قلب کوپاک کرے اور نفس کشی سے اپنے مالک حقیقی تک رسائی حاصل کرے۔

شاہ صاحب کے ہم عصر شعراء میں پشتو زبان کے رحمان بابا، پنجابی زبان کے شاعر شرف بٹالوی، علی حیدر ملتانی، میاں اشرف لاہوری،علامہ قادر بٹالوی، بلّھے شاہ، بلوچی زبان میں میردرک اور کشمیری زبان میں مقبول شاہ قابل ذکر ہیں۔خوش حال خان خٹک نے اسی سال وصال کیا،جس سال شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ پیدا ہوئے۔(بحوالہ ڈاکٹر شاہد مختار،تذکرہ شاہ عبداللطیف بھٹائی)

شاہ صاحب کا کلام اگرچہ سندھی زبان میں ہے،لیکن اس کا پیغام پوری عالم انسانیت کے لیے ہے۔ آج سندھی ادب میں جو نئے خیالات، صحت مند رجحانات اور جدید میلانات پائے جاتے ہیں، وہ شاہ صاحب کی فکری کاوشوں کے رہین منت ہیں۔

آپ مولانا روم کا کلام ہمیشہ اپنے سینے سے لگائے رکھتے اور حکمت رومی سے آپ نے آگاہی حاصل کر کے چراغ سے چراغ جلائے،آخر میں ہم شاہ صاحب کے اس تاریخی جملے اور دل سے نکلی دعا کا ذکر کرتے ہیں جو ہمیشہ اہل سندھ سے ان کی محبت و عقیدت کا باعث رہے گا۔ ’’اے میرے مالک،سندھ کو ہمیشہ سر سبز و شاداب رکھنا۔‘‘