Advertisement

موسیقار ’سہیل رعنا‘

October 15, 2019
 

1963ء کی بات ہے، جب اداکار و فلم ساز وحید مراد نے اپنی ایک فلم ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ میں پہلی بار موسیقار سہیل رعنا کو متعارف کروایا۔ اس فلم کا ایک گانا ’’ہمت سے ہر قدم بڑھانا تو ہے پاکستانی‘‘ کی مقبولیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے۔ حمایت علی شاعر کا لکھا ہوا یہ نغمہ احمد رشدی کی آواز میں ریکارڈ ہوا۔ یُوں تو اس فلم کے دیگر نغمات بھی مقبول ہوئے۔ فلم کی کام یابی کے ساتھ شائقین موسیقی میں سہیل رعنا بھی مقبول ہو گئے۔ معروف شاعر رعنا اکبر آبادی ان کے والد بزرگوار تھے۔ آن کا اصل نام سہیل احمد رعنا ہے۔

25دسمبر1939ء کو آگرہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آ گئے۔ حیدرآباد سندھ میں قیام کے دوران وہاں کے ایک انگریزی میڈیم اسکول میں زیرتعلیم رہے۔ 1956ء میں حیدرآباد بورڈ سے میٹرک کرنے کے بعد کراچی آ گئے۔ ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا۔ مسلسل تین سال تک فیل ہوتے رہے۔ انٹر سائنس میں تھے، تو انہیں مصور بننے کا شوق پیدا ہوا اور فیل ہونے کی وجہ ان کی تمام تر توجہ مصوری کی طرف تھی اور موسیقی سے بھی لگائو تھا۔

گھر میں رکھا ہوا قدیم ہارمونیم لے کر ساز چھیڑنے لگ جاتے۔ اداکار وحید مراد کےساتھ کالج میں پڑھتے تھے۔ دونوں میں دوستی تھی۔ وحید مراد اس وقت بہ طور فلم ساز ایک فلم ’’انسان بدلتا ہے‘‘ بنا چکے تھے۔ اپنی دوسری فلم ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ کے لیے انہوں نے اپنے دوست سہیل رعنا سے موسیقی دلوائی۔

اس فلم کے گانے عوام نے بے حد پسند کیے۔ زیبا اور درپن اس فلم کے مرکزی اداکار کے طور پر شامل ہوئے۔ پہلی فلم کی کام یابی کے بعد انہیں کراچی میں بننے والی ایک اور فلم ’’بیس دن‘‘ کی موسیقی کے لیے کہا گیا۔ اس فلم کے پروڈیوسر سعید ہارون تھے۔ اسی سال وحید مراد پروڈکشن کی سپرہٹ فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کی موسیقی مرتب کی۔ اسی فلم سے وحید مراد نے بہ طور ہیرو اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ فلم کی ہیروئن زیبا تھیں۔ اس فلم کے چند نغمات اس قدر مقبول ہوئے کہ وہ اسٹریٹ سونگز قرار پائے۔

گلوکار سلیم شہزاد اور گلوکارہ طلعت صدیقی کا گایا ہوا گیت ’’مجھے ایک لڑکی سے پیار ہو گیا‘‘، اسی فلم کا ایک اور گانا ’’مجھے تم سے محبت ہے اک بار ذرا دھیرے سے‘‘ جسے احمد رشیدی اور نجمہ نیازی نے گایا، گلی گلی اور کوچہ کوچہ مقبول ہوئے۔ فن موسیقی کے آسمان پر سہیل رعنا ایک چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ابھرے۔ وہ فن کے راستے پر آسودگی سے سرگرم سفر ہونے کے ساتھ تعلیم سے بھی جڑے رہے۔

اس دوران انہوں نے بی اے اور پھر ایم اے کر لیا۔ ایم اے کرنے سے قبل کراچی یونی ورسٹی میں وہ اپنے فن کا مظاہرہ بہت پہلے ایک ترانہ کمپوز کر کے کر چکے تھے۔ پرائیوٹ آرکسٹرا اور پاکستان نیوی کے اشتراک سے ایک ترانہ ریکارڈ کرایا تو سیکڑوں تالیوں کی فلک بوس گونج نے انہیں اپنی منزل مل جانے کا اشارہ دیا۔ وہ دن ان کی زندگی کا حسین اور یادگار لمحہ ہے۔

’’ہیرا اور پتھر‘‘ کے بعد 1966ء میں فلم آرٹس کے بینر تلے بننے والی وحید مراد کی آل ٹائم سپرہٹ میلوڈی مووی ’’ارمان‘‘ کی موسیقی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ملک میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے۔ اس فلم کے سپرہٹ سونگ ’’کوکو کورینا‘‘ میں انہوں نے پہلی بار ایک مغربی دھن پر طبع آزمائی کی۔ فلم کے ہدایت کار پرویز ملک نے انہیں اس گیت کو کمپوز کرنے کے لیے کہا۔ مشہور زمانہ ’’کوکو کورینا‘‘ اہل مغرب کا ایک آل ٹائم سپرہٹ کلب سونگ تھا، جسے سب سے پہلے1928ء میں امریکی گلوکار بو کارٹر (Bo Carter)نے گایا تھا۔

پھر مختلف ادوار میں اسے مغرب کے پوپ سنگر گاتے رہے، لیکن اس پوپ سونگ کو اصل شہرت1963ء میں ہالی وڈ کے اداکار (Daen Martin)ڈین مارٹن نے گا کر دی۔ اسی پوپ سونگ کو سہیل رعنا نے اپنی طرز میں احمد رشدی کی آواز میں ریکارڈ کروایا۔ فلم ’’ارمان‘‘ جس کے تمام کے تمام نغمات بے حد مقبول ہوئے، خاص طور پر فلم کا تھیم سونگ ’’اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر‘‘ جسے مالا اور احمد رشدی کی آوازوں میں الگ الگ ریکارڈ کیا گیا۔’’ارمان‘‘ کو پہلی پاکستانی پلاٹینم اردو فلم کا اعزاز حاصل ہوا۔ سہیل رعنا کو اس فلم کے بہترین موسیقار کے طور پر نگار ایوارڈ بھی ملا۔

پاکستانی موسیقاروں میں مداحوں کا یہ رویہ صرف اور صرف سہیل رعنا کے حصے میں آیا۔ 1967ء میں وہ مقبول موسیقار سے کام یاب فلم ساز بھی بن گئے۔ ہدایت کار پرویز ملک کے ساتھ مل کر ایک نغماتی رومانی فلم ’’دوراہا‘‘ بنائی، جس کی کہانی ایک گلوکار کے گرد گھومتی ہے۔ شمیم آرا، وحید مراد اور دیبا نے اس فلم میں مرکزی اور اہم کردار ادا کیے۔

سہیل رعنا کی موسیقی سے مزین سدابہار اور دل کش نغمات نے اس فلم کو آج بھی عوام کے ذہنوں سے فراموش نہیں ہونے دیا۔ ’’ارمان‘‘ کے درد میں ڈوبے ہوئے نغمے ’’اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر‘‘ کے بعد فلم ’’دوراہا‘‘ کا ایک اور پرسوز نغمہ ’’بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں‘‘ کتنی ہی نوجوان دھڑکنوں کی شکستگی کا سوز بن گیا۔

اسی فلم میں شہنشاہ غزل مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گیت ’’مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو‘‘ کے درد کی ٹیسیں ایک عالم نے محسوس کیں۔ اس فلم کے دیگر مقبول گیتوں میں ’’تمہیں کیسے بتا دوں تم میری منزل ہو‘‘، ’’اے اجنبی ذرا سوچ لے‘‘، ’’کوئی میرے دل میں دھیرے دھیرے‘‘ شامل ہیں۔ اس سال ان کی دل کش موسیقی سے آراستہ دو فلمیں ’’احسان‘‘ اور ’’دل دیوانہ‘‘ بھی ریلیز ہوئیں۔ 1968ء میں انہوں نے وحید مراد کی بہ طور فلم ساز و ہدایت کار فلم ’’اشارہ‘‘ اور اداکار سید کمال کی ذاتی فلم ’’شہنائی‘‘ کا میوزک ترتیب دیا۔

فلم ’’اشارہ‘‘ میں انہوں نے ایک انوکھا تجربہ کرتے ہوئے فلم کے ہیرو وحید مراد اور ہیروئن دیبا کی آوازوں میں ایک بہت ہی منفرد نغمہ ریکارڈ کروایا، جس کے بول یہ ہیں ’’ہیلو عالیہ عامر خیریت تو ہے‘‘ جس سے لوگ بڑے متاثر ہوئے۔ اسی سال انہوں نے فلمی موسیقی کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی پر بچوں کے لیے ایک موسیقی کا پروگرام ’’کلیوں کی مالا‘‘ کا آغاز کیا۔

اس پروگرام سے کراچی ٹیلی ویژن کے ناظرین بچوں کے لیے وہ ایک شفیق استاد کی صورت میں آشنا ہوئے، جو ہر ہفتے انہیں ننھے منے گیتوں کے بارے میں بتاتا اور ان گیتوں کی مٹھاس ننھی سماعتوں کو متاثر کرتی۔

ٹیلی ویژن پر ان کا یہ رشتہ اور تعلق 1987ء تک قائم رہا۔ اس دوران ان کا ایک اور پروگرام ’’سنگ سنگ چلتے رہنا‘‘ کافی مقبول ہوا، جس نے کئی نئے گلوکار روشناس کرائے، جن میں عالمگیر، زوہیب، نازیہ حسن، محمدعلی شہکی، امجد حسین، مونا سسٹرز، بینجمن سسٹرز، فاطمہ جعفری، انور ابراہیم اور گلوکارہ مہناز جیسے بڑے نام شامل ہیں۔

اس عرصے میں انہوں نے ان گنت گیت کمپوز کیے۔ فلمی موسیقی کے حوالے سے اس دوران انہوں نے بہت کم فلموں کی موسیقی مرتب کی۔ پی ٹی وی کراچی اسٹیشن پر بہ طور جنرل منیجر نیشنل آرکسٹرا متعین ہو ئے۔ اس سال صرف ان کی موسیقی سے مزین ایک فلم ’’اسے دیکھا اسے چاہا‘‘ ریلیز ہوئی۔ اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے ٹی وی کے لیے لاتعداد قومی اور ملی نغمات کمپوز کیے، جن کی تفصیل اور تذکرہ ناممکن ہے۔

’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے‘‘، ’’جیوے جیوے جیوے پاکستان‘‘، ’’میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے‘‘، ’’یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے‘‘، ’’تیری وادی وادی گھوموں‘‘، ’’سورج کرے سلام‘‘، ’’پرچم ہے چاند تارا کا‘‘، ’’اے نگار وطن تو سلامت رہے‘‘ جیسے لافانی ملی اور قومی گیت تخلیق کیے۔ 1974ء میں انہیں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس میں ’’اللہ ہو اکبر‘‘ جیسا وجد طاری کرنے والا مجاہدانہ ترانہ کمپوز کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

1986ء میں ان کی موسیقی میں فلم ’’حساب‘‘ ریلیز ہوئی، جس کے ہدایت کار محمد جاوید فاضل تھے۔ انہوں نے اپنے پورے فلمی کیریئر میں23ریلیز شدہ فلموں کے علاوہ گڑیا، ہلچل، آس اور پاگل نامی ان ریلیز فلموں کی موسیقی دی۔ وہ آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں اور زندگی کی81بہاریں دیکھ چکے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں