Advertisement

بارسلونا.... تاریخی تعمیرات کا شہر!

October 27, 2019
 

براعظم یورپ کے ملک اسپین (جسے ہسپانیہ بھی کہتے ہیں) کے دارالحکومت میڈرڈ کے بعد بارسلونا اس کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ اسپین کے خودمختار علاقے کاتالونیا کا دارالحکومت اور اسپین کے شمال مشرق میں بحیرہ روم کے کنارے آباد ہے۔ 2016ءکی مردم شماری کے مطابق بارسلونا کی آبادی17لاکھ تھی، جہاں ہسپانوی باشندوںکے بعد سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں۔

فرانس کی سرحد سے125کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارسلونا، سیاحوں میں مقبولیت کے لحاظ سے یورپ کاچوتھا اور دنیا کا14واں شہرہے۔ اسے City of Beaches بھی کہا جاتاہے ۔ بارسلونا85سال تک مسلمانوں کے زیرِ انتظام رہا ہے۔ اس کی مشہور عمارات کا تذکرہ کرتے چلیں۔

کاتالونیا اسکوائر

یہ بارسلونا کے وسط میںایک وسیع اسکوائر ہے، جہاں آپ کو انیسویںصدی کی تعمیرات نظر آئیں گی۔یہاں بارسلونا کی بہت سی اہم سڑکیں اور ایونیوز آکر ملتے ہیں۔50ہزار مربع گزسے زائد علاقے پر مشتمل کاتا لونیا اسکوائر (Plaça de Catalunya) خاص طور پر فواروں اور مجسموں کی وجہ سے مشہور ہے۔

یہاں آپ مرکز میں ہزاروںکی تعداد میںدانہ چگتے کبوتر بھی پائیں گے۔ اگر آپ کو فنون لطیفہ سے دلچسپی ہے تو یہاں بہترین قسم کے تھیٹر ز بھی موجود ہیں۔ کیفے اور ریستوران یہاں برسوں سے اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے آرہے ہیں۔ عارضی رہائش کیلئے شاندار ہوٹلز بھی آپ کو مایوس نہیںکریںگے۔

پیڈرالبز مونیسٹری

قابل دید ہسپانوی شاہکارپیڈرالبز مونیسٹری (Pedralbes Monastery) یورپ میںگوتھک فنِ تعمیر کو سامنے لاتاہے۔ 14ویں صدی کا یہ شاہکار مسلم ہسپانیہ کے بعد پروان چڑھنے والے فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے، جو تاریخ و تہذیب میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی جانب کھینچتاہے۔ اسے جیمز دوئم آرگون اور اس کی ملکہ ایلنڈا ڈی مونٹکاڈا نے 1326ء میں تعمیر کروایا تھا۔

اس کے ایک حصے میں سینٹ میخائل چرچ بھی موجود ہے، جہاں ملکہ نے راہبائوں اور دیگر اشرافیہ کی رہائش کیلئے کمرے بھی بنوائے۔ اس کے بعد شاہ محل کا ایک حصہ بھی اسی خانقاہ میں بنا دیا گیا تھا۔ 1640ء میںکاتالونیہ میںانقلاب کے بعد یہاں سے راہبائوںکو بے دخل کردیا گیا تھا۔ 1991ء میں اس گوتھک مونیسٹری کو قدیم عجائب گھر کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کے دروازوںمیں آپ کو آرچ یعنی اسلامی محرابیں اور مختلف تہذیبوں کا ملاپ نظر آئے گا۔

کاسہ باتیو

بارسلونا کے مرکز میںواقع اس عمارت کو امریکی سالار سانچیز کے حکم پر 1877ء میں تعمیرکیا گیا، جسے بعد میںانتونی گوڈی نے1904ء میں دوبارہ ڈیزائن کیا۔ اس عمارت کو عام لوگ ہڈیوں کا گھر بھی کہتے ہیں۔ اس عمارت کے آگے والے حصے کو مختلف رنگوں کی ٹائلوں سے سجایا گیا ہے۔ اس عمارت میںایک بیسمنٹ اور نچلی منزل سمیت دیگر چار منزلیں بھی ہیں جبکہ عقبی حصے میں ایک باغ بنا ہوا ہے۔

گاڈی ہاؤس میوزیم

بارسلونا کے پارک گوئل میںواقع گاڈی ہاؤس میوزیم(Gaudí House Museum) 1906ءسے 1925ءتک تقریباً20سال انتونی گوڈی کی رہائش گاہ کے طور پر اس کے زیر استعمال رہا۔ 1963ء میں اسے اوپن ہائوس میوزیم کا درجہ دے دیا گیا، جہاںگوڈی کے فرنیچر اور دیگر اشیا کا کلیکشن موجود ہے۔ ان اشیا میں مجسمے، پینٹنگز، ڈرائنگز وغیرہ بھی ہیں،جنھیں گوڈی نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ اس میوزیم کی چارمنزلیں ہیں، نچلی اور پہلی منزل کو عام لوگوںکیلئے کھلا رکھا گیا ہے۔ اس کے بیسمنٹ میںجانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے ۔ دوسری منزل پر اینرک کیسانیلس لائبریری بنائی گئی ہے، جس میںجانے کے لیے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے۔

بارسلونا کیتھڈرل

یہ چرچ ہسپانوی زبان میں Catedral de la Santa Cruzy Santa Eulalia کہلاتاہے ۔ گوتھک طرز کےبنے اس کیتھڈرل میں آرک بشپ براجمان ہوتے ہیں۔ اسے 13ویں صدی سے لے کر 15ویں صدی کے دوران بنایا گیا تھا، لیکن اس کی تعمیر کا اہم ترین کام 14ویں صدی میں مکمل ہوا۔ اس کے سامنے کا حصہ 19ویں صدی میںبنایا گیا۔ یہ چرچ بارسلونا کے یولالیا (Eulalia of Barcelona) کے نام سے منسوب ہے، جس نےرومن بادشاہت کے دور میں اپنی جان قربان کردی تھی۔


مکمل خبر پڑھیں