الفاظ اور لغت کی اہمیت و افادیت

October 27, 2019
 

ہم اس معاملے میں خوش نصیب ہیں کہ ایسی دو بین الاقوامی زبانوں اردو اور انگریزی کے امین ہیں، جن کی 40سے زائد جِلدوں پر مشتمل لغات دونوں زبانوں کی وسعتوں کے بارے میں چشم دید گواہی دیتی ہیں۔ اردو زبان میں ہم نہ صر ف عربی وفارسی زبانوں کے الفاظ کا وسیع ذخیرہ رکھتے ہیں بلکہ اب انگریزی الفاظ کی اثرپذیری اسی طرح شامل نثر ہو رہی ہے کہ’’ماخذ‘‘ کو ’’ریسورس ‘‘بھی کہتے ہیں اور ’’حوالہ جاتی کتاب‘‘ کو ’’ریفرنس بک‘‘ کہنے سے بھی نہیں گھبراتے۔

ماہرین لغت اس بات پر متفق ہیں کہ ’’کہکشاں‘‘ نامانوس ہے تو ’’گیلیکسی‘‘ کہہ سکتے ہیں اور جس ’’دودھیا کہکشاں‘‘ میں واقع زمین کے ہم باسی ہیں اسے ’’ملکی وے گیلیکسی‘‘ بھی پکار سکتے ہیں ۔ یہی انداز انگریزی اور اردو سمیت ہر ایک زبان کا ہے، تاہم تحریر میں ہمیں الفاظ کی تقدیم وتاخیر کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ لغت یا ڈکشنری ایسی ریفرنس بک ہے، جس میں لفظ کا تلفظ، معنی، ہجے، ضرب الامثال اور جملے میں درست استعمال کی تمام صورتیں حرف تہجی کے لحاظ سے موجود ہوتی ہیں ۔

ذہانت وتخلیق میں کردار

انسان زبان سے اظہار کرتا ہے، آواز کی صورت میں ایک لفظ نکلتا ہے، جسے لکھنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں لفظوں کے ملاپ سے جملےبنانے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہ سرگرمی دماغ کےخوابیدہ حصے متحرک کرکے ذہانت و تخلیق سے ہمکنار کرتی ہے۔ لفظوں کی صورت گری ہو یا اشیا کی تخلیق اس معاملے میں ہم تخلیق کار کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ علم، تجربہ اور ثبوت کے بعد دنیا کو بتانے کا وسیلہ الفاظ ہیں۔

ایجاد ونظریئے بھی الفاظ کے زمرے میں آتے ہیں۔ تمام کارہائے نمایاں بیان کرنے کیلئے ہمیں الفاظ چاہئیں، جس کا گھر لغت ہے۔ جولغت گھر میں داخل ہو گیا اس نے ذہانت وفطانت اور تخلیق کو پالیا۔ جسم تو دم بھر نیند لیتا ہے مگر دماغ سانس کے شروع ہونے سے سانس کے جانے تک جاگتا رہتا ہے۔ رت جگے میں آرام کی صورت تب ملتی ہے جب ہم اپنے دماغ کو سوچ اور غوروفکر میں مصروف رکھ کر تازہ و توانا کرتے ہیں۔

الفاظ کے زندگی پر اثرات

ہر چیز لفظ سے شروع ہوتی ہے، جو تھرتھراہٹ و لرزش اورآواز کی ایک صورت ہے۔ ہماری حقیقت ہمارے خواب، ہمارے خیالات سبھی لفظوں کے محتاج ہیں۔ لفظ یعنی ’’اسم‘‘ کی برتری نے ہی حضرت آدم ؑکو فرشتوں سے برتر کیا۔ ’’علم الاسماء‘‘ سے کون ومکان کی تشکیل ہوئی،گفتگو میں لفظوں کا انتخاب، ادائیگی میں نرمی وتیزی ،بولیں تو پھول برسیں جیسے میٹھے بول ہوںیا کورے کاغذ پر لکھی تحریر، الفاظ کا دانش مندانہ استعمال ہی آپ کے ذہن اور تخلیق کار ہونے کی پہچان ہے۔

اس کیلئے رائج و متروک اور کلاسک الفاظ، وابستہ محاوروں، ضرب الامثال اور کہاوتوں کے بارے میں جاننے کیلئے لغت کو اپنا ہمراز بنانا ہو گا۔ الفاظ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ہمیں غصیلے، نفرت بھرےالفاظ کتنا دکھی کرتے ہیں؟ کسی کے اعتماد کو زک پہنچانی ہو، کسی سے پیار کرنا ہو، ہر دو صورت نفرت ومحبت کا اظہار الفاظ سے ہوتا ہے۔ گفتگو زبانی ہو یا تحریری، ہمیں مناسب وموزوں الفاظ چاہئے ہوتے ہیں۔

ماہرین لسانیات زندگی میں انتہائی اہم الفاظ میں Beیعنی ہونا، Doیعنی کرنا اور Have یعنی رکھنا کو قرار دیتے ہیں کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں؟ کیا کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس کیا ہے؟ یعنی Be مستقبل میں عظیم فرد بننے کا راستہ،Do مختلف چیزوں کومستقل مزاجی سے کرنے کی عادت اور Have حاصل ہونے والے فوائدو نتائج ہیں،جن کی طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب آپ ’’ارادہ‘‘، ’’مستقل مزاجی‘‘ اور ’’دلچسپی‘‘کے تین الفاظ کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھتے ہیں۔

اتنا ہی نہیں، والدین، رشتہ داروں، دوستوں اوراساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے مہذب اور شائستہ الفاظ کا استعمال ہمیں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ ہماری ثقافت میں کم کھاؤ، کم بولو، کم سوؤ، اچھا دیکھو، اچھا سنو، اچھا بولو کے علاوہ ’’باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب‘‘ اور ’’ پہلے تولو پھر بولو‘‘جیسے محاورےعکاسی کرتے ہیں کہ انسان پر مصیبتیں اپنی زبان کی وجہ سے ہی آتی ہیں۔

تبدیل ہونے کا ارادہ تو جوش وخروش سے کرتے ہیں لیکن ایک دو دن بعد مستقل مزاجی بھول جاتے ،دلچسپی بھی ختم ہوجاتی ہے اس لئے ہونے، کرنے اور حصول کیلئے قوت ارادی کے ساتھ لگن اور سچائی جیسے الفاظ کو اپنا رہنما بنانا ہو گا۔

لفظوں کے کھیل

انگریزی الفاظ کے لئے ’’اسکریبل گیم‘‘، ’’کراس ورڈ‘‘ اور اردو الفاظ کے لیے’’بوجھو تو جانیں‘‘، ’’ذہنی آزمائش‘‘ اور ’’راستہ تلاش کریں‘‘ بہترین مشقیں ہیں۔ لفظوں سے محبت کے لئے خود کو بچوں کی دنیا میں لایئے The Everything Kids Puzzle bookبہترین ابتدا ہو سکتی ہے۔ اساتذہ اور والدین کے لئے بچوں کو کھیل کھیل میں لفظوں کے قریب لانے کے لئے Word play اور Lori Goodmanکا مطالعہ نہ صرف بچوں کی رہنمائی کرے گا بلکہ آپ بھی لفظوں کی نفسیات اور جادوگری کے اسیر ہوجائیں گے۔ طالب علم لفظوں کو کھیل کھیل میں جیون ساتھی بنا کر زندگی کو کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔