جنوبی کوریا کے صدر نے حیران کن طور پر گنج پن کو ملک کے لیے ایک نیا اور سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے ’بقا کا معاملہ‘ قرار دیا ہے اور اس کے لیے حکومتی معاونت پر زور دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر لی جے میونگ کا کہنا ہے کہ بالوں کا جھڑنا محض ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ یہ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی اور سماجی مسائل کا باعث بنتا ہے، جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سرکاری سطح پر مدد، تحقیق اور ممکنہ سبسڈی کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
صدر کے اس بیان کے بعد ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس نے عوامی رائے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
ایک طبقہ اس اقدام کو عوامی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود کے لیے مثبت قدم قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان سمجھتا ہے اور ملک کو درپیش اہم معاشی اور سماجی مسائل کے حل پر زور دیتا ہے۔