نانی، دادی کی کہانیاں اور ان کا پیار کہاں کھوگیا ؟

October 30, 2019
 

معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے۔بالکل اسی طرح خاندان بھی افراد سے تشکیل پاتا ہے ۔یہ افراد ایک ہی چھت تلے مختلف رشتوں میں جڑ ے رہ کر زندگی بسر کرتےہیں ،ہر ماں باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اُن کا گھرانہ خوش حال ہو،جس میں ان کے بچے پیار و محبت سے بھر پور زندگی گزاریں ۔دنیا کی کڑی دھوپ، چھائوں ہویا ماحول کی سردی ،گرمی ،وہ سائبان ان کے بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو ۔اس کی بنیاد گھر کے ہر فرد کے درمیان اتحاد واتفاق پر ہوتی ہے ۔بنیاد اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک سب خلوص اور اپنائیت کے ساتھ رہتے ہیں ۔ایک دوسرے کی عزت واحترام کرتے ہیں ۔

لیکن اب معاشرہ دو خاندانی نظاموں میں بٹ چکا ہے ۔ایک اتفاق واتحاد سے عاری خاندان، جسے عام زبان میں اکائی خاندان کانام دیا جاتا ہے ۔اس نے اپنے خاندانی دائرے کی خوشی اور غم سے دور اپنی ایک الگ دنیا بسائی ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کو اپنے خاندانی دائرے کے کسی بھی مسئلے سے کوئی سروکار نہیںہوتا ۔عموماً اسے آزاد زندگی سمجھا جاتا ہے ،جس کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

دوسرا مشترکہ خاندانی نظام ہے، جس میں گھر کے بزرگ ،بچے اورجوان، سب مل جل کر پیار محبت سے رہتے ہیں ۔سب کا اپنا مقام اور مرتبہ ہوتا ہے اور سب اپنی حدود و قیود میں آزاد بھی ہوتے ہیں ۔ان کے دکھ ،سکھ سانجھے ہوتے ہیں۔ایک کوچوٹ لگتی ہےتو پورا گھر فکر مند ہوجاتا تھا۔اگر ایک فرد خوش ہوتا توپورا گھر اس کی خوشیوں میں شامل ہونا اپنا فرض سمجھتا ۔

ہر فیصلے میں بزرگوں کی رائے لی جاتی اور ان کےفیصلے پر سرِ تسلیم خم کردیا جاتا۔رشتوں کی ڈور بہت مضبوط ہوتی ہے ۔ہنستے مسکراتے یہ لوگ رشتوں کو اپنے خون سے سینچتے تھے ،یوں سمجھ لیں کہ گھر ایک مرکز ہوتا تھا اور پورا خاندان، چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک،ایک چھت تلے رہتا تھا۔

یہ تھا وہ اتحاد واتفاق جس کی وجہ سے خاندان کسی فرد کو کوئی مسئلہ لاحق ہو ،سب مل جل کر حل کر لیتے تھے ۔کوئی ایک پریشان ہوتا توسب پریشان ہوجاتے تھے ۔ یہ نظام تقریباً ہر گھر میں رائج تھا ،مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا،ویسے ویسے ہم میں یہ اتحاد اتفاق ختم ہوتا گیا ۔آج کا دور نفسانفسی کا ہے۔

ہر شخص دوسرے سے بے خبر نظر آتا ہے۔عموما لوگ ایک یا دوکمرے کے مکان میں الگ تھلگ زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں ۔ہم نے مغرب کی تقلید میں خاندانی محبت اور خلوص کا شیرازہ بکھیر دیا ہے ۔یہ سوچ ہمیں سمندر پار سے ملی ہے ۔گھر کے بزرگوں کے لیے اولڈ ہومز بنانے کا خیال بھی ہمیں وہیںسے ملاہے ۔

ہم لاشعور ی طور پر والدین،بزرگوں اور خاندانی نظام سے بہت دور ہوتے جارہے ہیں۔ہم نے اپنے آپ کو اس قدر مصروف کرلیا ہے کہ والدین اور بزرگوں کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل لگتا ہے ۔ابھی ہمیں یہ احساس نہیں ہے کہ ہم کتنی بڑی نعمت سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔یہ ایسی نعمت ہے جسے ہم ڈھونڈنے نکلیں تو شاید کبھی نہ پاسکیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دور بہت جدید ہے، لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہےکہ ہم اپنی تہذیب و ثقافت اور اخلاقیات کو بھول جائیں۔ موجودہ دور کے بچےاور نوجوان بہت ایڈوانس ہوگئے ہیں،تاہم اب بھی بہت سے گھرانے ایسے ہیں جہاں آج بھی بچوں کو لوریاں سنانے اور اخلاق سنوارنے والےقصے کہانیاں سنانے والی دادیاں اور نانیاں موجود ہیں اور وہ اب بھی اپنا فرض بہ حسن و خوبی نبھارہی ہیں۔

زندگی کے راستے پربچوں کا پہلا قدم اٹھوانے کے لیے دادا کی انگلیاں آج بھی پہلے والے جذبوں سےسرشار نظر آتی ہیں۔محبت میں گندھے یہ رشتے ننھے منے دلوں کو مسرت بخشتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی انگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر بچوں کو زندگی کے راستے پر اعتماد اور بہادری سے قدم اُٹھانا سکھاتے ہیں ۔

دادا ،دادی،نانا،نانی،پھوپھی،خالہ اورچچا ایسے خونی رشتےہیں جو محبت، خلوص اور اپنائیت سے بھرے ہوتےہیں۔ لیکن ہم جدید بننے کے چکر میں یہ سب رشتے فراموش کرتے جارہے ہیں۔مغربی طرزِزندگی اپنانے کی وجہ سےہماری معاشرتی،تہذیبی اور ثقافتی قدریں بدلتی جارہی ہیں ۔مشترکہ خاندانی نظام آج نہ ہونے کے برابر ہے ۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ تیز رفتار دور میںلوگ تنہائی پسند ہو گئے ہیں ۔اسی لیے وہ اکیلے زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں ۔ عدم برداشت اور تنہائی کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مل جل کر رہنے میں برکت ہوتی ہے ۔یہ نظام ہمارے غم اور پریشانیاں بانٹ کر ہمیں مایوسی کی دل دل میں اترنے سے بچاتا ہے۔اس نظام میں بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہوتی ہے ۔

آج ماں باپ سارا دن اپنے حصے کی ذمے داریاں اداکرنے میں مصروف اور بچوں کی طرف سے غافل رہتے ہیں ۔لیکن بچوں کو توبڑوں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر انہیں محبت اور توجہ نہ ملے تو وہ بری عادات کا شکار ہوجاتے اورغیر اخلاقی سر گرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پہلے کی نسبت آج ہمیں مشترکہ خاندانی نظام کی زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ جدید دور میں بچوں کے بگڑنے کے خطرات پہلے کی نسبت کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔