Advertisement

آزادی مارچ: نتائج کیا ہونگے اثرات کیا پڑیں گے؟

October 31, 2019
 

جمعیت العلمائے اسلام (فضل الرحمان) کا آزادی مارچ وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ اور نئے انتخابات کی تاریخ تو نہ لے سکا مگر مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو جیل سے ہسپتال منتقل کرانے اور نواز شریف کو ضمانت دلانے میں کامیاب ہوگیا۔ توقع ہے کہ آصف علی زرداری کو بھی عدالت سے طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی ملنے کا قوی امکان ہے کیونکہ دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنمائوں کو پلیٹ لٹس میں کمی جیسی بیماریاںلاحق ہیں عجیب اتفاق ہے کہ دونوں لیڈر دوسری پیچیدہ بیماریوں کے علاوہ پیلٹ لٹس جیسی بیماریوں سے دوبار اور حکومت اور حکومت کے قائم کردہ ڈاکٹرز بورڈز بھی ان کی بیماریوں کے سنگین ہونے کا اعتراف کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان میاں نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے بہت پریشان ہوگئے اور انہوں نے فوری طور پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری غلام سرور کو فون پر ہدایات دیں کہ میاں نواز شریف کو ہر ممکن جدید ترین علاج کی سہولتیں دی جائیں چنانچہ کیلئے کراچی سے بھی ڈاکٹر بلوائے گئے۔ اسی دوران مسلم لیگ ن والوں نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبی بنیادوں پر ضمانتوں کی درخواستیں دائر کردیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بڑے زیرک ہوشیار سیاستدان ہیں۔ انہوں نے آزادی مارچ کا اعلان کیا اور ملک میں ہلچل مچا دی اور حکومت کے بھی ہاتھ پائوں پھول گئے مگر اس آزادی مارچ کا جتنا نقصان کشمیر کاز کو ہوا اتنا شاید کبھی نہ ہوا ہو ۔

اس وقت دنیا بھر میں کشمیر کا مسئلہ زندہ ہوگیا بہت سے ممالک کی پارلیمنٹ میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھنا شروع ہوگئی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور غیر ملکی اراکین پارلیمنٹ بھارتی حکومت کے مظالم کرفیو کے نفاذ عدالتوں اور بچوں کے قتل پیلٹ گنوں کا استعمال کرکے بچوں نوجوانوں خواتین کو اندھا کرنے کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے مگر آزادی مارچ کی وجہ سے یہ آوازیں میڈیا پر دب گئیں بھارتی اور پاکستانی میڈیا پر آزادی مارچ آزادی مارچ کی ہی آوازیں آنے لگیں بھارت جو کشمیریوں پر مظالم پر دفاعی حکمت عملی کا شکار تھا اسے خاصہ ریلیف ملا۔ بھارتی میڈیا نے اور یورپی میڈیا نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو بہت کوریج دی۔

بہرحال مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی والوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی و مالی عیانت کی پہلے دونوں جماعتوں نے آزادی مارچ میں شرکت سے اجتناب کیا اور دبے دبے الفاظ میں حمایت کی ایک وقت ایسا بھی آیا مولانا فضل الرحمان بہت دلبرداشتہ ہوئے اور انہوں نے اکیلے ہی آزادی مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے تیاریاں شروع کردیں بلاول بھٹو نے پہلے صاف انکار کیا جبکہ مسلم لیگ ن بھی اس حوالے سے شدید اختلافات کا شکار رہی۔ مگر جب دونوں جماعتوں نے دیکھا کہ مولانا فضل الرحمان تو بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تو پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بھی کود پڑے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھتو نے مولانا فضل الرحمان سے پوچھا مولانا صاحب یہ بتائیں کہ میں کہاں سے آپ کے ساتھ آزادی مارچ میں شامل ہوں تو مولانا نے کہا کہ آپ سکھر سے آزادی مارچ میں شامل ہوں۔ مولانا جانتے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری سندھ سے ہی اپنے کارکنوں کو لاسکتے ہیں اور وہ 5 سے 10 ہزار لوگ لے آئیں گے جبکہ میاں نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں احسن اقبال بھی متحرک ہوگئے اور وہ اکرم درانی کی سربراہی میں قائم رہبر کمیٹی میں بیٹھنا شروع کردیا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے رہبر کمیٹی کو اپنے گھیرائو میں لے لیا اور مرضی کے فیصلے کرانے لگے۔ ادھر وزیراعظم عمران نے بھی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کیلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی قائم کر دی جس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی پنجاب کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی وفاقی وزیر شفقت محمود اسد عمر وغیر شامل تھے جبکہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی میں اکرم درانی کی سربراہی میں سیدنیئر بخاری احسن اقبال میاں افتخار طاہر بزنجو ہاشم بابر وغیرہ شامل تھے۔

دونوں فریقوں میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے مگر ناکام ہوگئے حکومت آزادی مارچ کا جلسہ پریڈ گرائونڈ میں کرنے کی اجازت پر ڈٹی تھی جبکہ اپوزیشن نے ڈی چوک چائنا چوک اور جناح چوک میں جلسہ کرنے کی اجازت مانگی مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوئے مگر جونہی حکومت نے میاں نواز شریف اور آصف زرداری کو ریلیف دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے انتہائی نرم رویہ اختیار کیا اور حکومتی مذاکراتی ٹیم آزادی مارچ کا ڈنک نکالنے میں کامیاب ہوگئی اور اس نے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے جمعیت العلمائے اسلام سے سات نکاتی ایجنڈے پر معاہدہ کر لیا اور سب سے اہم پوائنٹ آزادی مارچ کو پشاور موڑ کے قریب جلسہ کرنے کی اجازت دیدی گئی رہبر کمیٹی اور جمعیت العلمائے اسلام وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ اور نئے انتخابات کی تاریخ لینے کے بڑے مطالبے سے دستبردار ہوگئی بقول پرویز خٹک رہبر کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ ہی نہیں کیا اور نہ ہی ہم اس مطالبے پر بات کرنے کیلئے تیار تھے۔

لہذا جمعیت العلمائے اسلام نے ’’توپ کا لائسنس مانگا اور پستول کا لائسنس لینے میں کامیاب ہوئی یعنی حکومت نے آزادی مارچ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کرائی بشرطیکہ آزادی مارچ طے شدہ جگہ سے تجاوز نہ کرے۔ عوام کے جان ومال کو نقصان نہ پہنچے کوئی بھی شخص طے شدہ جگہ سے ادھر ادھر بالخصوص ریڈ زون کی طرف نہیں جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کہاں تک اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔


مکمل خبر پڑھیں