عراق، مظاہرین نے اراکین پارلیمنٹ کے گھر جلادیئے

November 07, 2019
 

بغداد (جنگ نیوز )عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے جہاں ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں کم ازکم 13 مظاہرین جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اب تک مجموعی ہلاکتیں سیکڑوںسے تجاوز کرگئی ہیں۔

Your browser doesnt support HTML5 video.

عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا

دوسری طرف عراق میں مظاہرین نے اراکین پارلیمنٹ کے گھروں کو نذر آتش کردیا ،دارالحکومت بغداد میں پلوں پر معرکہ آرا ئی ہوئی ،مظاہرین نے پلوں کو بند کردیا تھا ،فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے ،جھڑپوں کے دوران ایک اہلکار کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ یہ مظاہرے موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کیلئے ہو رہے ہیں جو مظاہرین کے نزدیک بدعنوان ہے ۔تفصیلات کے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھی گذشتہ راتوں کا منظر نامہ دہرایا گیا جہاں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان صورت حال کشیدہ رہی۔احتجاج کنندگان نے پُلوں کو بند رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا بالخصوص الاحرار اور الجمہوریہ پُل جو بغداد کے وسط میں واقع ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں بعض مظاہرین کے دم گھٹ گئے۔سیکورٹی فورسز نے منگل کے روز بتایا تھا کہ بغداد میں مظاہرین کے ساتھ خون ریز تصادم کے بعد الاحرار پُل کے دونوں جانب صورت حال کنٹرول میں ہے۔ اس تصادم کے نتیجے میں 7 مظاہرین ہلاک ہو گئے جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں میں سیکورٹی فورسز کا ایک اہل کار شامل تھا۔ادھر کربلا صوبے میں متعدد مظاہرین نے صوبائی حکومت کی عمارت پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ ملک کے جنوبی صوبے ذی قار میں کئی مظاہرین نے صوبے میں ارکان پارلیمنٹ کی رہائش گاہوں کو آگ لگا دی۔ غصے میں بپھرے ہوئے احتجاج کنندگان نے منگل کی شب الناصریہ شہر کے شمال میں الشطرہ کے علاقے میں تین ارکان پارلیمنٹ کے گھروں کو نذر آتش کر دیا۔دوسری جانب عراقی میڈیا کے مطابق احتجاج کنندگان نے جنوبی شہر بصرہ میں ام قصر کی بندرگاہ کی بندش کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی عراقی رصد گاہ کے مطابق ام قصر کے واقعات میں کم از کم 2افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔علاوہ ازیں دھرنا دینے والوں نے تیل کی تنصیبات اور اہم علاقوں کے نزدیک نئے دھرنوں کی دھمکی دی ہے۔ مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے استعمال کیے جانے والے اس کارڈ کا مقصد حکومت کو مستعفی ہونے کی طرف دھکیلنا ہے۔