نمازِ جمعہ میں فرض کے بعد بقیہ رکعات کی ادائیگی بھی ضروری ہے

November 08, 2019
 

تفہیم المسائل

سوال: نمازِ جمعہ میں اکثر لوگ دوفرض باجماعت اداکرکے چلے جاتے ہیں ، کیا یہ درست ہے ؟(محمد نعیم ،کراچی)

جواب: نمازِ جمعہ میں فرض کی ادائیگی کے ساتھ سُننِ مؤکدہ بھی ادا کرنی چاہئیں ،سوائے اس کے کہ کبھی کوئی ہنگامی صورتِ حال درپیش ہو ،مثلاً بس ،ٹرین یا فلائٹ کی روانگی کا وقت ہے یا کسی مریض کو ہنگامی طور پر ہسپتال پہنچانا ہے ،وغیرہ ۔نمازِ جمعہ میں دو رکعت فرض کے علاوہ دس رکعات (چار فرض سے قبل ، چار فرض کے بعد )سنت مؤکدہ اور دورکعت غیر مؤکدہ ہیں ۔ اگر وہ یہ بقیہ رکعتیں اپنے گھروں میں جاکر پڑھتے ہوں تو بہتر لیکن اگر سرے سے پڑھتے ہی نہ ہوں اور اُن ہی دو رکعت فرض پر اکتفا کرتے ہوں تو اُن کا یہ عمل شرعاً درست نہیں اور سنتِ مؤکدہ کے ترک کو معمول بنانے پر گنہگار ہوں گے۔

سنتِ مؤکدہ کی ادائیگی کی شریعت مطہرہ میں سخت تاکید آئی ہے ،بلا عذر سنت مؤکدہ کا چھوڑنا گناہ ہے ۔علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ سنت کی دوقسمیں ہیں ،ایک ’’سنّۃ الھدیٰ ‘‘ ہے اور اس کا ترک کرنا گناہ اور کراہیت کا سبب بنتا ہے ‘‘۔۔۔مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ علامہ حصکفی کا یہ قول: (تاکید کے ساتھ سنت قرار دیاگیا ہے )یعنی اس کا سنت ہونا تاکیدکے ساتھ ہے ،اس کے معنی یہ ہیں کہ باقی نوافل کے مقابلے میںشارع علیہ السلام نے زیادہ تاکید کے ساتھ اس کے کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،لہٰذا سنت مؤکدہ اس معنی میں واجب کے قریب ہے کہ اس کا ترک کرنا گناہ کا سبب ہے ،جیسا کہ ’’البحر ‘‘ میں ہے ۔سنت ِ مؤکدہ کے ترک کو عادت بنانے والا گمراہ ہے اورملامت کا سزاوار ہے، جیساکہ ’’التحریر ‘‘ میں ہے : یعنی جو سنت کو بلاعذر چھوڑے اور اس کے ترک پر اصرار کرے ،جیساکہ اس کی شرح میں ہے ،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد2،ص:392،بیروت)‘‘۔