مچھلی انسانی صحت کیلئے کتنی فائدہ مند ہے؟

صحت
December 19, 2019

یوں تو سارا سال ہی مچھلی کھائی جاتی ہے لیکن سرد موسم کے آتے ہی مچھلی کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور جگہ جگہ مچھلی کے اسٹالز نظر آنے لگتے ہیں۔ سرد موسم میں ’سی فوڈ‘ کھانا ہو تو عموماً مچھلی کا ہی انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں مچھلی کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں مثلاً پاپلیٹ، سرمئی، بام، رہو، گلفام، ٹراؤٹ، سلور، سنگھاڑا اورتھیلہ وغیرہ۔

Your browser doesnt support HTML5 video.

مچھلی صحت کیلئے انتہائی مفید

مچھلی کے شوقین افراد کہتے ہیں کہ سرد موسم میں گرما گرم مچھلی کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مچھلی نہ صرف ذائقہ میں لذیذ ہوتی ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد کا مجموعہ ہے۔ طبی ماہرین مچھلی کو اس سیارے پر پائی جانے والی صحت بخش غذاؤں میں سے ایک قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ انسانی صحت کے لیے مخصوص اور اہم ترین غذائی اجزاء مثلاًپروٹین اور وٹامن ڈی سے مالا مال ہوتی ہے۔ یہی نہیں، مچھلی کو دماغ اور جسم کے لیے ضروری غذائی جزو مثلاً اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا بھی اہم ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ آئیے آج کی تحریر میں مچھلی کے بیش بہا فوائد پر بات کرتے ہیں۔

غذائی اجزاء کی زائد مقدار

مچھلی ایسے بہت سے غذائی اجزاء سے مالامال ہے، جن کی کمی کا سامنا آجکل زیادہ تر افراد کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ان غذائی اجزاء میں اعلیٰ معیار کا پروٹین، آئیوڈین، مختلف وٹامنز اور منرلز شامل ہیں۔ چربی کی خاص اقسام بھی صحت بخش تصور کی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ چربی کی مخصوص مقدار رکھنے والی مچھلیاں مثلاً سامن، ٹراؤٹ، سارڈینز، ٹونا اورمیکریل انسانی جسم کو صحت بخش فوائد پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔ مچھلی کی ان قسموں میں وٹامن ڈی پایا جاتا ہے، جس کی کمی کاسامنا زیادہ تر افراد کو ہوتا ہے ۔

دماغی صحت کا فروغ

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کے دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت بھی کم ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ ہر عمر میں اپنے دماغی افعال کو بہتر رکھنا چاہتے ہیں تو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی خاص مقدار کو آپ کی غذا میں شامل ہونا ضروری ہے۔ طبی ماہرین ہفتے میں دو بار ڈی ایچ اے (اومیگا تھری کی قسم) کا حصول دماغی صحت کے لیے بہترین تصور کرتے ہیں۔ دوسری جانب مختلف مشاہدات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ افراد جو مچھلی کو باقاعدگی سے اپنی غذا میں شامل کرتے ہیں، ان میں عام افراد کی نسبت دماغی بیماریوں کا خطرہ کم پایا جاتا ہے۔

امراض قلب، فالج کے خطرے میں کمی

دنیا بھر میںقبل از وقت اموات کی دو سب سے عام وجوہات (امراض قلب اور فالج) ہیں۔ دل کو صحت مند رکھنے والی غذاؤں میں مچھلی کو سرفہرست تصور کیا جاتا ہے۔ مچھلی پر کی جانے والی مختلف تحقیقات سے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ جو افراد مچھلی کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں ان میں فالج، ہارٹ اٹیک اور دیگر قلبی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات کا خطرہ کم پایا جاتا ہے۔

امریکا میں 40ہزار مردوں پر مشتمل ایک مطالعے کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے کہ وہ افراد جو ہفتے میں ایک یا ایک سے زائد بار مچھلی کھاتے ہیںان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ عام افراد کی نسبت 15فیصد کم پایا جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اسے انسانی دل کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند غذا بناتا ہے۔

ڈپریشن سے چھٹکارا

موجودہ دور میںڈپریشن ایک عام دماغی مرض بن گیا ہے، جو کہ اداسی، مزاج کی خرابی، افسردگی، توانائی کی کمی اور جسمانی سرگرمیوں میںدلچسپی نہ ہونے جیسے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل مطالعے کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد مچھلی کا استعمال باقاعدگی سے کرتے ہیں ان میں ڈپریشن کے خطرات عام افراد کی نسبت 17فیصد کم پائے جاتے ہیں۔ ڈپریشن سے محفوظ رہنے کی خاص وجہ مچھلی میں پائی جانے والی چربی کی مخصوص قسم یعنی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ہی ہے۔

بچوں کی افزائش اور نشوونما

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کو افزائش اور نشوونما کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ اومیگا تھری کی ایک قسم ڈی ایچ اے (Docosahexaenoic Acid)جو کہ مچھلیوں میں پائی جاتی ہے ، وہ انسانی دماغ اور آنکھوں کے لیے اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ پر مشتمل غذائیں تجویز کرتے ہیں۔ تاہم مچھلی کی کچھ قسموں میں پائے جانے والے mercury(جو عام طور پر دماغی مسائل کی نشوونما کا سبب بنتا ہے) کے باعث حاملہ خواتین کے لیے ہفتہ بھر میں 12اونس سے زائد مچھلی کی مقدار نقصان دہ تصورکی جاتی ہے ۔

وٹامن ڈی کا اہم ذریعہ

وٹامن ڈی انسانی جسم میں ایک اسٹیرائڈ ہارمون کی طرح کام کرتا ہے (تقریباً41.6امریکی آبادی اس ہارمون کی کمی کا شکار ہے)۔ مچھلی کی کئی اقسام مثلاًسامن اور خار ماہی (ہیرنگ) وٹامن ڈی کا بہترین ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔113گرام پکی ہوئی سامن مچھلی کی مقدار میں 100فیصد وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔ وہ افراد جو روزانہ دھوپ سے فائدہ حاصل نہیں کرپاتے، ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ وٹامن ڈی کے حصول کے لیے مچھلی کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ ان کے جسم میںوٹامن ڈی کی کمی نہ ہو۔