صوبہ نہ بننے پر جنوبی پنجاب کے عوام مایوس

تجزیے اور تبصرے
December 19, 2019

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے عجیب کھچڑی پک رہی ہے، خود تحریک انصاف کے اندر اس حوالے سے اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ اس کا اظہار اس وقت ہوا جب پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ صوبہ کی ترمیم کرنے کے لئے تحریک انصاف کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔ جب وہ لاہور میں یہ کہہ رہے تھے تو ملتان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ اعلان کرتے ہوئے پائے گئے کہ جہانگیر ترین اور وہ خود جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور جلد ہی علیحدہ انتظامی یونٹ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل ڈیرہ غازی خان، ملتان کے دورہ پر آئے تو انہوں نے ایک نیا شوشا چھوڑ کر یہاں کے سیاسی قوم پرستوں کو احتجاج پر مجبور کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ علیحدہ صوبہ کے حق میں ہیں لیکن ڈیرہ غازی خان اور راجن پور بلوچ ثقافت کے حامل ہیں اس لئے انہیں سرائیکی صوبہ میں ضم ہونے کی بجائے بلوچستان کا حصہ بننا چاہیے۔

اختر مینگل نے یہ بات کرکے ایک نئے تنازع کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن ہمیشہ سے پنجاب میں شامل ہے اور وہاں سرائیکی بولنے والوں کی بھی بڑی اکثریت موجود ہے۔ اس سے پہلے کبھی بلوچستان کی طرف سے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا گیاکہ ڈیرہ غازی خان کو صوبہ بلوچستان میں شامل کیا جائے ۔ اس وقت جو مجوزہ جنوبی پنجاب کی انتظامی حدود متعین کی جاچکی ہیں ، ان میں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے علاقے شامل کئے گئے ہیں۔

اگرچہ سرائیکی تنظیموں کی طرف سے جھنگ، میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی سرائیکی صوبہ کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے لیکن جس پر حکومتی اور سیاسی جماعتوں کا اتفاق موجود ہے وہ تین ڈویژن ہی ہیں۔ پہلے ہی ایک اختلاف موجود ہے کہ بہاولپور اس مجوزہ صوبہ کا حصہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بہاولپور کی کچھ سیاسی طاقتیں اس کے ریاستی پس منظر کو پیش نظر رکھ کر بہاولپور صوبہ چاہتی ہیں ۔

اب اگر یہ دعویٰ بھی زور پکڑ جاتا ہے کہ بلوچی بولنے والے علاقوں کو جنوبی پنجاب میں شامل نہ کیا جائے تو علیحدہ صوبے کی ساری عمارت ہی منہدم ہوسکتی ہے۔خود سرائیکی صوبہ کے نام سے علیحدہ صوبہ مانگنے والے بھی ان اختلافات کے ذمہ دار ہیں کیونکہ اگر لسانی بنیاد پر صوبہ کا مطالبہ کیا جائے گا تو اس خطہ میں تو سرائیکی ہی نہیں پنجابی، بلوچی، ہریانوی اور روہتک حصار کی زبانیں بولنے والوں کی بڑی تعداد بھی مقیم ہے ۔ اگر زبان کی بنیاد پر حصے بخرے ہوتے رہے تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا ۔

پنجاب کی انتظامی تقسیم ہی واحد راستہ ہے جو عوام کو محرومیوں سے نجات دلا سکتا ہے۔ اس لئے جہاں اختر مینگل کو ایسی متنازع بات نہیں کرنی چاہیے وہاں سرائیکی قوم پرستوں کو بھی صرف لسانی بنیادوں پر علیحدہ صوبے کا مطالبہ کرتے ہوئے زمینی حقائق اور درپیش چیلنجوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو اس کے اندر اتنی سیاسی بلوغت نہیں ہے کہ وہ علیحدہ یونٹ یا علیحدہ صوبہ جیسا کوئی بڑا قدم اٹھا سکے۔