دیواروں پر لگے کیلنڈرز ہی نہیں، خود کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے

سنڈے میگزین
January 19, 2020

پیرزادہ شریف الحسن عثمانی، سکھر

ایک صاحب روزہ تو کبھی رکھتے نہیں تھے، مگر افطار کے لیے باقاعدگی سے مسجد حاضر ہوجایا کرتے ۔ ایک دِن کوئی طنز کر بیٹھا،’’کچھ صاحبان روزہ رکھیں نہ رکھیں، مگر افطاری کبھی قضا نہیں ہونے دیتے۔‘‘ یہ سُنتے ہی وہ صاحب تڑخ کر بولے،’’تو کیا بالکل ہی کافر ہو جائیں؟‘‘ اسی طرح ایک صاحب ایک مریل سے گدھے پر سوار کہیں جا رہے تھے اور ایک وزنی گٹھری سَر پر رکھی ہوئی تھی۔

سرِراہ ایک شناسا سے مڈبھیڑ ہو گئی،تو شناسا نے ازراہِ مروّت انہیں اپنے قیمتی مشورے سے نوازنا ضروری سمجھا،’’صاحب! ناحق گٹھری سَر پہ دَھری ہے، اِسے بھی گدھے پر کیوں نہیں رکھ چھوڑتے؟‘‘ وہ صاحب بدک کر بولے،’’ارے!سارا وزن بے زبان جانور پر ڈال دوں۔ اتنا ظالم اور بے حِس سمجھ رکھا ہے کیا؟‘‘ایسا ہی کچھ معاملہ تب پیش آتا ہے، جب آپ کسی سے پوچھ بیٹھیں کہ’’بھائی! کیا نیا سال منانا درست ہے؟‘‘اِسی لیے ہم نے اپنے تئیں ہی اِسے صوابدیدی اختیار کا معاملہ تسلیم کرلیا ہے۔

حالاں کہ بحیثیت مسلمان نئے عیسوی سال سے ہمارا کوئی دینی، قومی یا جذباتی تعلق نہیں، لیکن پھر بھی ہمارے خیال میں اس سے یک سر لاتعلقی بھی درست نہیں کہ تمام دُنیاوی معاملات، عام بول چال اور لین دین میں ہم اسے ہی استعمال میں لاتے ہیں۔

البتہ اس مرحلے پر ضرورت سے زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کرنا’’بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘والی بات محسوس ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو تو خیر شور و غل، سیر سپاٹے، کھانے پینے، موج مستی اور ہلّے گُلے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے، اسی لیے وہ نئے سال کے استقبال میں بَھرپور’’استقلال‘‘کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں، تاہم کچھ بزرگ اور’’نیم بزرگ‘‘بھی اس موقعے پر خاصے سرگرم دکھائی دیتے ہیں اور اس ضمن میں اُن کے پاس زندہ دِلی، بچّوں کی خوشی، زمانے کا ساتھ جیسے قدیمی دلائل موجود ہوتے ہیں۔ مخالفین میں سے جو ذرا شدّت پسند ہوں، وہ اسے غلامانہ ذہنیت کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔

ان کے نزدیک انگریزوں نے سو برس تک جو ہمیں غلام بنا کر رکھا، یہ سب اس کے اثرات و ثمرات ہیں۔ ہمیں تو یہ بات آج تک سمجھ نہ آسکی کہ آخر ہم اپنی ہر کمی، کوتاہی کی ذمّے داری ایک سو برس کی غلامی پر ڈال کر کِسے مطمئن کرنا چاہتے ہیں؟ آخر وہ کیسی سو سالہ غلامی تھی، جس کے داغ پچھتّر برس کی آزادی نہیں دھو پائی۔

مغلوں نے بھی تو اُن سے قبل331برس برِّصغیر پہ حکومت کی تھی، تو آج بھارت کی سرکاری زبان فارسی یا عربی کیوں نہیںاور ہماری انگریزی کیوں ہے؟سوچنے کا مقام ہے کہ ایک سو برس میں انگیزوں کا جتنا اثر ہم نے قبول کیا، برِّصغیر کی باقی اقوام نے مسلمان مغلوں کا تین سواکتیس برس میں کیوں نہیں کرلیا؟

بہرحال، ہم بات کر رہے تھے، نئے سال کی خوشیاں یا جشن منانے کی، تو اس ضمن میں ایک حکایت ہے۔ذرا پڑھیے۔ایک مرتبہ ایک شخص کو برس ہا برس کی محنت اور ریاضت کے بعد اپنے مقصد میں کوئی بہت بڑی کام یابی حاصل ہوگئی۔ وہ خوشی سے دیوانہ ہوگیا، خود پر قابو نہ رکھ سکا اور قہقہے لگاتا گلیوں میں نکل آیا۔ اتفاق سے اُس کا سامنا ایک سچ مچ کے دیوانے سےہوگیا۔

اس کو قہقہے لگاتا دیکھ کر وہ بھی قہقہے لگانے لگا۔ اب دونوں کو قہقہے لگاتا دیکھ کر راہ گیر بھی مُسکراتے ہوئے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ایک پورا مجمع قہقہوں میں شریک ہوگیا۔جب سب ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے، تو کچھ سلیم الطبع لوگوں کو معاملے کی کھوج ہوئی۔ تحقیق کے بعد بات سامنے آئی کہ ایک شخص تو اپنی کام یابی کی خوشی منا رہا تھا اور دیگر صرف اس کا ساتھ دے رہے تھے، جن میں سے ایک دیوانہ تھا اور باقی تماش بین۔

تو ہمیں بھی اپنی حالت کبھی دیوانے کی سی لگتی ہے، تو کبھی تماش بینوں جیسی، کیوں کہ کڑوی حقیقت یہی ہے کہ جس طرح ان افراد کے پاس ان کے قہقہوں کا کوئی جواز نہیں تھا، ٹھیک اسی طرح ہمارے پاس بھی’’اس طرح کے جشن‘‘منانے کا کوئی مقصد موجود نہیں ہے۔تاہم،جن لوگوں کی تقلید میں ہم یہ خوشیاں منانا چاہتے ہیں، انہوں نے تو تعمیروترقّی اور کام یابی و کام رانی کی چوٹیاں سَر کرلیں۔ وہ ان منزلوں پر پہنچ چُکے ہیں، جن کی سمت ابھی ہم نے چلنا بھی شروع نہیں کیا۔ اپنی مُلکی سالمیت، دفاع، معیشت، آپس کے تنازعات اور عوامی فلاح و بہبود کے تمام مسائل وہ یا توحل کر چُکے ہیں یا ان کے حل کے لیے لائحہ عمل متعیّن ہے۔

ہر نئے سال ان کی معیشت مزید مستحکم ہوجاتی ہے اور عوام مزید خوش حال۔پھر بھی ان کے’’تِھنک ٹینک‘‘دِن رات ترقّی کی راہیں کھوجتے رہتے ہیں اور سچ تو یہی ہے کہ جشن منانے کا حق بھی صرف وہی لوگ رکھتے ہیں، کیوں کہ آج دُنیا بَھر کی منڈیوں میں ان کی مصنوعات کے اعلیٰ معیار کا ڈنکا بجتا ہے۔عالمی معیشت میں ان کا سکّہ چلتا ہے، تو پاتال کی گہرائیوں سے خلائی گزرگاہوں تک ان کا جھنڈا لہراتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے میدانوں میں ان کے گُن گائے جاتے ہیں، سائنس، ٹیکنالوجی اور طب کے جہانوں میں ان کا طوطی بولتا ہے، دُنیا ان کی صِنعت و حرفت کا لوہا مانتی ہے۔

عالمی سیاست میں ان کے اثرورسوخ کا یہ عالم ہے کہ ہر قسم کے معلاملات میں یہ حقِ استرداد( ویٹو پاور)رکھتے ہیں اور ہماری بے چارگی کی یہ کیفیت ہے کہ ہم خود پر ہونے والی زیادتی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بھی ان کی اجازت کے محتاج ہیں۔ ہماری معیشت ان کی نظرِکرم کی مرہونِ منت ہے، وہ ہماری خود مختاری کو پاؤں تلے روند کر، دھڑلّے سے، دندناتے ہوئے ہماری سرحدیں پھلانگتے ہیں اور اپنے مجرم کو گرفتار کر کے لے جاتے ہیں اور ہم بے بسی سے انہیں آتا جاتا دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

مگر…یہ سب انہیں بیٹھے بٹھائے حاصل نہیں ہوگیا۔ اس کے پیچھے ان کی صدیوں کی محنت، لگن، مستقل مزاجی اور جدوجہد کا عمل دخل ہے۔چناں چہ آج ان کے حکم رانوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے لیے لاکھوں گھروں یا کروڑوں ملازمتوں کے جھانسوں اور اربوں درختوں کے سبز باغوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان کے یہاں حکومتی پالیسیوں کے مخالفین دھرنے دے کر، ہڑتالیں کرواکر یا قومی شاہ راہیں بند کر کے اپنی ہی معیشت کا گلا نہیں گھونٹتے۔

ان کے کروڑوں بچّے اسکولوں سے محروم گلیوں میں آوارہ گھومتے ہیں، نہ ہی کارخانوں کی بھٹّیوں میں اپنا بچپن جھونکتے نظر آتے ہیں۔ ان کے مریض بستروں کی کمی کے سبب اسپتالوں کی راہ داریوں میں ایڑیاں نہیں رگڑتے۔ یہ ان کی محنتوں اور جدوجہد کا حاصل ہے، جس کے دروازے پچھتّر سال سے ہماری بھی راہ دیکھ رہے ہیں۔ آج بھی اگر ہم اس راستے کو اپنالیں، اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر حال پر غور اور مستقبل کی فکر کریں ،تو شاید ہم بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ’’ نیا سال مبارک ہو۔‘‘یہ فیصلہ ہمیں آج اور ابھی کرلینا چاہیے کہ ہم ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے یا ان کے ازالے کی فکر کریں گے؟

آج کی موج مستی میں دوسروں کی کام یابی پر قہقہے لگائیں گے یا اپنے لیے بھی ترقّی کی راہیں تلاشیں گے؟ آنے والے کل کی فکر آج کریں گے یا کل بھی بیٹھ کر انگریزوں کی ایک سو سالہ غلامی کو کوسیں گے؟ اپنے مستقبل کی فکر ہمیں آج کرنی ہوگی۔کیوں کہ حقیقت یہی ہے کہ اپنے مستقبل کی فکر سے بے بہرہ لوگوں کے گھروں کی دیواروں پر لگے کیلنڈر تو بدلتے ہیں، لیکن ان کے حالات نہیں بدلتے کہ عاقبت نااندیشوں کی دہلیز پر تبدیلی کے نام پہ ہمیشہ تباہی ہی آیا کرتی ہے۔