رومان پروری، حقیقت پسندی میں ڈھلنے لگی

سنڈے میگزین
January 19, 2020

2019ء اس اعتبار سے بھی ایک منفرد سال تھا کہ اس دوران ہونے والے بعض فیصلوں نے پورے مُلک میں ایک ہل چل سی مچا دی، جن کے اثرات تا دیر باقی رہیں گے۔ گزشتہ برس حکومت اور اپوزیشن کے مابین روایتی دھینگا مشتی اورسیاسی قائدین و رہنمائوں کی گرفتاری و رہائی کے علاوہ اداروں کے درمیان تصادم کی فضا بھی پیدا ہوئی۔ تاہم، ان نازک لمحات میں جذباتیت پر مصلحت و فراست غالب آئی اور ایسا محسوس ہوا کہ رومان پروری کی جگہ حقیقت پسندی لینے لگی ہے۔ ذیل میں گزشتہ برس رُونما والے اہم سیاسی حالات و واقعات سلسلہ وار پیشِ خدمت ہیں۔

جنوری:وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ اور جعلی اکائونٹس کیس میں پی پی قیادت سمیت دیگر ایک سو سے زاید افراد کے نام ای سی ایل پر ڈالے، تو عدالتِ عظمیٰ نے حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے ان ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے کی ہدایت کی۔ جعلی اکائونٹس کیس میں بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں وزیرِاعلیٰ سندھ، سیّد مُراد علی شاہ کا نام سامنے آنے پر ان کے خلاف کارروائی کے پیشِ نظر گورنر راج اور اِن ہائوس تبدیلی کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اس موقعے پر پی ٹی آئی نے حکومت سازی کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سے رابطہ کیا۔

نیز، پی پی میں فارورڈ بلاک بننے اور حکومت سازی کے لیے نمبرز پورے ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ مگر ایم کیو ایم اور پیر پگارا نے تبدیلیٔ حکومت کے عمل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور یوں پی ٹی آئی کی سندھ میں حکومت سازی کی کوششیں دَم توڑ گئیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے کافی ثبوت پیش نہ کیے جانے پر اصغر خان کیس ختم کر دیا گیا، جب کہ سپریم کورٹ نے سابق صدور، آصف علی زرداری اور پرویز مشرّف اور سابق اٹارنی جنرل، ملک قیوم کے خلاف این آر او کیس ختم کر دیا۔ مُلک میں صدارتی نظامِ حکومت کے قیام کی بازگشت سُنائی دی۔ سانحۂ ماڈل ٹائون پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خاتمے کی خبروں میں شدّت آنے پر پی پی نے اسے وفاق کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

ایئر مارشل (ر) اصغر خان کے فرزند اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما، علی اصغر خان نے اپنے والد کے کیس کی پیروی کے لیے درخواست دی۔ پی ٹی آئی نے آصف علی زرداری کی نا اہلی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد واپس لے لیا۔ مہمند ڈیم کا ٹھیکہ مُشیرِ تجارت، عبدالرّزاق دائود کو ملنے پر ایک نئے تنازعے نے جنم لیا اور پی پی نے نیب سے رجوع کرلیا۔ سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکائونٹس کیس نیب کے حوالے کرتے ہوئے مقدّمے کی از سرِنو تفتیش اور بلاول بُھٹّو اور مُراد علی شاہ کے نام ای سی ایل اور جے آئی ٹی سے نکالنے کا حُکم دیا۔ جماعتِ اسلامی نے ایم ایم اے سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ وزیرِ اعظم، عمران خان کی ہم شِیرہ، علیمہ خان کی امریکی ریاست، نیو جرسی میں بھی جائیداد سامنے آئی۔

سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلّی کے خلاف دائر کی گئی اپیل مسترد کر دی۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دبائو بڑھانے کے لیے اپوزیشن قائدین کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس موقعے پر بلاول بُھٹّو نے اپوزیشن کے درمیان ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ پر زور دیا۔ عدالتی فعالیت کا مظاہرہ کرنے والے چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار اپنے عُہدے سے سبک دوش ہو گئے اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاکستان کے 26ویں چیف جسٹس کا حلف اُٹھایا۔ وفاقی کابینہ نے سیّد مُراد علی شاہ اور بلاول بُھٹّو کے نام ای سی ایل سے نکال دیے۔

اپوزیشن نے قانون سازی اور فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے 12رُکنی کمیٹی تشکیل دی۔ پی پی نے فوجی عدالتوں میں توسیع کی مخالفت کی، جب کہ نون لیگ نے سوچ بچار کے لیے وقت مانگا۔ اتحادی جماعتوں نے اپنے مطالبات کے ذریعے حکومت پر دبائو بڑھانا شروع کیا۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے جعلی اکائونٹس کیس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

فروری:نئی پارلیمنٹ کے قیام کے 5ماہ اور 22روز بعد بالآخر قومی اسمبلی کی 36قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں آئی۔ حکومت نے نویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے چاروں صوبوں سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ میاں نواز شریف کو خرابیٔ صحت کی بنا پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز اسپتال، لاہور منتقل کر دیا گیا ۔ اس دوران ’’ڈِیل اور ڈھیل‘‘ کی خبریں بھی تواتر سے سامنے آئیں۔ آف شور کمپنیاں اور آمدن سے زاید اثاثے بنانے اور اختیارات کے غلط استعمال پر نیب نے پنجاب کے سینئر وزیر، علیم خان کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد وہ وزارت سے مستعفی ہو گئے۔ جعلی اکائونٹس کیس کے مرکزی گواہ، اسلم مسعود کو ایف آئی اے نے اسلام آباد ایئر پورٹ سے حراست میں لے لیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز مقدّمات میں شہباز شریف کو رہا کرنے کا حُکم دیا۔

انہیں نیب، لاہور نے 5اکتوبر 2018ء کو آشیانہ ہائوسنگ کیس میں تعلق ثابت ہونے پر گرفتار کیا تھا۔ نیب نے آمدن سے زاید اثاثوں اور سرکاری فنڈز میں خورد بُرد کے کیس میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر، آغا سراج دُرّانی کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔ شاہد خاقان عبّاسی ایل این جی اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب، روال پنڈی کے دفتر میں پیش ہوئے اور نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے سوالات کے جوابات دیے۔

بھارتی دھمکیوں کے جواب میں وزیرِ اعظم نے قوم سے خطاب میں بھارت کو پلوامہ حملے کی تحقیقات اور مذاکرات کی پیش کش کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہنے کا عندیہ بھی دیا۔سانحۂ ماڈل ٹائون کی تحقیقات کے لیے بننے والی نئی جے آئی ٹی نے شہباز شریف، حمزہ شہباز، چوہدری نثار اور رانا ثناء اللہ کو طلب کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطّلی کی درخواست مسترد کر دی اور میاں نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی۔

مارچ:پنجاب کے وزیرِ اطلاعات، فیّاض چوہان کو ہندو برادری سے متعلق نازیبالفاظ استعمال کرنے پر وزارت سے فارغ کر دیا گیا۔ کوٹ لکھپت جیل میں میاں نواز شریف کی ناسازیٔ طبیعت کی خبریں سامنے آئیں۔بلاول بُھٹّو نے جیل میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقعے پر از سرِ نو میثاقِ جمہوریت اور حکومت کے خلاف سخت احتجاج کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس نیب، اسلام آباد کو منتقل کر دیا ۔ دریں اثنا، سابق صدر کے وکیل، فاروق ایچ نائیک نے سندھ ہائی کورٹ میں بینکنگ کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔

سانحۂ ماڈل ٹائون پر بننے والی جے آئی ٹی نے کوٹ لکھپت جیل جا کر میاں نواز شریف کا بیان ریکارڈ کیا۔ بلاول بُھٹّو کی زیرِ قیادت پی پی نے حکومت کے خلاف کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ کیا، جسے حکومت نے ’’ابّو بچائو تحریک‘‘ قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے طبّی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو 6ہفتوں کے لیے رہا کر دیا۔ تاہم، اُن کے بیرونِ مُلک جانے پر پابندی عاید کی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا۔ حزبِ اختلاف نے نیب کے قوانین میں ترمیم کے لیے معاونت کو نیشنل ایکشن پلان پر پارلیمنٹ میں بریفنگ سے مشروط کر دیا۔ وزیرِاعظم نے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرّری پر قائدِ حزبِ اختلاف سے ملاقات سے انکار کر دیا۔

اپریل:نیب کی کارروائیوں میں تیزی آئی۔ منی لانڈرنگ پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے شہباز شریف کی ماڈل ٹائون میں واقع رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔ تاہم، گارڈز اور لیگی کارکنوں کی مزاحمت کے باعث گرفتاری ممکن نہ ہو سکی۔ نیب کی ہدایت پر وفاقی حکومت کی جانب سے شاہد خاقان عبّاسی، حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور پاکستان اسٹیل ملز کے سابق سربراہ، معین آفتاب کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دینے کی خبریں سامنے آئیں۔ منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر کیے گئے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فردِ جُرم عاید کر دی۔ بلور خاندان اور اے این پی کی قیادت کے درمیان اختلافات منظرِ عام پر آئے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ، اسد عُمر نے اپنے عُہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وفاقی کابینہ میں ردّ و بدل کیا گئی۔ اس موقعے پر اپوزیشن نے کابینہ میں غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کی شمولیت، بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کی بطور وزیرِ داخلہ تقرّری اور اسد عُمر کی برطرفی کے طریقۂ کار پر تنقید کی۔

مئی:میاں شہباز شریف کی لندن سے واپسی کے التوا کے پیشِ نظر مسلم لیگ (نون) کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے پی اے سی کا چیئرمین اور پارلیمانی لیڈر بدلنے کی منظوری دی۔ اجلاس میں رانا تنویر کو پی اے سی کا نیا چیئرمین اور خواجہ آصف کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نام زد کیا گیا، جب کہ شاہد خاقان عبّاسی اور مریم نواز کا پارٹی کا نائب صدور کے طور پر انتخاب ہوا۔ طبّی بنیادوں پر ضمانت میں توسیع اور علاج کی غرض سے لندن جانے کی درخواست مسترد ہونے پر میاں نواز شریف کوٹ لکھپت جیل منتقل ہو گئے۔

قومی اسمبلی نے خیبر پختون خوا کے قبائلی اضلاع کی قومی اور صوبائی نشستوں میں اضافے سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم کی متّفقہ منظوری دی۔ بلاول بُھٹّو کی دعوت پر منعقد ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی افطار پارٹی میں عید بعد منہگائی کے خلاف تحریک چلانے اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس افطار پارٹی میں مریم نواز بھی شریک ہوئیں۔ پی ٹی ایم نے شمالی وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں5فوجی اہل کار شدید زخمی ہوئے۔

حملے پر اُکسانے والوں میں ارکانِ قومی اسمبلی، علی وزیر اور محسن داوڑ بھی شامل تھے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کائونسل میں آمدن سے زاید اثاثوں / اثاثے چُھپانے کے خلاف ریفرنس دائر کیا، جسے اپوزیشن نے عدلیہ پر حملہ قرار دیا۔

جون:جعلی اکائونٹس کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر نیب نے آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا اور اگلے ہی روز حمزہ شہباز کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ اسی روز لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی پر الطاف حسین کو گرفتار کیا۔ تاہم، بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

بجٹ پیش ہونے کے بعد وزیرِ اعظم نے گزشتہ دس برسوں (2008ء سے 2018ء) کے دوران لیے گئے قرضوں کی انکوائری کے لیے آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، ایس ای سی پی، آڈیٹر جنرل آفس، ایف آئی اے اور دیگر محکموں پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا۔ نیب نے جعلی اکائونٹس کیس میں کارروائی کرتے ہوئے فریال تالپور کو گرفتار کر لیا، جب کہ پنجاب کے وزیرِ جنگلات، سطبین خان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ مریم نواز اور بلاول بُھٹّو زرداری کی جاتی اُمراء میں ملاقات ہوئی۔

بجٹ سیشن کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خوب گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ اسپیکر نے اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے زرداری اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرز جاری کر دیے۔نیز، حکومت نے با آسانی بجٹ منظور کروا لیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کی طبّی بنیادوں پر درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔ مریم نواز نے شہباز شریف کی جانب سے حکومت کو تجویز کردہ ’’میثاقِ معیشت‘‘ کی مخالفت کی۔ متّحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریکِ عدم لانے اور احتجاج کے لیے رہبر کمیٹی تشکیل دی۔

جولائی:مسلم لیگ (نون) کے رہنما، رانا ثناء اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے گاڑی میں کئی کلو گرام ہیروئن لے جانے کے جُرم میں گرفتار کر لیا، جسے اپوزیشن نے انتقامی کارروائی قرار دیا۔ مریم نواز شریف ایک پریس کانفرنس میں، جس میں شہباز شریف اور شاہد خاقان عبّاسی سمیت مسلم لیگ (نون) کے دوسرے رہنما بھی موجود تھے، احتساب عدالت کے جج، ارشد ملک کی متنازع آڈیو، ویڈیو ٹیپ منظرِ عام پر لائیں۔ گرچہ ارشد ملک نے اسے مسترد کیا، لیکن انہیں عُہدے سے سُبک دوش کر دیا گیا۔

اسی اثنا میں متّحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ، صادق سنجرانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروائی اور حاصل بزنجو کو اپنا امیدوار نام زد کیا۔ جواب میں حکومت نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی۔ برطانوی جریدے، ڈیلی میل نے شہباز شریف اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد پر زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے ملنے والی رقم میں لاکھوں پائونڈز کی خورد بُرد کا الزام عاید کیا، جسے مسترد کرتے ہوئے شہباز شریف نے برطانوی عدالت سے رجوع کا اعلان کیا۔ ایل این جی اسکینڈل میں نیب نے سابق وزیرِ اعظم، شاہد خاقان عبّاسی اور سابق وزیرِخزانہ، مفتاح اسمٰعیل کو گرفتار کر لیا۔

خیبر پختون خوا کے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 16نشستوں پر انتخابات ہوئے، جن میں آزاد امیدواروں نے 7اور پی ٹی آئی نے 5نشستیں حاصل کیں، جب کہ مسلم لیگ (نون) اور پی پی کے حصّے میں کوئی سیٹ نہیں آئی۔ گھوٹکی کے حلقہ این اے 205میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پی پی کے امیدوار، محمد بخش مہر نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار، علی بخش مہر کو شکست دی، جسے اپوزیشن نے حکومت سے عوام کی مایوسی کا اظہار قرار دیا۔ متّحدہ اپوزیشن نے عام انتخابات 2018ء میں مبیّنہ دھاندلی پر یومِ سیاہ منایا۔

اگست:حکومت اور متّحدہ اپوزیشن کی جانب سے بالتّرتیب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحاریک پر خفیہ رائے شماری ہوئی، تو حیرت انگیز طور پر ایوانِ بالا میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسترد ہو گئی۔

نتیجتاً، اپوزیشن کے 14سینیٹرز کی وفاداری مشکوک ہو گئی اور اسے حزبِ اختلاف میں دراڑ سے منسوب کیا گیا۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی تحریکِ عدم اعتماد پر ہونے والی خفیہ رائے شماری میں تحریک کے حق میں 36ووٹ پڑے، جب کہ اپوزیشن نے پولنگ میں حصّہ نہیں لیا۔ اپوزیشن نے اپنی اس ناکامی پر حکومت پہ ہارس ٹریڈنگ کا الزام عاید کیا۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کی مذمّت کے لیے طلب کیے گئے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف رہے۔ نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو حراست میں لے لیا اور اس کیس میں میاں نواز شریف سے تفتیش کا آغاز کیا۔

جج ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف کی سزا ختم یا برقرار رکھ سکتی ہے۔ اگر متاثرہ فریق نے ویڈیو سے فائدہ حاصل کرنا ہے، تو اسے ایک الگ درخواست دینا ہو گی۔ اس موقعے پر چیف جسٹس، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا یہ بھی کہنا تھاکہ جج ارشد ملک کا طرزِ عمل پورے ادارے پر بدنُما داغ ہے، ان کا ماضی مشکوک رہا ہے۔یاد رہے، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ اسکینڈل میں میاں نواز شریف کو سزا سُنائی تھی۔

قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف اور پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے بلوچستان اور سندھ کے ارکان کے ناموں کا فیصلہ نہ ہونے پر صدرِ پاکستان نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دونوں ارکان مقرّر کر دیے۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے چیئرمین، سردار رضا خان نے ان ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔

ستمبر:حکومت نے جی آئی ڈی سی کی مد میں صنعت کاروں کے 208ارب روپے صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے معاف کرنے کا فیصلہ کیا، جسے اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی شدید تنقید پر چند روز بعد ہی واپس لے لیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کی گرفتاری اور صوبائی حکومت کی تبدیلی کے سلسلے میں آغا سراج دُرّانی کی قیادت میں پی پی میں فارورڈ بلاک بننے کی خبروں نے زور پکڑا۔ اس عرصے میں لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب میں آصفہ بُھٹّو کی شمولیت کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا گیا کہ وہ مُراد علی شاہ کے بعد وزیرِ اعلیٰ یا اپوزیشن لیڈر کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ اور اسلام آباد لاک ڈائون کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں سے رابطے شروع کیے۔ وفاقی وزیرِ قانون، بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آرٹیکل 149کا نفاذ ناگزیر ہو چُکا ہے، جس کے تحت شہر کا انتظامی کنٹرول وفاق سنبھالے گا، جب کہ سندھ حکومت نے مزاحمت کی تیاریاں شروع کر دیں۔ صدرِ مملکت، عارف علوی نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اس دوران اپوزیشن نے نہ صرف احتجاج کیا، بلکہ ارکانِ اسمبلی کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

دریں اثنا، بلاول بُھٹّو نے کہا کہ کراچی پر قبضے کی باتیں وفاق کو کم زور کرنے کی سازش ہیں اور بنگلادیش کے بعد سندھو، سرائیکی اور پختون دیش بھی بن سکتے ہیں۔ صدر کے مقرّر کردہ دو نئے ارکان سے حلف نہ لینے پر حکومت نے چیف الیکشن کمشنر، سردار رضا خان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت کے لیے اہل قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کی درخواست خارج کر دی۔ آمدن سے زاید اثاثوں کے الزام میں نیب نے پی پی کے سینئر رہنما اور رُکنِ قومی اسمبلی، خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈی جی پارکس، لیاقت قائم خانی کی جعلی اکاؤنٹس اور آمدن سے زاید اثاثہ جات کیس میں نیب کے ہاتھوں گرفتاری عمل میں آئی۔

سرکاری افسر کے محل نُما گھر سمیت دیگر اثاثوں کی مالیت کا اندازہ 10ارب روپے لگایا گیا۔ جسٹس عیسیٰ کیس میں آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے 10ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو جج ویڈیو اسکینڈل میں نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دے دی۔

اکتوبر:میاں نواز شریف نے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فضل الرحمٰن سے رابطے کی ذمّے داری بیرونِ مُلک مقیم اپنے بیٹے، حسین نواز کو سونپ دی۔ اس موقعے پر مارچ میں شرکت کے حوالے سے میاں برادارن کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئیں۔ تاہم، مسلم لیگ (نون) نے ان کی تردید کر دی اور پھر مارچ میں بھرپور انداز سے شرکت اور دھرنے سے گریز کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے وزیرِاعظم سے استعفے کے مطالبے پر اتفاق کیا۔ کنوینر، اکرم خان دُرّانی کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں دھرنے کی حمایت کرتی ہیں۔

العزیزیہ ریفرنس کیس میں اپنی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل میں میاں نواز شریف نے جج اسکینڈل کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سُنے بغیر ہی معاملے کے پیرا میٹرز طے کر دیے گئے، لہٰذا ویڈیو اسکینڈل میں اُن کا مؤقف بھی سُنا جائے، جب کہ ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار، ناصر بٹ نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک الگ درخواست جمع کروائی کہ نواز شریف کی اپیل کے ساتھ اضافی شواہد پر مبنی دستاویزات بھی لگانے کی اجازت دی جائے۔ لاڑکانہ کے حلقہ پی ایس 11میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پی پی کے امیدوار، جمیل سومرو کو جی ڈی اے کے امیدوار، معظّم علی کے ہاتھوں 5ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

قبل ازیں، اسی نشست پر آصفہ بُھٹّو کو ٹکٹ دینے کی خبریں سامنے آئی تھیں، لیکن کم زور پوزیشن کے سبب جمیل سومرو کو ٹکٹ دیا گیا۔ میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہونے پر انہیں سروسز اسپتال، لاہور منتقل کر دیا گیا اور میڈیکل بورڈ نے اُن میں سفید خلیے ٹوٹنے کی بیماری، ایکیوٹ امیون تھرمبو سائٹو پینیا تشخیص کی۔ اسی عرصےمیں آصف علی زرداری اور مریم نواز کو بھی ناسازیٔ طبیعت کی بنا پر جیل سے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے طبّی بنیادوں پر شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی ضمانت منظور کر لی۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور جے یو آئی (فے) کے مابین معاہدے میں طے پایا کہ آزادی مارچ ایچ نائن اتوار بازار میں منعقد ہو گا۔

کراچی کے علاقے، سہراب گوٹھ سے آزادی مارچ کا آغاز ہوا۔ قبل ازیں، جلسے سے مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ پی پی، مسلم لیگ (نون) اور اے این پی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے خطاب کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں میاں نواز شریف کی طبّی بنیادوں پر سزا معطّل کرتے ہوئے 8ہفتوں کے لیے ضمانت منظور کر لی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ عدم صحت یابی کی صورت میں مزید مہلت کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کیا جائے۔ آزادی مارچ پنجاب میں داخل ہوا، تو قمر الزّمان کائرہ کے سوا پی پی اور مسلم لیگ (نون) کے کسی رہنما اور کارکن نے اس میں شمولیت اختیار نہیں کی، جس پر مولانا نے دبے الفاظ میں دونوں بڑی جماعتوں سے اس کا شکوہ بھی کیا۔

نومبر:اسلام آباد میں مارچ سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے وزیرِ اعظم کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ عوامی سمندر وزیرِاعظم کو گرفتار کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘ انہوں نے ’’اداروں‘‘ کو غیر جانب دار رہنے کا مشورہ دیا۔ جلسے سے شہباز شریف، بلاول بُھٹّو اور محمود اچکزئی سمیت اپوزیشن کے دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔ انٹر پول نے حکومتِ پاکستان کی درخواست پر لندن میں مقیم سابق وزیرِ خزانہ، اسحٰق ڈار کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں کلین چِٹ دیتے ہوئے ڈیٹا حذف کرنے کی ہدایت کی۔

دھرنا ختم کرنے کے لیےجے یو آئی (فے) اور وفاقی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو گئے۔ اس موقعے پر چوہدری برادران اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں اور پھر حکومت نے مولانا سے مذاکرات کا اختیار چوہدری پرویز الٰہی کو سونپ دیا۔ مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہائی مل گئی اور پھر میاں نواز شریف اور اُن کی صاحب زادی سروسز اسپتال سے جاتی اُمراء منتقل ہو گئے۔ سرکاری میڈیکل بورڈ نے میاں نواز شریف کی حالت کو تشویش ناک قرار دے دیا، جس پر حکومت نے انہیں علاج کے لیے بیرونِ مُلک جانے کی اجازت دے دی۔

البتہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ نیب کے سُپرد کر دیا اور نیب نے گیند وزارتِ داخلہ کی کورٹ میں پھینک دی۔ دریں اثنا، سابق وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ پر انتہائی نگہداشت کا مرکز قائم کر دیا گیا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں ایک ہی دن میں متعدد آرڈی نینس منظور کروانے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن نے اسمبلی قواعد کی خلاف ورزی پر ڈپٹی اسپیکر، قاسم سوری کے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کروائی۔ حکومت نے میاں نواز شریف کو علاج کی غرض سے بیرونِ مُلک جانے کی مشروط اجازت دے دی۔

کابینہ کی ای سی ایل کمیٹی نے شرط عاید کی کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے میاں نواز شریف کو 7سے 7.5ارب روپے کے ایمنسٹی بانڈز جمع کروانے کے علاوہ 4ہفتوں میں وطن واپس آنا ہو گا۔ مسلم لیگ (نون) نے یہ شرائط مسترد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کا فیصلہ کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ’’پلان بی‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے آزادی مارچ ختم کر کے مُلک بھر میں احتجاج کا فیصلہ کیا۔ آصف علی زرداری نے ناسازیٔ طبیعت کی بنا پر درخواستِ ضمانت دائر کرنے سے انکار کر دیا اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے ساتواں ریفرنس بھی دائر کر دیا۔

اسی عرصے میں حیران کُن طور پر پارلیمنٹ میں ماحول خوش گوار ہو گیا اور حکومت نے 11آرڈی نینس، جب کہ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد واپس لے لی۔ لاہور ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کو بیرونِ مُلک جانے کی مشروط حکومتی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے انہیں اپنے بھائی، شہباز شریف کے ساتھ چار ہفتوں کے لیے بیرونِ مُلک جانے کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی مزید کہا کہ اگر اس دوران نواز شریف کی حالت بہتر نہیں ہوتی، تو مدّت میں توسیع ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے کو حکومت اور مسلم لیگ (نون) دونوں نے اپنی جیت قرار دیا۔ بعد ازاں، میاں نواز شریف، شہباز شریف کے ساتھ ایئر ایمبولینس پر لندن روانہ ہو گئے۔

رہبر کمیٹی نے مُلک بھر کی شاہ راہیں کھولنے اور ضلعی سطح پر جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے الیکشن کمیشن کی عمارت کے سامنے احتجاج کیا، تو ای سی پی نے غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں مسلم لیگ (نون) اور پی پی کے کھاتے کھول دیے اور دونوں جماعتوں کے نمایندوں کو اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بلوچستان حکومت سمیت کئی عُہدوں کی پیش کش کا دعویٰ کرتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے تک چیف الیکشن کمشنر کی مدّت میں توسیع کا مطالبہ کیا۔

رہبر کمیٹی نے ’’پلان سی‘‘ کے تحت مُلک گیر مظاہروں کا اعلان کیا۔ سپریم کورٹ نے آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن معطّل کرتے ہوئے آرمی چیف، وزارتِ دفاع اور اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کر دیے۔ وزیرِ قانون، بیرسٹر فروغ نسیم آرمی چیف کی وکالت کے لیے کابینہ سے مستعفی ہو گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومتی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو مشرّف کیس کا فیصلہ سُنانے سے روک دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے آرمی چیف کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف دائر درخواست کا مختصر فیصلہ سُناتے ہوئے ملازمت میں 6ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں 28مئی 2020ء تک قانون سازی کرنا ہو گی۔

دسمبر:حکومت نے آرمی چیف کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کی خاطر آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطے کے لیے پرویز خٹک، اسد عُمر اور شاہ محمود قریشی پر مشتمل ایک تین رُکنی کمیٹی تشکیل دی۔ الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور دو ارکان کی تقرّری پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا۔

مریم نواز نے اپنے علیل والد کی عیادت کے لیے ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخوا ست لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی۔ مسلم لیگ (نون) نے آرمی چیف کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مجوّزہ آئینی ترمیم اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرّری سمیت دیگر امور میں حکومت سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کیس اور جعلی بینک اکائونٹس کے دو ریفرنسز میں آصف علی زرداری کی طبّی بنیادوں پر ضمانت منظور کر لی۔ لاہور میں سیکڑوں وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر چڑھائی کی اور اس دوران صوبائی وزیرِ اطلاعات، فیّاض چوہان کو بھی تشدّد کا نشانہ بنایا۔ پرویز مشرّف نے غدّاری کیس کا ٹرائل روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ 17دسمبر کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے سنگین غداری کیس میں سابق صدر، پرویز مشرّف کو سزائے موت کا حُکم دیا۔

اس ضمن میں آئی ایس پی آر کا یہ بیان سامنے آیا کہ اس فیصلے پر فوج میں غم و غصّہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ فریال تالپور اور خورشید شاہ کی ضمانتیں منظور ہوئیں۔ بعد ازاں، پرویز مشرّف کا یہ بیان سامنے آیا کہ فیصلہ مشکوک ہے اور انہیں دفاع کا حق نہیں دیا گیا۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار سیٹھ کی جانب سے مشرّف کو ڈی چوک میں لٹکانے کے ذکر پر فوج کا شدید ردِ عمل سامنے آیا، جب کہ اس موقعے پر حکومت کا کہنا تھا کہ مذکورہ جج کا ذہنی توازن دُرست نہیں۔

چیف جسٹس، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقعے پر کہا کہ اُن پر مشرّف کیس پر اثر انداز ہونے کا الزام بے بنیاد ہے۔ کابینہ کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کر دی۔ نیب نے مسلم لیگ (نون) کے سیکریٹری جنرل، احسن اقبال کو نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے میں بد عنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا اور خورشید شاہ کی رہائی معطّل ہو گئی۔ لاہور ہائی کورٹ نے منشّیات برآمدگی کیس میں مسلم لیگ (نون) کے رہنما، رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور کر لی۔

پرویز مشرّف کے خلاف خصوصی عدالت کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فُل بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ مریم نواز کے صاحب زادے، جنید صفدر اعوان نے باقاعدہ طور پر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ایل این جی کیس میں لیگی رہنما، مفتاح اسمٰعیل ضمانت پر رہا ہوئے اور رانا ثناء اللہ بھی جیل سے باہر آ گئے۔ وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی درخواست دائر کر دی۔ راول پنڈی کے لیاقت باغ میں منعقدہ شہید بے نظیر بُھٹّو کی 12ویں برسی کی تقریب میں بلاول نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے 2020ء میں اسے الوداع کرنے کا دعویٰ کیا۔

صدرِ پاکستان نے نیب ترمیمی آرڈی نینس 2019ء کی منظوری دی، جس کے بعد تاجر نیب کے دائرے سے باہر ہو گئے۔ پرویز مشرف نے اپنی سزا کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے نیب ترمیمی آرڈی نینس اور واجد ضیا کی بطور سربراہ ایف آئی اے تقرّری کی مخالفت کر دی۔ ایک بار پھر آصفہ بُھٹّو کی سیاست میں اینٹری کی خبریں سامنے آئیں اور بلاول نے حکومت گرانے کے لیے ایم کیو ایم کو سندھ میں وزارتوں کی پیش کش کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے حکومت کو مزید 15روز کی مہلت دے دی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں رانا ثناء اللہ کی ضمانت کے معاملے پر ڈی جی اے این ایف، میجر جنرل عارف ملک اور وزرا میں تلخی پیدا ہوئی۔ پرویز مشرّف کو سزائے موت سُنائے جانے پر مسلم لیگ (نون) کی جانب سے توقّعات کے مطابق ردِ عمل سامنے نہ آنے پر بعض طبقات کی جانب سے حیرت کا اظہار کیا گیا اور ’’ووٹ کو عزّت دو‘‘ کے بیانیے پر اصرار کی بجائے خاموشی اختیار کرنے کو مصلحت پر مبنی حکمتِ عملی بھی قرار دیا گیا۔

دوسری جانب یکے بعد دیگرے اپوزیشن رہنمائوں کی ضمانت و رہائی سے پی ٹی آئی کے حامیوں میں مایوسی پھیل گئی اور انہوں نے احتساب کے نعرے کو محض ڈھکوسلا قرار دیا، جب کہ بعض حلقوں نے اسے حکومت کی معاملہ فہمی سے تعبیر کیا۔