عراقی عوام کا امریکا کے خلاف شدید احتجاج

عالمی منظر نامہ
January 15, 2020

عراق کی پارلیمان نے بھاری اکثریت سے قائم مقام وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی پیش کردہ قرارداد بھاری اکثریت سے منظورکرلی کہ امریکی فوجی اپس جائیں۔ اس قرارداد کی سنی اور کرد اراکین نے مخالفت کی اور پارلیمان سے باہر چلے گئے، جب کہ عراق میں جاری بڑے مظاہروں اور احتجاج میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم ایک علاقے میں مظاہرین نے ایرانی فوجیوں شیعہ ملیشیا کے انخلا کے بھی نعرے لگائے۔ عراق کے قائم مقام وزیراعظم نے کہا ہےکہ تمام غیرملکی فوجی اور ملیشیا کے جنگجو عراق سے چلے جائیں۔

اس حوالے سے ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ کچھ امریکی فوجی عراقی فوجیوں کی تربیت کے لئے یہاں رہیں۔ اس کے لئے امریکا اور عراقی حکومت ایک نیا معاہدہ کرے،مگر عوام کی اکثریت غیر ملکی فوج کی فوری واپسی کے لئے زور دے رہی ہے۔ عراقی وزیراعظم نے امریکا کو خط لکھا کہ امریکا ایک وفد عراق بجھوائے تاکہ عراق امریکی فوجیوں کے انخلاء کا پروگرام ترتیب دے سکے۔

امریکی وزارت خارجہ نے عراقی وزیراعظم کی تجویز مسترد کردی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی پارلیمان کی قرارداد کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر عراقی حکومت امریکی فوجیوں کا انخلاء چاہتی ہے تو امریکہ نے عراق میں جو فوجی اڈے ایئرپورٹ تعمیر کرنے اور اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں وہ واپس کئے جائیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر عراق نے امریکی فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ جاری رکھا تو اس پر بھی سخت اقتصادی پابندیاں لگادی جائیں گی عراق میں ایرانی جنرل سلیمانی کے ہمراہ عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی ہلاک ہوئے تھے جس کی وجہ سے عراقی عوام میں امریکا کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مظاہروں میں پرجوش نعروں کے ساتھ یہ بنیر بھی بڑی تعداد میں نظر آرہےہیں، جس پر لکھا ہے ’’اپنی جنگ عراق سے دور رکھو‘‘۔ ہجوم میں اکثر یہ نعرے بھی سنائی دیتے ہیں کہ امریکی، برطانوی اور ایرانی سب عراق سے نکل جائو۔ عراقی وزیراعظم نے ایک بیان میں امریکاسے شکوہ بھی کیا کہ ایک عرصے سے امریکی فوجی عراق میں موجود ہیں مگر عراقی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا جبکہ دونوں ممالک کے مابین معاہدہ موجود ہے کہ ہر کارروائی ایک دوسرے کے علم میں لائی جائے گی مگر امریکہ معاہدہ کے خلاف عمل کرتا رہا ہے۔

امریکی وزیردفاع مارک اپ نے پینٹاگون کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کافی الحال عراق سے اپنے فوجی واپس بلانے کا کوئی منصوبہ زیرغور نہیں ہے، جب کہ امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو خط عراقی حکومت کو دیا گیا ہے و ہ بہت سادہ ہے جس میں صرف اس پر زور دیا ہے کہ امریکا کا فوجیوں کو واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ عراقی اور امریکی حکومتوں کے مابین ایک جامع معاہدہ موجود ہے کہ امریکی عراق میں داعش اور دیگر انتہا پسندوں کے خلاف لڑیں گے۔ فی الوقت عراق میں امریکا کے پانچ ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں جنہوں نے عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، مگر عراق میں امریکی مخالف جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں اور مظاہروں نے عراقی حکومت کو پریشان کر رکھا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہےکہ عراق اور امریکہ کے مابین معاہدے میں داعش کے خلاف لڑنا اور عراقی فوجیوں کو تربیت دینا ہے،تاہم ہمارا مشن پورا نہیں ہوا ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ عنقریب دونوں ممالک حالات کا جائزہ لے کر یہ طے کرسکتے ہیں کہ عراق میں کتنے فوجیوں کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف عراق میں سنی مسلک اور کرد ،رہنمائوں کا خیال ہے کہ عراق میں حالات نارمل نہیں ہیں اور داعش سمیت دیگر انتہا پسندوں کا اثر باقی ہے۔ وہ کسی بھی وقت سر اٹھا سکتے ہیں۔

کہا جاتا ہےکہ عراق میں اکیاسی ممالک کے فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہیں ،جس میں زیادہ بڑی تعداد امریکی فوجیوں کی ہے جو پانچ ہزار سے زائد ہیں۔ دوسرا بڑا دھڑا نیٹو کے فوجیوں کا ہے۔ نیٹو اور دیگر اتحادیوں کا کہنا ہےکہ ہم امریکی فوجیوں کی مدد کے بغیر اپنی جدوجہد اور مشن جاری نہیں رکھ سکتے،کیونکہ جو صلاحیت اور سکت امریکی فوج کے پاس ہے وہ سب اتحادیوں کو میسر نہیں ہے۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں نیٹو کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کو عراق میں اپنا مرکزی کردار ادا کرنا چاہئے ،جب کہ وہاں برطانیہ چار سو فوجی اور جرمنی کے صرف ایک سو بیس فوجی ہیں۔ وفد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھ نہیں سکے آخر امریکی صدر ٹرمپ کے زمین میں عراق کے لئے کیا منصوبہ ہے،کیونکہ امریکی صدر نے عراق کے اس مطالبہ کوکہ عراق سے امریکی فوجوں کو واپس بلوایا جائے بہت سخت موقف اختیار کیا اور عراق کی اقتصادی پابندیوں کے علاوہ اس کے امریکہ کے فیڈرل ریزوبینک میں جو اکائونٹ ہے اس کو روکنے کی بھی دھمکی دے ہے۔ ایسے میں یورپی نمائندے تذبذب کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ کہا جارہا ہے کہ امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ عراق میں مزید پندرہ سو فوجی بجھوانے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ امریکی عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ عراق میں صورتحال مزید خراب ہوتی تو امریکہ ساڑھے تین ہزار فوجی مزید وہاں تعینات کردے گا۔

امریکی کمانڈوز کا دعویٰ ہے کہ عراق میں داعش اور اس کے اتحادی گروہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پھر اپنے کو منظم کرسکتے ہیں جبکہ موصل سے انہیں نکالنے کے بعد اور شام میں امریکی بمباری سے داعش بہت کمزور ہوگئی ہے اور اس کے خلافت قائم کرنے کے دعوے کو بھی شدید صدمہ اٹھانا پڑا پھر بھی اس کی قوت ختم نہیں ہوئی البتہ بکھر گئی ہے جس کو جاری حالات میں یکجا کرکے پھر سے منظم ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپی ممالک کو شدید خدشات لاحق ہیں کہ اگر دوبارہ منظم ہوئی تو ضرور یورپی ممالک کو نشانہ بناسکتی ہے۔ اس لئے وہ امریکہ کی عراق میں موجودگی کو ضروری تصور کرتے ہیں۔ بیشتر امریکی بھی یہی سوچ رہے ہیں۔

واقعہ یوں ہے کہ 2003میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کے صدر صدام حسین پر کیمیاوی ہتھیار رکھنے اور جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی جدوجہد کا الزام لگاکر عراق پر حملہ کردیا اور صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد انہیں ہلاک کردیا گیا تب سے عراق انتہا پسندی، دہشت گردی اور عدم سیاسی استحکام کے پھیرے میں آیا ہوا ہے۔ ہزاروں عراقی گرفتار، ہلاک اور جلا وطن ہوئے۔

عراق میں امریکا اور یورپ مخالف گروہ بن گئے۔ ابو غریب جیل کے قیدی جیل توڑ کر فرار ہوئے ،بعد ازاں دولت اسلامیہ کے نام سے داعش سامنے آئی جس نے القائدہ اور دیگر انتہا پسند مذہبی گروپوں کو ساتھ ملاکر عراق اور شام میں خلافت قائم کرنے کے دعوے کے ساتھ دہشت گرد کارروائیاں شروع کردیں۔ تاہم 2011میں امریکہ اور نیٹو ممالک نے عراق میں مداخلت کرکے داعش کو جو موصل میں عراقی تیل کے کنویں پر قابض ہوگئی تھی اس کو وہاں سے ہٹایا اور شدید امریکی بمباری نے داعش کو نقصان پہنچایا جو پھر شام کی طرف چلے گئے۔

جولائی 2018میں بغداد اور نجف میں عوامی احتجاج شروع ہوا جو ملک میں کرپشن، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف تھا جس نے بعد میں اپنا اچانک ڈھنگ بدل دیا اور پرامن مظاہرے اشتعال انگیز نعروں اور پرتشدد احتجاج میں بدل گئے۔ اس اثناء میں حزب اللہ کی اتحادی عراقی شیعہ ملیشا نے چار امریکی سویلین کو نشانہ بناکر ہلاک کردیا۔ جس کے ردعمل میں امریکی فوجیوں نے ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں پچیس جنگجو ہلاک ہوگئے۔ اس پر عراقی عوام کا ردعمل سامنے آیا اور پھر ایک بڑا مظاہرہ امریکی سفارت خانہ پر ہوا جو بعد میں مشتعل ہوگیا اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔

عراق میں امریکی سفارت خانہ مشرقی وسطیٰ کا سب سے بڑا سفارت خانہ ہے اور بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر امریکی صدر ٹرمپ نے بقول ان کے انہوں نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ٹارگٹ کرکے ہلاک کرنے کا حکم دیا۔ جس میں جنرل قاسم اور ان کے ساتھی ہلاک ہوگئے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی چار امریکی سفارت خانوں پرحملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ جس پر عراق، ایران اور دیگر ممالک میں امریکا کے خلاف بڑے مظاہرے اور غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں عراق میں امریکی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔