مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل حق خودارادیت ہے، شفقت اقبال

یورپ سے
January 22, 2020

وٹفورڈ ( نمائندہ جنگ ) مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل صرف حق خودارادیت ہے۔حق خودارادیت کے حصول تک بھارت کے خلاف آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔بھارت نے کشمیر کو دو ریاستوں میں تقسیم کر کے خطے کا امن دائو پر لگادیا ہے۔ کشمیر ی عوام جبری تقسیم کو تسلیم نہیں کرتے،بھارت نے کشمیر کی جبری تقسیم کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ ناقابل اعتبار ملک ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادیں منظور کرنے کے باوجود کشمیر میں دہشت گردی کے راستے پر گامزن ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل مسلم کانفرنس وٹفورڈ برطانیہ کے رہنما شفقت اقبال تبسم ، ذوالکفل نوابی ، ظہیر الدین اور داؤد رحیم نے مشترکہ بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اقوام متحدہ اور یو این سیکورٹی کونسل بھارت کے خلاف اقتصادی وسفارتی پابندیاں عائد کرتا لیکن اقوام متحدہ اور یو این سیکورٹی کونسل نے بھارتی جارحیت پر مسلسل خاموشی اور بے حسی کے ساتھ واضح پیغام دے دیا ہے کہ اسے مسئلہ کشمیر اور سوا دو کروڑ انسانوں کے مستقبل سے کوئی لینا دینا نہیں آج جب کہ بھارت عالمی برادری میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر جانا جانے کے باوجود مفادات کو اہمیت دی جا رہی ہے اور کشمیریوں کی طرف کوئی نہیں دیکھ رہا ۔ رہنماؤں نے کہا کہ نریندرمودی کا پہلا دور حکومت بھی مسلمانوں پر عذاب سے کم نہیں تھا لیکن اس بار تو تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں ہر شہر میں مسلمانوں کو آر ایس ایس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں پولیس کی سرپرستی میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ روزانہ درجنوں مسلمانوں کی شہادت کی خبریں مل رہی ہیں سوشل میڈیا پر بھی ان دہشت گردوں کی غنڈہ گردی کی وڈیوز بھری پڑی ہیں لیکن سوائے ایک آدھ کے کسی بھی ملک کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ وہ مودی دہشت گرد کو اس دہشت گردی سے باز کر سکے ۔ مودی سرکار کے آگے مظلوم کشمیریوں کے حق کی بات کرنا بھینس کے آگے بین بجانےکے برابر ہے رہنمائوں نے کہا کہ جب تک مودی سرکار موجود ہے مسئلہ کشمیر سمیت پورے بھارت کے مسلمانوں کی زندگی کو خطراہ لاحق ہے ۔