’’کرونا، کام والی اور ہم‘‘

April 24, 2020

کرونا وائرس کے مریضوں میں دن بدن اضافے کے ساتھ ساتھ ہم سب کے اضطراب میں بھی شدت آتی جا رہی ہے ۔آج جب کچھ لکھنے کا سوچا تو حالات نے کسی اور موضوع پر لکھنے کا خیال ہی نہیں آنے دیا کیونکہ دماغ میں " کرونا وائرس" کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں لیکن اس بار میں اپنے قارئین کی پریشانی میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی تھی بلکہ دل چاہ رہا تھا کہ کچھ ایسی بات کی جائے جو اس ٹینشن زدہ ماحول میں آپ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دے۔

تو پیارے قارئین موضوع تو آج بھی یہی " کم بخت کرونا "ہے جس کا شکار تو خدا کسی کو نہ کرے لیکن اس کی ایک ہلکی سی مار سب کو پڑی ہے جس میں خواتین سر فہرست ہیں۔ آفس والے "آن لائن" کام کر رہے ہیں، اسکول،کالج بند ہیں، مرد اور بچے گھروں میں ہیں یوں گھر کے کاموں میں اضافہ ہوا ہے اور " کام والی یعنی ماسی " کو بھی کرونا کے خطرے کے پیش نظر گھروں میں آنے سے منع کردیا گیا ہے۔۔اُف۔۔۔ اب آپس کی بات ہے ہم خواتین کی عادت کہاں رہی ہے کہ ہم اتنے کام خود کریں سو سب عورتوں کا کام کر کر کے برا حال ہوچکا ہے مرد بے چارے کوشش بھی کرتے ہیں کہ ہاتھ بٹاسکیں لیکن اول تو انہیں ان لائن کام سے فرصت نہیں ملتی دوسرے اکثر مرد کام اتنا پھیلا کے کرتے ہیں کہ خواتین کہتی ہیں کہ اس سے بہتر تھا خود ہی کر لیتی۔

آج کل جن گھروں میں چوبیس گھنٹے رکنے والی ماسی ہے ان کے مزے ہیں باقی زیادہ تر نے ماسیوں کو آنے سے منع کردیا ہے لیکن اب میں نے دیکھا ہے کہ کچھ گھروں میں ماسیوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو چکی ہے ۔ میں یہاں دوسروں کی نہیں بلکہ اپنی بات کرونگی بلکہ سب کچھ سچ سچ بتادونگی کیونکہ" اپنے قارئین سے کیا چھپانا "۔ ہوا یہ کہ جب کرونا کا خطرہ بڑھا اور لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو ہم نے بھی اپنی ماسی کو فون کردیا کہ " ماسی ابھی تم کام پر نہ آنا" یہ سن کر ماسی کی بانچھیں کھلتی فون میں سے بھی محسوس ہو گئیں پھر اس پر مہربانی فرماتے ہوئے ہم نے یہ بھی کہہ دیا کہ "جب چاہو اپنی تنخواہ آکر لے جانا" پیسوں کی کسے ضرورت نہیں ہوتی ماسی بولی کہ " باجی میں کل ہی پیسے لینے آجاوں گی۔ " اب باجی یعنی میں یہ سنکر ڈر گئیں اس وقت تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ماسی ہاتھ میں کرونا لیے نمودار ہوگی۔

صبح ہوتے ہی میں نے ماسی کی تنخواہ ریک پر رکھ دی اور گھر میں سب سے کہہ دیا کہ جب ماسی آئے تو اسے گھر میں گھسنے نہیں دینا بلکہ گیٹ پر ہی پیسے دے کر روانہ کر دینا ، جب بیل بجتی میں بھاگ کر جاتی کہ کہیں ماسی گھر میں نہ گھس آئے خیر دوپہر کو ماسی نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو پیسے لیکر چلا گیا ماسی بھی کم نہیں ہے اس نے بھی سوچا ہوگا کہ اگر وہ پیسے لینے خود آگئی تو کہیں ہم کام نہ کروالیں بہرحال نیا نیا لاک ڈاؤن شروع ہوا تھا ہم بڑے پر جوش تھے خوب بھاگ بھاگ کر گھر کے کام کیے گئے اور صاف ستھرا گھر اور کچن دیکھ کر اپنی ہی کمر تھپتھپائی گئی جب کپڑے دھونے کی باری آئی تو واشنگ مشین لگائی کپڑے دھلے اور دھلے دھلائے کپڑے دیکھ کر میاں صاحب کے سامنے خوب اپنی تعریفیں کیں کہ" اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا تو مزا ہی کچھ اور ہے اور دیکھیں کپڑے بھی کتنے صاف دھلے ہیں ۔

سرف اور پانی بھی کم خرچ ہوا ہے یہ ماسیاں تو اتنا سرف اور پانی ضائع کرتی ہیں پھر بھی کپڑے صاف نہیں دھلتے" میاں بھی ہمارے ہاتھ کی گرم گرم روٹیاں کھا کر بہت خوش تھے ۔ جب دوسری بار واشنگ مشین لگانے کی باری آئی تو گھر کے کام کر کر کے ہمت ذرا ڈھل چکی تھی میلے کپڑے جمع تھے اور کمر اکڑ چکی تھی میاں کو ہماری ٹیڑھی چال پر رحم آگیا انہوں نے آفر دی کہ " لاؤ میں کپڑے دھو دیتا ہوں" ہم جو عام دنوں میں انہیں کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے " اندھا کیا چاہے دو آنکھیں" کی طرح جھٹ سے راضی ہوگئے بے چارے میاں جی نے دل لگا کر کپڑے دھو دیے کپڑے دھل گئے اللہ کے شکر کے ساتھ ساتھ میاں کا بھی شکریہ ادا کیا اور پھر کاموں میں مصروف تیسری بار ہم نے خود اس وقت مشین لگا کر کپڑے دھولیے جب میاں کو ایک دن کسی ضروری کام سے آفس جانا پڑا کیونکہ اب ہمیں شرم آرہی تھی کہ ہم ان سے کپڑے دھلوائیں ۔

لاک ڈاؤن کو بارہ دن گزر چکے تھے شروع میں جو ہم کونے کونے سے جھاڑو نکال رہے تھے اب بالکل اپنی ماسی کی طرح سامنے سامنے کی صفائی کرنے پر مجبور ہوگئے ڈسٹنگ کرتے ہوئے بھی فرنیچر سے نظریں چراتے کبھی اسے ڈانٹنے کا دل چاہتا کہ ابھی کل ہی تو تجھے صاف کیا تھا پھر گندہ ہوگیا ؟ منہ ہر وقت اتنا برا بنا رہنے لگا کہ اگر دن میں بھولے بھٹکے کبھی آئینے پر نظر پڑ جاتی تو خود سے ہی نفرت ہوجاتی۔جب کھڑکیاں دروازے پنکھے دھول مٹی سے اٹے دکھنے لگے جس کی طرف دیکھو ایسا لگتا ہم سے کہہ رہا ہو کہ ہمیں بھی تو صاف " کرونا" , کمر اور ٹانگوں کے درد نے راتوں کی نیندیں اڑادیں تو سوچا کیوں نہ ایک دن ماسی کو بلاکر باہر باہر یعنی کار پورچ اور گلیوں کی صحیح سے صفائی کروائی جائے۔

رات ماسی کو فون کیا کہ کل آجانا باہر باہر کی صفائی کر جانا ماسی نے کھنکھناتی ہوئی آواز میں "اچھا باجی" ایسے کہا جیسے " بس ہوگئی باجی" کہہ رہی ہو اس بار بھی ماسی کے لہجے کا تمسخر برا محسوس ہوا لیکن کیا کریں مجبوری تھی گھر والوں کو تھوڑا اعتراض بھی ہوا کہ ماسی کو کیوں بلا رہی ہیں تو بچوں سے یہی کہا کہ گھر میں تھوڑی آنے دیں گے باہر باہر سے کام کرکے چلی جائے گی اس دن ہوا بھی یہی ماسی کے ہاتھ سینی ٹائیزر سے صاف کرواکے کام کروایا اور وہ باہر باہر سے ہی چلی گئی لیکن دو دن بعد جب چھت دھونے دوبارہ بلایا تو اپنے کپڑے بھگو کے رکھ دیے کہ یہ بھی دھو دینا جب اس نے کپڑے دھو لیے تو ہم نے اپنے دل کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیا کہ اتنی دیر سرف میں ہاتھ رہنے سے جراثیم خود ہی مر مرا گئے ہونگے اپنے کمرے اور لاونج کی صفائی بھی کروالیتے ہیں میاں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ ایک بار کپڑے وہ بھی دھو چکے تھےاور ہم نے خود انہیں گھٹنے پکڑ پکڑ کر چلتے دیکھا تھا ۔

جب صفائی شروع ہوئی تو بیٹی بولی " میں اپنے کمرے کی صفائی اس سے نہیں کرواؤ نگی خود کر لونگی " ہم نے کہا جو تمہاری مرضی ۔ ہم نے ماسی سے کام کروا یا اور دو دن بعد پھر آنے کو کہہ دیا تو بہنوں اور بھائیوں آج وہ صبح ہی آگئی تھی سب سے پہلے کپڑے دھلواکر اس کے ہاتھ جراثیم پروف کروائے پھر صفائی شروع ہوئی تو بیٹی کی آواز آئی " امی میرا کمرا بھی صاف کروا لینا " ماسی سے کپڑے تو وہ پہلے ہی دھلوا چکیں تھیں اب وہی ماسی جس کا تنخواہ لینے آتے وقت بھی گھر گھسنا ممنوع تھا آج گھر میں دندناتی پھر رہی تھی بس دعا کیجئے گا کہ اللّٰہ اسے اور ہمیں ہر بیماری سے بچائے ہم نے سوچا ہے کہ جب پیسے بھی ہم اسے پورے مہینے کے دینگے تو اسی طرح وقتاً فوقتاً بلا کر کام کرواتے رہیں گے اب اللہ ہمارے اس ارادے کی لاج رکھ لے۔ ہائے۔۔

زندگی میں اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے کیسے سبق دے رہا ہے " کام والی ماسی" بھی اللہ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے جس کی اس طرح قدر ہم واقعی نہیں کرتے تھے جیسا کہ کرنا چاہئے، ہمیں اس سے شکایتیں ہی رہتی تھیں جو بےچاری ہمارے گھروں میں کام کرنے اپنے بچے اور گھر کے آرام کو چھوڑ کر چار پیسے کمانے آتی ہے تاکہ اپنی زندگی کو کچھ بہتر بناسکے۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ اللّٰہ تعالی جلد از جلد ہمیں اس وبا سے نجات دےاور اپنی کوئی بھی نعمت دینے کے بعد ہم سے واپس نہ چھینے اور ہمیں ہمیشہ اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنائے۔ آمین