اردو سے زیادہ نعتیہ کلام دنیا کی کسی زبان میں موجود نہیں

May 17, 2020

ڈاکٹر ریاض مجید کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ 1964 ء میں ایم اے کرنے کے بعد 1981 ء میں’’ اُردو نعت گوئی‘‘ میں پنجاب یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اِس دَوران درس و تدریس سے وابستگی کے ساتھ کئی اعلیٰ انتظامی عُہدوں پر بھی فائر رہے۔’’ نعت اکیڈمی، فیصل آباد‘‘ کے ڈائریکٹر کے علاوہ کئی اشاعتی اداروں کے سربراہ ہیں۔

ان کے زیرِ انتظام تقریباً 500کتب شایع ہوچُکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی مختلف موضوعات مثلاً تحقیق، تنقید، غزل، نظم، قطعات وغیرہ پر 35کتب کے مصنّف ہیں۔ گزشتہ دنوں پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید سے برّصغیر پاک و ہند میں اُردو نعت کے ارتقاء پر خصوصی بات چیت ہوئی، جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

س:نعت کا یہ پودا، جس نے حجازِ مقدّس میں جنم لیا، برّصغیر میں کس طرح پروان چڑھا؟

ج: برّصغیر میں نعت گوئی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ قدیم ترین نعت گو شعراء کا کلام اگرچہ ٹوٹی پھوٹی یا یوں کہہ لیجیے، اُردو کی ابتدائی شکل میں ہونے کے باوجود عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہی ٹوٹے پھوٹے لفظ اب وقت گزرنے کے ساتھ جدید نعت گو شعراء کے ایسے خُوب صُورت الفاظ میں ڈھل گئے ہیں کہ اُنھیں سُن کر انسان وجد میں آ جاتا ہے۔

جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے، تو برّصغیر پاک و ہند میں اُردو کی ابتدا مسلمانوں کی آمد سے ہوئی۔ محمّد بن قاسم سے شہاب الدّین غوری تک کم و بیش 500 سال کے عرصے میں برّصغیر کے بہت سے علاقوں میں مسلم حکومتیں قائم ہوئیں، مگر وہ دمشق، بغداد یا غزنی کے مراکز کے ماتحت تھیں۔ غوری حکومت کے خاتمے کے بعد جب قطب الدّین ایبک نے سلطنتِ ہند پر قبضہ کیا، تو مسلمانوں کی پہلی خود مختار حکومت کا قیام عمل میں آیا۔

برّصغیر میں مسلمانوں کی آمد نے یہاں کی ثقافتی، سماجی، مذہبی، لسانی اور ادبی فضا پر گہرے اثرات مرتّب کیے۔ عربی، تُرکی اور فارسی نے مقامی بولیوں کے ساتھ مل کر ایک نئے لسانی اظہار کو جنم دیا، جو بعد میں اُردو کے نام سے موسوم ہوا۔ اس زبان نے آہستہ آہستہ مُلک گیر زبان کا مقام حاصل کر لیا۔ مقامی زبانوں میں فارسی، تُرکی اور عربی الفاظ، خیالات اپنی جگہ بنانے لگے۔ یہی لسانی عمل سرحد اور پنجاب میں بھی ہوا۔ بعدازاں یہ زبان بول چال کی سطح سے بلند ہو کر شعر و ادب اور تصنیف و تالیف کی زبان بن گئی۔ صوفیائے کرامؒ نے تبلیغِ دین کے لیے عربی اور فارسی کے مقابلے میں اسی نئی زبان کو ترجیح دی۔

س:اِس کا یہ مطلب ہوا کہ برّصغیر میں فارسی اور دیگر زبانوں کی بجائے ابتدائی نعتوں کا سہرا اُردو کے سَر ہے؟

ج:نہیں۔ برّصغیر میں عربی اور فارسی شاعری کو بہرحال نعت گوئی کے آغاز اور ارتقاء کا کریڈٹ دینا پڑے گا۔ البتہ یہ اور بات کہ بعد میں یہ دونوں زبانیں پیچھے رہ گئیں اور اُردو میں نعت گوئی کا پودا انتہائی تیزی سے پروان چڑھنے لگا۔ عربی اور فارسی کو یہ کریڈٹ اِس لیے بھی جاتا ہے کہ یہ زبانیں اظہار و بیان کے ابتدائی مراحل سے گزر کر پختہ ہو چُکی تھیں۔ اگر اُس دَور کے اوّلین نمونوں کا ذکر کیا جائے، تو حضرت خواجہ نواز گیسو دراز کے اشعار کو پہلی نعت قرار دیا جاتا ہے۔ اُن کی نعت کا ایک شعر ہے؎’’اور معشوق بے مثال ہے نور نبیؐ پایا…نور نبی رسولؐ کا او میرے جیو میں بہایا۔‘‘تاہم، بعض محققّین خواجہ گیسو درازؒ کی بجائے فخر الدّین نظامی کی مثنوی کو اُردو نعت کا باقاعدہ اوّلین اور مستند مجموعہ قرار دیتے ہیں، جس میں سنسکرت الفاظ کا زیادہ استعمال کیا گیا۔ صوفیائے کرامؒ کا کلام بھی اوّلین نعتیہ مجموعوں کا اہم اثاثہ ہے۔

مثلاً ساڑھے پانچ سو سال قبل حضرت سیّد برہان الدّین کی کتاب’’ جمعات شاہی‘‘ میں نعت کا یہ مصرع ملتا ہے؎’’محمّد ؐپر مَیں کھڑیا سائیں پریم چکھائے۔‘‘جنوبی ہند میں جب 200سال قائم رہنے والی قطب شاہی سلطنت کا آغاز ہوا، تو گویا نعت گوئی کو ایک حیاتِ تازہ مل گئی، کیوں کہ اس سلطنت کے بادشاہ علم و ادب کے فروغ میں بہت دِل چسپی رکھتے تھے۔ اُس دور کے محمّد قلی قطب شاہ اُردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر ہیں۔ اُردو نعت کی تاریخ میں یہ شرف قلی قطب شاہ ہی کو حاصل ہے کہ اُنہوں نے نعت کو ایک جداگانہ موضوع کے طور پر برتا۔ غزل کی ہیئت میں سب سے پہلے اُنہوں نے ہی نعت لکھی۔اُن کا ایک شعر یوں ہے؎’’تج مکہ احب کے جوت تھے عالم و پنہارا ہوا…اسم محمدؐ تھی رہے جگ میں سوتانی منج…آبِ کوثر کے شرف تھڈے کے پانی بور تھے…دیا بندے کو حق نبیؐ کا خطاب۔‘‘قطب شاہی عہد میں عیدِ میلاد اہتمام سے منائی جاتی تھی اور اس حوالے سے منعقدہ تقریبات میں نعتیہ کلام پڑھا جاتا تھا۔

اُردو قدیم کی نعت گوئی کا ایک اور ماخذ’’ معجزہ نامے‘‘ ہیں، جو دکن میں دسویں اور گیارہویں صدی ہجری میں لکھے گئے۔اُردو شاعری کے اوّلین معماروں میں سے ایک، ولی دکنی نے نعتیہ اشعار کے ارتقائی سفر میں ایک نئی منزل کی نشان دہی کی۔ اُن کا ایک شعر ہے؎ یا محمدؐ دو جہاں کی عہد ہے تجھ ذات سوں…خلق کوں لازم ہے جی کوں تجھ پہ قربانی کرے۔‘‘محققّین کے مطابق،ولی نے بحیثیتِ مجموعی اُردو قدیم کی نعت گوئی میں قابلِ ذکر اضافے کیے۔

س:کیا شمالی ہند کے شعرا نے بھی نعت گوئی میں کوئی کردار ادا کیا؟

ج:جی ہاں! وہاں بھی اُردو زبان میں نعت گوئی کے ابتدائی نمونے صوفیائے کرام کی تخلیقات میں ملتے ہیں۔ میر، سودا اور مصحفی کے دَور میں جب اُردو شاعری کا باقاعدہ رواج ہوا، تو اُردو نعت کا ایک نیا دَور شروع ہوا۔ اُردو شاعری کے اوّلین نعتیہ نمونوں پر بھی صوفیانہ افکار و نظریات کا رنگ غالب ہے۔غلام قادر شاہی کی ایک نعتیہ غزل کا شعر ہے؎’’سب دیکھو نور محمدؐ کا، سب دیکھو نور محمدؐ کا…سب بیچ ظہور محمدؐ کا، سب دیکھو نور محمدؐ کا۔‘‘مرزا محمد رفیع سودا شمالی ہند کے شعرا میں پہلے معروف شاعر ہیں، جنہوں نے نعت کو بھی اپنے فن میں برتا۔

اُنہوں نے حضورﷺ کی شان میں قصیدے بھی لکھے ؎’’ملک سجدہ نہ کرتے آدمِ خاکی کو گر اس کی…امانت دار نور احمدیؐ ہوتی نہ پیشانی۔‘‘اُن کا ایک اور نعتیہ شعر ہے؎’’ہزار افسوس اے دل ہم نہ تھے اُس وقت دنیا میں…وگرنہ کرتے یہ آنکھیں جمال اس کے سے نورانی۔‘‘سودا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُنھوں نے حضور اکرمﷺ کی تعریف میں مختلف صفاتی نام بھی تخلیق کیے، جسے عالمِ علمِ الٰہی، مشیرِ عالمِ غیب، راز دارِ حق، عادلِ کامل، عاقل، فخرِ انبیاء وغیرہ۔

سودا کے بعد میر کی نعت میں حضور اکرمﷺ کے عشق کے ساتھ اپنے گناہوں، خطا کاریوں پر ندامت کا اظہار اور رحمت طلبی کا تاثر نمایاں ہے۔ بعد ازاں، غلام ہمدانی مصحفی نے بھی یہی انداز اپنایا۔ حکیم مومن خان مومن نے بھی اُردو نعت کے سرمائے میں وقیع اضافہ کیا۔ شمالی ہند میں نعت گوئی کی روایت میر اور سودا کے دَور سے لے کر کم و بیش شمالی ہند کی پوری شاعری تک پھیلی ہوئی ہے۔ انیس، دبیر، میر نظام الدّین مسنون، میر مہدی مجروح، میر حسن، جرأت، ذوق، انشا اللہ خان انشاء، نظیر اکبر آبادی کے علاوہ اور بھی کئی شعرا کو اس ضمن میں اہم مقام حاصل ہے۔ شمالی ہند میں اُردو نعت کے دوسرے دَور میں کرامت علی مشہدی، مولانا لطف بریلوی اور مولوی تمنّا مُراد آبادی نے اُردو نعت کے تشکیلی اور ارتقائی دَور میں اہم کردار ادا کیا۔

یہی وہ دَور ہے، جب غزل کے دیوان کی طرح پہلی بار ردیف دار نعتیہ دیوان مرتّب کرنے کا آغاز ہوا۔ اُردو نعت کے اس تشکیلی دَور کے پس منظر میں سب سے بڑا ہاتھ معاشرتی اور مذہبی تحریکات کا ہے، جس میں سرِفہرست سیّد احمد شہید کی اصلاحی تحریک ہے۔ اُردو نعت کی تشکیل و ارتقاء کے سلسلے میں جن شعراء کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، اُن میں کرامت علی شہیدی اور مولوی حافظ لطف علی خان لطف شامل ہیں۔ اُنھیں غزل میں نعت نگاری کے پہلے بڑے شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس دَور میں غزل کو زیادہ تر نعت گوئی کے لیے پرکھا گیا۔ بعد کے ادوار میں امیر مینائی کا نام نمایاں ہے، جن کی تراکیب سازی میں ندرت کا اظہار اپنی مثال آپ ہے۔

اُنہیں اُردو شاعری کے پہلے صاحبِ طرز غزل گو کا مقام حاصل ہے کہ اُنہوں نے کیفِ نعت کو رنگِ تغزّل سے ہم کنار کیا۔ ان کے بعد سیّد محمّد محسن کاکوروی ہیں، جن کے ہاں پہلی بار اُردو نعت کا فن تکمیل سے آشنا نظر آتا ہے۔ محققّین کا کہنا ہے کہ ان کا نعتیہ کلام پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ نعتیہ شاعری کو بامِ عروج پر پہنچانے ہی کے لیے پیدا کیے گئے تھے۔اُن کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں؎سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل…برق کے کاندھے پر لائی ہے صبا گنگا جل۔‘‘شمالی ہند میں نعت کے ارتقاء میں مجموعی طور پر متذکرہ شعرائے کرام کے علاوہ الطاف حسین حالی، علیم آغا جان، عیسن دہلوی، مرزا غالب، بہادر شاہ ظفر جیسے قدآور شعرا نے اپنا حصّہ ڈالا۔

س :کہا جاتا ہے کہ جنگِ آزادی 1857 ء میں نعت گو شعرائے کرام نے ایمان افروز کردار ادا کیا؟

ج: جی ہاں ! اُس وقت تک نعت کا پودا جڑ پکڑ چُکا تھا اور یہ بارآور ہونے کو تھا کہ جنگِ آزادی کی طوفان انگیزیوں نے اسے ایک نئی آزمائش سے دوچار کر دیا۔ مَیں تو اُسے اردو نعتیہ شاعری کا ایک ایمان افروز باب کہوں گا۔ جنگِ آزادی میں عوام کے ساتھ علماء اور شعراء کی نمایاں تعداد شامل تھی، جنھوں نے قید و بند کی صعوبتوں کے علاوہ جامِ شہادت بھی نوش کیا۔ اُردو نعت کا عصرِ جدید اسی دَور کے نعت گو شعرا کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔ مولانا لیاقت علی الہ آبادی کی مشہور نظم’’جہادیہ‘‘ ایک اہم تاریخی دستاویز ہے۔ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد کے پُرزور مبلّغ تھے۔ یہ نظم جگہ جگہ سُنائی جاتی اور لکھ کر دیواروں پر بھی چسپاں کی جاتی۔

لوگ اُسے پڑھتے اور ’’دین دین‘‘ کے نعرے لگا کر آزادی کی راہ میں لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ اس کا پہلا شعر ہے؎ بعد تمہیدِ خدا، نعتِ رسولِ اکرمؐ…یہ رسالہ جہادیہ کہ لکھتا ہے قلم۔‘‘اِس نظم کے نعتیہ اشعار کچھ اس طرح ہیں؎اے میرا در تو حدیثِ نبویؐ سُن لے…باغِ فردوس ہے، تلوار کے سائے تلے۔‘‘مولانا لیاقت کو گرفتار کرکے جزائرِ انڈیمان بھیج دیا گیا، جہاں وہ شہید ہو گئے۔ اِسی طرح دوسرے شعراء میں مولانا رضی بدایونی شہید، مستی محمّد اسماعیل، مولانا فضل احمد، میر دہلوی، امیر مینائی، مفتی سیّد احمد خان، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا کفایت اللہ کافی شہید نے بھی نعتِ رسول اکرمؐ کہیں اور تحریکِ آزادی کا پرچار کیا ۔ایک روایت کے مطابق، مولانا کفایت اللہ کافی کو مُراد آباد میں جب سرِعام پھانسی دی جا رہی تھی، تو اُن کے ہونٹوں پر نعت کے اشعار تھے ،جس کا مطلع تھا؎’’کوئی گل باقی رہے گا،نہ چمن رہ جائے گا…پر رسول اللہؐ کا دین حسن رہ جائے گا…سب فنا ہو جائیں گے کافی و لیکن حشر تک…نعت حضرتؐ کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا۔‘‘مولانا فضل احمد امیر کو جب گرفتار کیا گیا تو اُن کی زبان پر یہ شعر تھا؎’’یہ خوشی ہے کہ ہم ہوں گے شہید…جان دیں گے ہم رسول اللہؐ تیری آن پر۔‘‘مفتی سیّد احمد خان نے، جو مرزا غالب کے شاگرد تھے، زمانۂ اسیری میں جزائر انڈیمان میں آنحضرتؐ کے حضور ایک منظوم عرض داشت لکھی، جس کے دو شعر ہیں؎’’قسم ہے تجھے اے نسیمِ سحر…میری بے بسی پر ذرا رحم کر…مدینے میں ہووے جو تیرا گزر…تو میری طرف سے زمیں چوم کر…یہ کہنا بارگاہِ خیر البشرؐ…نبی الوریٰؐ ؐ یا نبی الوریٰ ؐ۔ ‘‘جنگِ آزادی سے قیامِ پاکستان تک ہندوستانی مسلمان جن سیاسی اور مذہبی تحریکوں سے گزرتے رہے، اُردو نعت بھی اُن کا اثر قبول کرتی رہی۔

چناں چہ نعتیہ کلام میں ملّی شعور زیادہ نظر آتا ہے۔ تحریکِ خلافت اور پہلی جنگِ عظیم کے موقعے پر کئی شعرائے کرام نے دربارِ رسالتؐ میں عرض داشتیں پیش کیں۔ اُس دور میں یہ نظم بہت مشہورہوئی۔؎’’ہوتے اگر میرے سات بیٹے…کرتی سب کو خلافت پہ صدقے…ہیں یہی دینِ احمدؐ کے رستے…جان بیٹا خلافت پہ دے دو۔‘‘ غرض اُس پُرآشوب دَور میں، قومی اور ملّی شاعری میں نعتیہ عنصر بہت زیادہ نظر آتا ہے۔

س: قیامِ پاکستان کے بعد صنفِ نعت کا منظرنامہ کیسا ہے؟

ج: علّامہ ڈاکٹر محمّد اقبال، مولانا الطاف حسین حالی، ظفر علی خان، حفیظ جالندھری اور اقبال سہیل نے اُردو نعت کو فکری اور فنی طور پر نئے امکانات سے روشن کروایا۔ جنگِ آزادی سے لے کر قیامِ پاکستان تک اور پھر موجودہ تحریکی ادب میں سرکارِ کائناتؐ کے اسوۂ حسنہ اور سیرت و کردار کے تذکرے کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔شعرا نے تحریکِ پاکستان کے دَوران جلسوں میں آنحضرت ؐکی ذاتِ مبارکہ اور پیغام سے مسلمانانِ ہند کے دِلوں کو گرمایا، جس سے نعتیہ شاعری کے فروغ اور مقبولیت کی راہ ہم وار ہوئی۔ یوں اُردو نعت کا ایک ایسا تاب ناک دَور شروع ہوا، جس کی برکات آج بھی جاری و ساری ہیں، بلکہ یہاں حفیظ تائب کا یہ قول دُہرانا چاہوں گا کہ’’ قیامِ پاکستان کے بعد نعت کے ارتقا کی رفتار تیز ہو گئی۔‘‘ اب نعت گو حضرات کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ کس کس کا نام لوں۔

حضرت علّامہ اقبال تو پہلے ہی اس میدان میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا جادو جگا چُکے تھے۔ بعدازاں ضیاء القادری، بہزاد لکھنوی، ماہرالقادری، شمس مینائی، درد کاکوردی، محمّد ذکی کیفی، میر افق کاظم امروہووی، راجا محمّد عبداللہ نیاز، اثر صہبائی، اسد ملتانی، عبدالعزیز خالد، حافظ مظہرالدّین لدھیانوی، نعیم صدیقی، آسی ضیائی، حفیظ تائب، احسان دانش، راسخ عرفانی، سیف زلفی، احمد ندیم قاسمی، شورش کاشمیری، اعظم چشتی، راجہ رشید محمود، مظفر وارثی، رحمان کیانی، عابد نظامی، عاصی کرنالی، عبدالرحمن عاجز، کرم حیدری کے علاوہ اور بہت سے شعرائے کرام نے(جن کے نام ہو سکتا ہے، مَیں بھول رہا ہوں) اپنی شاعرانہ صلاحیتوں سے نعت کے ہیت و اسلوب میں وسعت پیدا کی۔

فی الحقیقت، ہمارا یہ پورا دَور فنی تجربات اور ادبی رفعت کا دَور ہے، جس کے سب سے اعلیٰ نمونے اس دور کی نعت میں ملتے ہیں۔ عبدالعزیز خالد اور حفیظ تائب نے اس صنف میں کمال کر دیا۔ ؎’’یوں تو ہمیں نعت کے اسلوب ہزاروں لیکن…طرح تو میری ہے ،ہر رنگ دگر میرا ہے۔‘‘اِس دور کے نعت گو، بالخصوص حفیظ تائب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کے نعتیہ کلام میں وطنِ عزیز اور ملّتِ اسلامیہ کے مسائل و احوال اور التجا کی جَھلک نظر آتی ہے۔ حالیہ کورونا وبا کے حوالے سے جو نعتیہ کلام تخلیق ہو رہا ہے، اس میں بھی گناہوں کی معافی کی التجا کا عنصر نمایاں ہے۔

یہ نعتیں نالہ و فریاد کے مضامین سے لبریز ہیں۔ مختصراً یہی کہوں گا کہ موجودہ نعتیہ شاعری ان اسلامی روایات کا جان دار اور شان دار تسلسل ہے، جو عہدِ نبویؐ کے حضرت حسّان بن ثابتؓ اور جامیؒ و سعدیؒ سے ہوتی ہوئی حالی اور اقبال کے وسیلے سے عصرِ حاضر کے شعرا تک پہنچی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں نعت گو شعرا کے اپنے اپنے مزاج کے مطابق اس کے پیرائے بھی بے شمار ہیں۔ ہمارے یہاں پرنٹ میڈیا، فلم، ریڈیو، ٹی وی، نعتیہ مشاعروں، مجالسِ میلاد اور دینی محافل کی بدولت بھی نعت گوئی کو بے مثال فروغ حاصل ہوا ہے۔

نعتیہ مشاعروں نے تو ایک ثقافتی اور دینی تحریک کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج اُردو زبان میں نعتِ رسول اکرمؐ کا جو اثاثہ موجود ہے، وہ دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں اور ہمیں بحیثیت قوم اِس اثاثے پر فخر کرنا چاہیے۔