پاکستان، امریکا فوجی تعلقات، اہم امور پر تعاون جاری رہے گا

January 22, 2021

واشنگٹن (واجد علی سید) امریکا کے نامزد سیکرٹری دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان۔امریکا فوجی تعلقات، اہم امور پر تعاون جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، نئی امریکی انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ وہ پاکستان اور خاص طور پر فوج کے ساتھ اہم امور پر تعلقات استوار کرے۔ امریکا کے نامزد سیکرٹری دفاع جنرل لائڈ آسٹن نے سینیٹ آرمز سروسز کمیٹی کے پینل کو بتایا کہ افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے پاکستان لازمی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تصدیق کے بعد وہ خطے میں پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کی حمایت کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ جب کہ وہ ایسے عناصر کی روک تھام کریں گے جو افغان امن عمل میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ جنرل آسٹن امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ ان کی تقرری کی تصدیق ہونے کی صورت میں وہ پہلے افریقی امریکی ہوں گے جو اس عہدے پر فائز ہوں گے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو بھی سراہا،تاہم انہوں نے اسے نامکمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان نے متضاد اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان نے بھارت مخالف گروہ جیسا کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کے خلاف بھی اقدامات کیے تاہم، یہ پیش رفت نامکمل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستان پر دبائو ڈالیں گے کہ وہ اپنی سرزمین شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو استعمال نا کرنے دے۔ جب کہ پاکستان کی فوج سے مستحکم تعلقات سے پاکستان اور امریکا کے اہم مسائل میں تعاون کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ مشترکہ مفادات پر ہوگی جس میں انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اور ٹریننگ فنڈز کے زریعے مستقبل کے پاکستان ملٹری لیڈرز کی تربیت بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کسی بھی سیاسی مفاہمت میں پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ مل کر القائدہ اور داعش کو شکست دینے کی بھی ضرورت ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے پاکستان کی فوجی اور مالی معاونت منسوخ کردی تھی۔ اس حوالے سے جنرل آسٹن کا کہنا تھا کہ اس سے افغان مذاکرات سمیت دیگر طرح کا تعاون متاثر ہوسکتا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کی اہم دفاعی شراکت دار کی حٰیثیت کو مزید فعال کریں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ امریکی اور بھارتی افواج مشترکہ مفادات کے حوالے سے تعاون جاری رکھیں۔