میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میں

October 04, 2021

راحت اندوری

میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میں

مگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میں

عجیب لوگ ہیں میری تلاش میں مجھ کو

وہاں پہ ڈھونڈ رہے ہیں جہاں نہیں ہوں میں

میں آئنوں سے تو مایوس لوٹ آیا تھا

مگر کسی نے بتایا بہت حسیں ہوں میں

وہ ذرے ذرے میں موجود ہے مگر میں بھی

کہیں کہیں ہوں کہاں ہوں کہیں نہیں ہوں میں

وہ اک کتاب جو منسوب تیرے نام سے ہے

اسی کتاب کے اندر کہیں کہیں ہوں میں

ستارو آؤ مری راہ میں بکھر جاؤ

یہ میرا حکم ہے حالانکہ کچھ نہیں ہوں میں

یہیں حسین بھی گزرے یہیں یزید بھی تھا

ہزار رنگ میں ڈوبی ہوئی زمیں ہوں میں

یہ بوڑھی قبریں تمہیں کچھ نہیں بتائیں گی

مجھے تلاش کرو دوستو یہیں ہوں میں