بریسٹ کینسر: معاشرتی رویوں میں تبدیلی ناگزیر

October 17, 2021

’’نیشنل بریسٹ کینسر فائونڈیشن‘‘ کے زیرِ اہتمام ہر سال دُنیا بَھر میں اکتوبر کا پورا مہینہ ’’بریسٹ کینسر آگہی ماہ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، تاکہ اس مرض سے متعلق معاشرے کو بَھرپور آگہی فراہم کی جاسکے۔ پاکستان میں جہاں سرکاری سطح پرمرض کی وجوہ، علامات اور روک تھام سے متعلق معلومات عام کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جارہی ہے، وہیں مختلف این جی اوز، ٹرسٹس اور ادارے بھی اپنا بَھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ اس ضمن میں رواں برس پاکستان میں پہلی بار’’ پنک پاکستان ٹرسٹ ‘‘کی جانب سے بریسٹ کینسر سے متعلق ایک ڈیجیٹل ایپلی کیشن’’پنک پاکستان‘‘ متعارف کروائی گئی ہے ، تاکہ خواتین کو گھر بیٹھے بہترین رہنمائی فراہم کی جاسکے۔ذیل میں اِسی ٹرسٹ کی روحِ رواں ڈاکٹر زبیدہ قاضی کا ایک معلوماتی مضمون بھی سوالاً جواباً پیشِ خدمت ہے۔

س:پاکستان میں بریسٹ کینسر کی عمومی صُورتِ حال کیا ہے؟

ج: انٹرنیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کی گزشتہ برس جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر کےسالانہ13لاکھ80ہزارکیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے لگ بھگ 4لاکھ58ہزار خواتین انتقال کرجاتی ہیں۔ پریشان کُن بات یہ ہے کہ ماضی کی نسبت اب یہ مرض زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

س: علاج معالجے کے ضمن میں خواتین کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

ج: یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ خصوصاً پس ماندہ علاقوں میں آگہی نہ ہونے کے سبب بریسٹ کینسر کو مرض ہی نہیں سمجھا جاتا ۔زیادہ تر ضعیف الاعتقاد، ادویہ کے بجائے تعویذ گنڈوں کا سہارا لیتے ہیں۔ بعض گھرانوں میں اتائیوں سے علاج کروانے کو فوقیت دی جاتی ہے،تو کہیں میل ڈاکٹرز سے علاج تو دُور کی بات، بریسٹ کینسر سے متعلق بات کرنا بھی معیوب سمجھا جاتاہے، خاص طور پر خواتین ڈرتی ہیں کہ اگر سُسرال میں پتا چل گیا تو سب مخالف ہوجائیں گے، شوہر ساتھ چھوڑ دے گا، گھر برباد ہوجائے گا۔

پھر کوئی مَرد بریسٹ کینسر سے متاثرہ خاتون سے شادی پر بھی آمادہ نہیں ہوتا۔اِس کے علاوہ فطری شرم و حیا کے باعث بھی خواتین اپنی تکلیف بتاتےہوئےہچکچاتی ہیں ۔پھرچوںکہ کینسر کا علاج بہت منہگا ہے، تواکثر وسائل کی کمی کے باعث بھی علاج نہیں کروایا جاتا اور مریضہ ٹونے ٹوٹکے آزماتے ہوئے موت کے دھانے تک پہنچ جاتی ہے،لہٰذا ہمیں مل جُل کر معاشرتی رویّوں میں سدھار لانا ہوگا۔نیز،یہ شعور بھی بیدا کرنا ہوگا کہ لوگ بریسٹ کینسر کو ایک مرض سمجھیں، نہ کہ آسیب، جرم یا کلنک کا ٹیکا۔

س: بریسٹ کینسر سے متعلق خاص طور پر دیہی علاقوں میں معلومات کا سخت فقدان پایا جاتا ہے، تو اس حوالے سے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟

ج:دیہات میں چوں کہ ناخواندگی کی شرح بُلندہے، توصرف بریسٹ کینسر ہی نہیں، دیگر امراض کی تشخیص و علاج کے ضمن میں بھی خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر خواتین سے متعلق ہر فیصلے کا حق عموماً گھر کے سربراہ کو حاصل ہوتا ہے،تو خواتین علاج کروانے کے معاملے میں بھی مَردوں کی محتاج ہوتی ہیں۔ پاکستان بَھر کےدیہی علاقوں میں سروے کے بعد یہ فیصلہ کیاگیا کہ سب سے پہلے تو مَردوں میں یہ شعور اُجاگرکیا جائے کہ بریسٹ کینسر کوئی چُھپانے والا مرض ہرگز نہیں۔

گو کہ یہ ایک خاصا مشکل کام تھا، لیکن ہم نے اپنی ٹیم کے ساتھ ذہن سازی کی اور اب رفتہ رفتہ اس کے مثبت تنائج سامنے آرہے ہیں۔ الحمدُ للہ، اس وقت ایسی کئی خواتین ہمارے سامنے موجود ہیں، جنہیں اتائیوں کے چنگل سے آزاد کروا کے باقاعدہ علاج پر آمادہ کیا گیا اور آج وہ خوش و خرّم زندگی گزار رہی ہیں۔ نیز، ہم شہروں میں بھی شعور و آگہی کے ضمن میں خاصا کام کررہے ہیں، خصوصاً درس گاہوں میں مختلف سیشنز کے ذریعے طالبات اور اساتذہ کو بنیادی معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔

جب کہ حال ہی میں ہم نےCOMSTAC اور او آئی سی کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ، جس کے تحت پنک پاکستان ٹرسٹ، اسلامی مُمالک کے لیے بریسٹ کینسر کی آگہی مہم کا دائرہ کار وسیع کرے گا۔ اس کے علاوہ ایچ ای جے(حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری، جامعہ کراچی) کےساتھ مل کر بھی بریسٹ کینسر پر تحقیق سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور لاہور یونی ورسٹی، ایچ ای جے اور علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے نصاب کے لیے بریسٹ کینسر سے متعلق ایک باب بھی مرتّب کیا ہے،تاکہ لڑکیوں میں یہ شعور بیدار ہوسکے کہ بریسٹ کینسر چُھپانے یا ڈرنے والا مرض ہرگز نہیں۔

س: ہر سال ماہِ اکتوبر’’بریسٹ کینسر آگہی ماہ ‘‘کے طور پر منایا جاتا ہے، اس کے کچھ ثمرات بھی سامنے آرہے ہیں؟

ج:گرچہ دُنیا بَھر کی طرح ہمارے یہاں بھی اس مرض کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں نظر آنے والا جوش و خروش بعد ازاں پہلے سا نہیں رہتا۔ تاہم، کئی ادارے اور این جی اوز،بشمول پنک پاکستان ٹرسٹ سال بَھر اپنی خدمات جاری رکھتےہیں۔

س:اس پلیٹ فارم سے جو بریسٹ کینسرایپ متعارف کروائی گئی ہے، کیا اس سے سب مستفید ہوسکتے ہیں؟

ج: اس ایپلی کیشن کے ذریعے نادار اور ناخواندہ افراد بھی مستفید ہوسکتے ہیں کہ اسے استعمال کرنے کے لیے انٹرنیٹ کنیکشن کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ سہولت کالنگ سروس کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔ نیز، یہ ایپ اُردو، انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں(سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتو)میں بھی دستیاب ہے، تاکہ ہر زبان بولنے والی خواتین اس سے باآسانی مستفید ہوسکیں۔ نیز، مرض کی تشخیص سے لے کر علاج تک کے تمام مراحل بھی اسی ایپ کے ذریعے طے کیے جاسکتے ہیں۔

ڈاکٹر سے معائنے کے لیے وقت لینا ہو یا مشورہ، دونوں ہی صُورتوں میں آسان رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔یاد رہے، ٹرسٹ کے زیرِ نگرانی اس وقت25سینٹرز کام کررہے ہیں،جہاں علاج معالجے کی مفت سہولتیں میسّر ہیں۔صرف کراچی میں5ہزار سے زائد رضا کار بریسٹ کینسر آگہی مہمّات میں اپنی خدمات پیش کررہے ہیں،جب کہ بیسک ڈائیگنوسٹک سینٹرز کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے۔ نیز، کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہمارے اسپتال زیرِ تعمیر ہیں، جو اگلے چند برسوں میں جدید ترین سہولتوں کے ساتھ کام شروع کردیں گے۔ (مضمون نگار، معروف بریسٹ کینسر اسپیشلسٹ اور’’پنک پاکستان ٹرسٹ‘‘ کی بانی و صدر ہیں)