| |
Home Page
جمعرات 29 ذوالحج 1438ھ 21 ستمبر 2017ء
June 29, 2017 | 12:13 pm
کراچی کی عمارتیں خطرناک ہو گئیں

Karachi Buildings Becomes Dangerous

Karachi Buildings Becomes Dangerous

کراچی میں ساڑھےتین سوسے زائد عمارتیں خطرناک اور با قابل استعمال قرار دے دی گئیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میںرین ایمرجنسی سینٹرقائم کردیاگیا ۔

ماہرین تعمیرات تجربہ کارانجینئرز پر مشتمل ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرنا ک عمارت نے اب تک کے سروے کے نتیجے میں شہر بھرکی 354 عمارتوں کوان کے بنیادی تعمیراتی ڈھانچے کی تباہ حالی کے سبب خطرناک اور ناقابل استعمال قراردیاہے ۔

ایس بی سی اے ٹیکنیکل کمیٹی کی جانب سے خطرناک قراردی گئی عمارتوں کے مکینوں کو خبردار کیاگیاہے کہ قیمتی انسانی جانوں اور مالی نقصان کے تحفظ کیلئے ان عمارتوں کوفی الفورخالی کردیاجائےکیونکہ بارشوںکے دوران عمارتی حادثے کے خدشات کئی گنابڑھ جاتے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل آف سندھ بلڈنگز آغامقصودعباس کی ہدایات پر مون سون بارشوں کے پیش نظر محکمے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت اس وقت ایس بی سی اے میں قائم ہنگامی مرکزمیں ادارے کے تمام ٹائون سیکشنز کا ٹیکنکل اسٹاف تین شفٹوں 24گھنٹے ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود رہے گا۔

علاوہ ازیں ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک عمارات کی رپورٹس کے مطابق مذکورہ 354 عمارتوں میں رہائش یااستعمال خودان کے مکینوںکیلئے نقصان دہ ہے اورخاص طورپر بارشوں کے سبب یہ عمارتیںاپنابوجھ برداشت نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے اچانک زمین بوس ہوکر اندوہناک انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہیں۔

ایس بی سی اے نے عوام سے بھی درخواست کی ہے کہ دوران بارش خطرناک عمارتوںکے قریب جانے سے اجتناب برتاجائے اور اپنے ارد گرد موجود خستہ حالت یاغیرمعیاری تعمیرات کی حامل عمارتوں کی نشاندہی کی جائے۔

کراچی میں زیادہ بارش کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے زیادہ تر نالے بند ہیں۔ اس سلسلے میں بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔

نالے صاف نہ ہونے کے باعث اگر شہر میں 40سے 50 ملی میٹر بارش ہوگئی تو بعض مقامات پر برساتی نالے بند ہونے کے باعث قریب آبادیوں میں بارش کا پانی داخل ہوسکتا ہے۔

کے ایم سی برساتی نالوں کی صفائی کا دعویٰ کرتی رہی ہے لیکن شہر کے بڑے برساتی نالوں گجر نالہ، اورنگی نالہ، پچر نالہ، منظور کالونی نالہ ،چکورا نالہ، کلری نالہ، سولجر بازار نالہ کچرے اور ریت مٹی سے بھرے ہوئے ہیں ان سے زیادہ بارش کے صورت میں پانی کے مکمل اخراج کا امکان بہت کم اور برساتی پانی نشیبی اور قریبی علاقوں میں جائے گا۔

کچی آبادیاں زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے شہر کہ سب سے بڑے گجر نالے کے اطراف تمام تجاوزات گزشتہ سال ایڈمنسٹریٹر کے دور میں ختم کردی گئی تھیں اور نالے کو صاف ہوگئے۔

حکومت سندھ محکمہ بلدیات کے منصوبے کے مطابق نالے کے اطراف سڑکوں کی تعمیر کیلئے فنڈز فراہم نہ کئے بعض مقامات پر نالہ اب دوبارہ کچرے سے بھرگیا ہے بارش میں صورتحال میں بہت زیادہ بہتری کے امکانات نہیں ہیں۔