• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مغرب کو نبی اکرم ﷺ کے اسوہِ حسنہ سے روشنا س کروایا جائے، عبدالمجید ندیم

بر منگھم (پ ر) انسانیت کے بھٹکتے ہو ئے قافلے اسوہِ محمدی ؐ کی روشنی میںہی اپنی منزلِ مرا د کو پہنچ سکتے ہیں۔نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ، زندگی کے ہر طبقے کے لیے روشنی کا مینا ر ہے ۔آپ ؐ کی ساری زندگی جا معیت اور اکملیت کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔وقت آ گیا ہے کہ مسلما ن ،مغربی دنیا کو انہی کی زبا نوں میں نبی اکرم ﷺ کے اسوہِ حسنہ سے روشنا س کرا ئیں۔ان خیالات کا اظہار تحریکِ کشمیر بر طا نیہ کے نائب صدرمفتی عبدالمجید ندیم نے ہینڈز ورتھ اسلا مک سنٹر برمنگھم میں ہفتہ وار پروگرام سے خصوصی خطا ب کرتے ہو ئے کیا ۔ انہوں نے کہا ’’نبی اکرم ﷺ ابھی بارہ سال کے تھے کہ آپؐ نے اپنے چچا کے ساتھ شام کا سفر کیا جو اس با ت کا واضح ثبوت ہے کہ کا میا بی کے لیے بیرونی دنیا سے رابطہ اور وہاں کے رسم و رواج کو جاننا ازحد ضروری ہے ۔نئی نسل کے لیے انتہا ئی ضروری ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی تہذیب ، رہن سہن اور ترقی کی وجوہات کو جا ننے کی کوشش کریں اس لیے کہ آج دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے ۔اس حوالے سے جس طرح حضور ﷺ کے چچا نے ان کی حوصلہ افزائی کی ہما رے بزرگوں کو بھی نئی نسل کی ہمت افزائی کرنی چا ہیے۔ مفتی عبدا لمجید ندیم نے مزید کہا کہ ’’شام کے عظیم راہب بحیرا نے نبی اکرم ﷺ کے معجزات اور انجیل ِ مقدس میں پائی جا نے والی نشانیوں کو دیکھ صاف الفا ظ میں پہچا ن لیا کہ یہی وہ نبی آخرالزما ن ہیں جن کی خوشخبری کُتبِ مقدس میں دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُس زما نے کے سچے اہلِ کتاب ،نبی اکرم ﷺ پر ایما ن لا کر اسلا م میں داخل ہو گئے ۔ انہوں نے علما ئے کرام ، مشائخِ عظام اور کمیونٹی راہنما ؤں سے اپیل کی کہ یورپ کے مذہبی طبقات کو نبی اکرم ﷺ کی سیرت کے اس پہلو کے با رے میں خاص طور پر آگا ہ کریں تاکہ مذہبی شخصیات کے احترام کو یقینی بنانے میں ان کا عملی تعاون حاصل ہوسکے۔
یورپ سے سے مزید