• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:سید منور حسین جماعتی۔۔۔برمنگھم
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریمﷺکو اپنی ذات و صفات کا مظہر اتم اور اپنی تخلیق کا شاہکار اور اپنی ربوبیت کی دلیل بناکر بھیجا اور پھر ختم نبوت کا تاج ان کے سر پر سجایا اور تمام جہانوں کے لیے رحمت اور ہر خوبی، ہر فضل اور ہر رتبہ و کمال کا جامع بناکر مبعوث فرمایا۔حضور نبی کریمﷺ کی سیرت اتنی جامع، ہمہ پہلو اور پاکیزہ ہے کہ خالق کائنات نے لعمرک کہہ کر آپﷺ کی پوری حیات طیبہ کی قسم بیان فرمائی، آپﷺ کی زندگی انسانیت کے لیے اسوۂ کامل اور سرچشمہ ہدایت ہے۔ آپﷺ کے اوصاف جمیلہ اور سیرت طیبہ کو جس پہلو سے بھی دیکھا جائے محسن انسانیتﷺ کی سیرت طیبہ بنی نوع انسان کے لیے سراسر ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے جس کا ذکر اللہ کریم نے کتاب ہدایت میں یوں فرمایا ہے۔ ’’بیشک تمہاری رہنمائی کے لیے اللہ کے رسولﷺ کی حیات طیبہ میں خوبصورت نمونہ ہے۔‘‘ اسی بات کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یوں بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ کا خلق قرآن تھا یعنی آپﷺ کی سیرت اور آپﷺ کی صورت بلکہ آپﷺ کی ہر ادا احکام قرآنیہ کے عین مطابق تھی، گویا قرآن کریم ذکر مصطفیﷺ، سیرت و صورت مصطفیﷺ اور مدح مصطفیﷺ کی جامع کتاب ہے، اسی لیے اللہ کریم نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ’’بیشک یہ قرآن آپ ﷺکا ذکر ہے اور آپ کی قوم کا ذکر ہے اور باعث شرف ہے۔‘‘قرآن کریم میں جہاں حضور نبی کریمﷺ کے دیگر اوصاف حمیدہ کا تذکرہ ہے وہیں اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کریمﷺ کی زندگی اور ولادت باسعادت کے مختلف مراحل کو بڑے حسین انداز میں بیان فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے پیارے نبی محمد مصطفی ﷺ کے نور کو پیدا فرمایا جس کے بارے میں قرآن کریم میں یوں ارشاد فرمایا۔ ’’بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب‘‘ اسی کو حضور نبی کریمﷺ نے یوں بیان فرمایا۔ ’’سب سے پہلی مخلوق میرا نور‘‘۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں نور مصطفی کے طیب و طاہر ایمان والے آباء و امہات میں منتقل ہونے کا تذکرہ یوں فرمایا ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ آپﷺ کو حالت قیام میں بھی ملاحظہ فرماتا ہے اور اس وقت بھی ملاحظہ فرما رہا تھا جب آپﷺ کا نور سجدہ کرنے والوں میں پشت در پشت منتقل ہورہا تھا۔‘‘علامہ زرقانی اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’آپﷺ کا نور ایک سجدہ کرنے والے سے دوسرے سجدہ کرنے والے کی طرف منتقل ہوتا رہا۔‘‘اس آیت مبارکہ سے طہارت نست مصطفی ﷺ کا پتہ چل گیا اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت سیدنا عبداللہ تک آپ ﷺ کے تمام آباء و اجداد مومن و موحد تھے جس کو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریمﷺ سے یوں روایت کیا ہے کہ ’’میں ہمیشہ پاکیزہ پشتوں سے پاکیزہ رحموں کی طرف منتقل ہوتا رہا ہوں۔‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں جس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے صحیح سند کے ساتھ اپنی کتاب صحیح بخاری میں یوں نقل کیا ہے کہ ’’میں ہر زمانے کے بہترین لوگوں میں منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ جس زمانہ میں، میں اب ہوں، اس زمانے کے بہترین لوگوں میں مجھے بھیجا گیا۔‘‘ لہٰذا ثابت ہوگیا کہ حضور نبی کریمﷺکے سلسلہ نسب میں تمام آباء و امہات طیب و طاہر موحد و مومن اور عابد و ساجد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام بلکہ آپ ﷺ کے ہر آباء کی قسم یوں ذکر فرمائی ہے۔ ’’قسم ہے تمہارے باپ ابراہیمؑ کی اور ان کی اولاد کی کہ تم ہو۔‘‘اللہ کریم نے انسان کو بے شمار اور لاتعداد نعمتیں عطا فرمائی ہیں جن کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کرسکتے۔‘‘ یعنی اللہ کریم نے تمہیں اتنی نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں کہ ان کا شکریہ ادا کرنا تو درکنار، اگر تم ا نہیں شمار بھی کرنا چاہو تو ان کا شمار نہیں ہوسکتا مگر اتنی نعمتیں عطا فرمانے پر کسی ایک نعمت پر بھی احسان نہیں جتلایا لیکن جب اپنے محبوب حضورﷺ کو عطا فرمایا کیونکہ یہ خالق کی سب سے بڑی نعمت تھی، اتنی عظیم نعمت کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت دے کر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا۔ ’’بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔‘‘اس نعمت عظمیٰ کے حصول کے لیے پہلی امتیں بے قرار رہیں اور حضورﷺ کے دیدار کے امیدوار بن کر سراپا انتظار ہیں۔ میلاد مصطفیﷺ ایک عظیم نعمت اور خصوصی اہمیت کا حامل تھا، اس لیے جب ولادت سرکارﷺ کا زمانہ قریب آیا تو رات چاہتی تھی کہ یہ سعادت مجھے نصیب ہو، دن چاہتا تھا کہ آپﷺ کی ولادت باسعادت دن کے وقت ہو اور یہ سعادت میرے حصے میں آئے، میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہوئی کہ خوشی کے اس موقع پر نہ رات مایوس ہو اور نہ ہی دن محروم رہے تو اللہ کریم نے اپنے حبیبﷺ کو رات اور دن کے ایسے خوبصورت سنگم میں بھیجا کہ ولادت کی رات آپﷺ کی نسبت سے مبارک قرار پائے اور دن بھی آپﷺ کے حوالے سے یوم عید بن جائے، رات اپنی سیاہ زلفیں بکھیر کر جارہی تھی اور دن اپنے اجالوں اور پوری تابانیوں کے ساتھ آرہا تھا، ایسی سہانی گھڑی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کو بھیجا اور قرآن کریم میں وقت ولادت کو یوں محفوظ فرمایا کہ ’’قسم ہے (بارہ ربیع الاول کے) چمکتے ہوئے دن کی اور قسم ہے سیاہی بکھیر کے جانے والی رات کی۔‘‘معروف سیرت نگار علامہ علی بن برہان الدین رقم طراز ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ’’والضحیٰ والیل‘‘ میں حضور نبی کریمﷺ کے میلاد کی قسم بیان فرمائی ہے، یہی بات بعض مفسرین کے حوالے سے سید احمد زینی دحلان نے بھی ذکر کی ہے۔ بعض نے والیل سے شب معراج مراد لی ہے، معراج ہو یا میلاد، ذکر بہرحال حضور نبی کریمﷺ کا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’والضحی‘‘ کو مقدم کیا کہ آنے والا محبوب کفر و شرک کی شب دیجور کو ختم کرکے حق کا نور پھیلانے والا ہے، نہ صرف باطنی اور روحانی طور پر بلکہ ظاہری تاریکیوں کو بھی اجالوں میں بدلنے والا ہے چنانچہ12ربیع الاول شریف عام الفیل22اپریل571ہجری چار بج کر بیس منٹ پر جب حضور پر نورﷺ تشریف لائے تو کائنات نور سے منور ہوگئی اور رب کریم نے فرمایا ’’زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھی۔‘‘ اس نور خدا کی جلوہ گری پر سورج کو نئی آب و تاب عطا کی گئی، جیسا کہ خصائص کبریٰ میں ہے کہ صبح ولادت سورج کو عظیم نور کا لباس پہنایا گیا، یعنی اس کا نور بڑھا دیا گیا۔ آخرکار کفر و شرک کی شب دیجور ختم ہوئی اور ایک نورانی صبح نو کا آغاز ہوا،اعلیٰ حضرت امام رضا فاضل بریلوی نے اسے یوں بیان کیا ہے۔
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑہ نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
 اللہ کریم نے آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا۔’’
نور مصطفیٰﷺ جب سیدہ آمنہ کی گود میں آگیا تو اس کی چمک سے پورا عالم بقعہ نور بن گیا، ہر چند کہ یہ نور ظاہر انوار ہی تھا مگر اس کی حقیقت کچھ اور ہی تھی، یہ اس ذات مقدس کا نور تھا جو انا من نور اللہ کی مصداق ہے، الغرض اس نور سے اس روز عالم کائنات میں ایک خاص قسم کی روشنی ہوئی تھی جس کے ادراک میں عقل خیرہ ہے، اس روز ملائکہ کو حکم تھا کہ وہ تمام آسمانوں اور جنتوں کے دروازے کھول دیں اور زمین پر حاضر ہوجائیں،شب ولادت اللہ کریم نے حوض کوثر کے کنارے مہکتی کستوری کے ستر ہزار درخت لگائے جن کے پھل اہل جنت کے لیے بخور کا کام دیں گے، تین جھنڈے مشرق، مغرب اور کعبہ معظمہ کی چھت پر نصب کیے گئے۔ شیاطین کو اس رات مقید کردیا گیا، کاہنوں کی خبریں بند ہوگئیں، تمام جہان کے بت سر بسجود ہوگئے، فارس کے آتش کدے جن کی پرستش سالہا سال سے ہورہی تھی، بجھ گئے، ماہر ان نجوم ہر طرف خبریں دینے لگے کہ آج نبی آخرالزماں کی ولادت باسعادت ہوگئی اور قوم بنی اسرائیل سے نبوت جاتی رہی، اب عرب و عجم نبی آخرالزماںﷺکے مطیع و فرماں بردار بن جائیں گے، بادشاہوں کے تحت الٹ گئے، ایوان کسریٰ میں زلزلہ برپا ہوا، جس سے اس کے 14 کنکرے گرگئے جو اس بات کا اعلان کررہے تھے کہ اب ظلم و ستم اور بربریت کا دور ختم ہوجائے گا۔ حضور اکرم ﷺکی آمد سے قبل پورا عرب اور قریش تاریخ کے سخت ترین قحط اور افلاس میں مبتلا تھے، حضور اکرمﷺ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ہی ان کی تقدیر بدل گئی، ان کی تمام سختیا، کلفتیں اور پریشانیاں دور ہوگئیں، قحط سالی کے آثار جاتے رہے، ویران اور بنجر زمینوں میں بہار آگئی، ہر طرف سبزہ لہلہانے لگا اور اناج سے کھیت و کھلیان بھر گئے، نیز یہ کہ ظلمت و جہالت کا خاتمہ ہو اور رب کریم نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں پورا سال لڑکے عطا فرماکر جشن ولادت مصطفی ﷺمنایا۔
یورپ سے سے مزید