• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیمبرج سینٹرل مسجد ... برطانیہ کی پہلی ’ماحول دوست‘ مسجد

دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے آثار دیکھے جارہے ہیں۔ جنگلوں میں لگنے والی آگ، بےموسم بارشیں، طوفانوں اور زلزلوں کا آنا، سردی اور گرمی کی شدت میں اضافہ، یہ سب وہ خطرات ہیںجن سے ماہرین ایک طویل عرصہ سے خبردار کررہے تھے۔ تاہم، اب حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے گزشتہ دہائی سے دنیا بھر میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو روکنے کے لیے کام ہورہا ہے کیونکہ اگر ایک خاص حد سے زائد درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو تمام مخلوق بالخصوص انسان کو اس کے خطرناک نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ 

ماہرین کےمطابق ماحول کو آلودہ کرنے والی زہریلی گیسوں کے اخراج میں38فی صد حصہ تعمیراتی صنعت کا ہے اور یہ شرح دیگر شعبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی لیے اب عالمی سطح پر تعمیراتی صنعت میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو روکنے یا کم کرنے کیلئے ماحول دوست (سبز) تعمیرات پر کام ہورہا ہے۔ 

یہ ایک پائیدار (Sustainable) اور توانائی کے کم خرچ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا طریقہ تعمیرات ہے، جو ساز و سامان کے کم سے کم ضیاع اوراستعمال کوبھی یقینی بناتا ہے۔ ماحول دوست تعمیرات میں فنِ تعمیر اور فطرت ایک دوسرے سے مربوط معلوم ہوتے ہیں اور ان میں ایک طرح کی ہم آہنگی نظر آتی ہے۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر برطانیہ کے شہر کیمبرج میں ملک کی پہلی ’ماحول دوست‘ مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ کیمبرج سینٹرل مسجد کی تعمیرپر 23ملین پاؤنڈ (تقریباً5ارب38 کروڑ پاکستانی روپے) لاگت آئی۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز ستمبر 2016ء میں ہوا جبکہ مارچ 2019ء میں تعمیراتی کام مکمل ہوا۔ 24اپریل 2019ء کو اسے عوام کے لیے کھولا گیا۔ یہاں بیک وقت ایک ہزار نمازیوں کی گنجائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کیمبرج میں اس مسجد کی تعمیر کا مقصد مسلمان برادری کے لیے عبادت، سماجی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے کے لیے سہولت مہیا کرنا ہے۔ 

مسلم اکیڈمک ٹرسٹ کی جانب سے کیمبرج میں مل روڈ کے علاقے رومسی میں مسجد تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ کیمبرج میں مسجد کے لیے بڑی جگہ کا حصول اور رقم کا بندوبست ایک بڑا مسئلہ تھا۔ اس مسجد کی تعمیر کے روح رواں ماضی کے عظیم گلوکار کیٹ اسٹیونز (جو بعدازاں اسلام قبول کر کے یوسف اسلام کہلائے) اور کیمبرج یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے لیکچرر ڈاکٹر ٹموتھی ونٹر ہیں۔

2008ء میں ڈاکٹر ٹموتھی ونٹر نے اس منصوبے کے لیے فنڈز جمع کرنے کی غرض سے ’کیمبرج مسجد پروجیکٹ‘ قائم کیا۔ مسجد کی تعمیر کے لیے یورپ، مشرق وسطیٰ، ایشیا اور امریکا میں رہنے والوں نے رقم عطیہ کی۔ سب سے زیادہ عطیات (مجموعی طور پر دو تہائی کے قریب) ترکی سے موصول ہوئے۔ 2009ء میں مل روڈ پر 4ملین پاؤنڈ کی رقم سے ایک ایکڑ زمین خریدی گئی۔

مسجد کی ڈیزائننگ میں ماہرفنِ تعمیر مارکس بار فیلڈ، مقدس فنِ تعمیر اور اسلامی جیومیٹری کے بین الاقوامی ماہر پروفیسر کیتھ کریچلو اور گارڈن ڈیزائنر ایما کلارک مارکس نے حصہ لیا۔ 2012ء میں مسلم اکیڈمک ٹرسٹ نے منصوبہ منظوری کے لیے کیمبرج سٹی کونسل کو پیش کیا، جسے منظورکرلیا گیا۔ اس کا ڈیزائن اسلامی اور انگریزی تعمیراتی روایات سے متاثر ہے۔ پائیداری اور سبز توانائی پر زیادہ انحصار کرنے والی یہ برطانیہ کی پہلی ماحول دوست مسجد (Eco-Mosque) ہے۔

مسجد کی نمایاں خصوصیت اس کا لکڑی سے بنا ڈھانچہ ہے۔ اس کی تعمیر میں استعمال کی جانے والی لکڑی سوئٹزرلینڈ سے لائی گئی ہے اور یہ زیادہ تر ایسے جنگلات کی لکڑی ہے، جہاں درخت کاٹنے سے ماحولیات پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ لکڑی کے ستون درخت کی شکل کے بنائے گئے ہیں جو اُوپر جا کر چھت کی لکڑی سے جڑ جاتے ہیں اور ایک کینوپی سی بن جاتی ہے۔ درخت نما لکڑی کے ستونوں کی کُل تعداد 30ہے، جن میں سے 16ستون عبادت کے لیے مختص ہال میں، 2 ستون شمالی سمت جبکہ 12ستون ایٹریم، کیفے اور تعلیمی مقاصد کے لیے مختص جگہوں پر نصب کیے گئے ہیں۔ اس کی چھت اس طرح بنائی گئی ہے کہ ہروقت روشنی مسجد کے اندر آتی رہے، یوں مصنوعی روشنیوں کا استعمال کم ہوتا ہے، جس سے بجلی کی بچت ہوتی ہے۔

ماہرین تعمیرات نے مسجد کی تعمیر میں اسلامی اور کیمبرج شہر کے فنِ تعمیر اور علاقے کی ضرورتوں کا خصوصی خیال رکھا ہے۔ تاہم، کیمبرج سینٹرل مسجد میں گنبد تو تعمیر کیا گیا ہے مگر کوئی مینار نہیں بنایا گیا۔ یہاں اسلامی فنِ خطاطی کا کام ترکی کے ماہر خطاط نے کیا ہے۔ مسجد میں حرارت (ہیٹنگ) کے لیے ماحول دوست ہیٹ پمپ لگائے گئے ہیں۔ مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے مختص جگہ کے علاوہ وضو خانہ، بچوں کے لیے جگہ، مردہ خانہ، کیفے اور درسگاہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ مقامی مسلم اور غیر مسلم کمیونٹیز کے استعمال کے لیے میٹنگ رومز بھی بنائے گئے ہیں۔ 

ڈاکٹر ونٹر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسلام قدرتی ماحول کی تحریم اور چیزوں کے ضیاع و اسراف سے منع کرتا ہے، لہٰذا مسجد کی تعمیر میں ان باتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ مسجد کے باہر ایک خوبصورت باغ بھی بنایا گیا ہے، جسے سیراب کرنے کے لیے وضو کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں بارش کے پانی کو بھی دوبارہ استعمال کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ باغ میں کوئی بھی وقت گزار کر راحت محسوس کرسکتا ہے۔ مسجد کی زیرِ زمین کار پارکنگ میں 82 گاڑیاں اور300 سائیکلیں کھڑی کرنے کی گنجائش ہے۔