• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

افغان صوبے تخار میں کھڑا ٹینک کس اہمیت کا حامل ہے؟


افغان صوبہ قندوز سے بدخشان جاتے ہوئے تخار صوبے میں ایک جگہ تنگی فرقار کہلاتی ہے اس راستہ میں جو ٹینک نظر آرہا ہے اس کی خاص بات یہ کہ یہ روسی افواج کا ٹینک ہے جس وقت روس سے یہاں جہاد ہورہا تھا۔

اس ٹینک پر فارسی میں ایک بہت دلچسپ تحریر ہے کہ یہ ٹینک مجاہدین نے روس کو شکست دے کر حاصل کیا اور پھر مجاہدین کو طالبان نے شکست دے کر اس ٹینک پر قبضہ کر لیا۔

صوبہ بدخشاں کے نواحی علاقوں کا کنٹرول بہت پہلے سے طالبان کی پاس تھا لیکن دارالحکومت فیض آباد پر مختصر مگر خوں ریز جنگ کے بعد طالبان نے 11 اگست کو اس شہر پر قبضہ کیا۔

افغانستان میں مالی اثاثے منجمد ہیں ادارے سنبھالنے والے غیرملکی ماہرین ملک سے چلے گئے، تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کیلئے روزگار  اور حکومت کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں، اسپتالوں اور درسگاہوں سمیت ہر شعبہ مفلوج ہوگیا، یہ نقشہ ہے موجودہ افغانستان کا جس کی معاشی بحالی طالبان کا نیا اور کڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد دیگر صوبوں کی طرح بدخشاں میں بھی معاشی حالات بہت خراب ہیں۔ جو بیمار ہیں ان کیلئے اسپتالوں میں دوائیں نہیں، بیروزگاری عام ہے لیکن اگر کوئی کہیں کام کربھی رہا ہے تو اُس کی تنخواہ ادا کرنے کے لئے پیسہ نہیں، جبکہ تعلیمی اخراجات بھی بوجھ بن گئے ہیں۔

ڈاکٹر نصر اللّٰہ نیازی کا کہنا ہے کہ تین مہینے ہوگئے تنخواہ نہیں ملی ہمیں آغا خان فاونڈیشن تنخواہیں دیتی تھی وہ بھی بینک کی وجہ سے نہیں مل پارہی بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

افغانستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے سب سے مشکل مالی اور سیکیورٹی مسائل ہیں اگر یہ دونوں مشکلات حل ہوجائیں تو افغان طلبہ کے نئے مواقعے پیدا ہوں گے۔

جیو کے نمائندے نے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ بدخشاں کو بجلی ترکی کی مدد سے تعمیر شورابک ڈیم سے آتی ہے۔ ہم گورنر ہاؤس پہنچے تو بجلی غائب تھی اس لیے لان میں بٹھایا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ غیر ملکی ماہرین ملک سے چلے گئے اس لئے بجلی کے نظام میں ہوئی خرابی ٹھیک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

معدنیات کی دولت سے مالا مال لیکن بد حال صوبہ بدخشان کے گورنر مولوی نثار احمد کا کہنا ہے کہ اقتصادی معاملات مشکل تر ہوتے جارہے ہیں۔

گورنر مولوی نثار احمد کا کہنا ہے کہ یہی مشکلات حل کرنے کیلئے اسلامی امارت دن رات محنت کر رہی ہے جیسے امن و امان کے معاملات ہم نے دلیری سے حل کئے ہیں اسی طرح اللّٰہ تعالی کی مدد سے ہم بین الاقوامی رابطوں کے ذریعہ اقتصادی معاملات اور روزگار کے مواقعوں کیلئے ہر ممکن کوششیں کررہے ہیں۔

افغان عوام یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان کی آمد کے بعد سے امن و امان بہتر اور شاہراہیں محفوظ ہو گئی ہیں۔ لیکن کیا طالبان معاشی حالات جلد بہتر بنا سکیں گے اس سوال پر وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید