• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مؤثر انوینٹری مینجمنٹ سسٹم ترتیب دینا

عالمی سطح پر فروغ پاتی معیشت میں انوینٹری پر مبنی صنعتوں جیسے ریٹیل، ہاسپٹیلٹی اور مینوفیکچرنگ کے لیے تیار شدہ مصنوعات، خام مال اور دیگر اجزاء کافی اہمیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا، انوینٹری میں کمی کسی بھی کاروبار پر منفی یا تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگرچہ انوینٹری کو عام طور پر ایک اثاثہ (Asset)کے طور پر لیا جاتا ہے مگر اسے بار (Liability) بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹاک خراب، طلب میں تبدیلی سے متاثر یا چوری ہوسکتا ہے۔ 

یہاں تک کہ اسے کسی اور وجہ سے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ انوینٹری صحیح طریقے سے بیمہ شدہ (Insured) ہو۔ اگر کسی ریٹیل کمپنی کو اپنی مصنوعات کے بروقت خریدار نہیں ملتے تو کم قیمت پر انہیں فروخت کرنا پڑتا ہےجبکہ مقررہ وقت کے بعد خراب ہونے والی اشیا (Perishable Items)پھینکنی پڑسکتی ہیں۔ اس لیے مختلف صنعتوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو چاہیے کہ انوینٹری مینجمنٹ کی بہتر حکمت عملی مرتب اور نافذ کریں۔ انوینٹری مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے نقصانات کو کم اور مجموعی منافع کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

انوینٹری مینجمنٹ تکنیکس

ذیل میں چند مؤثر حکمت عملیوں کا ذکر کیا جارہا ہے، جو آپ انوینٹری منظم کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

٭ Setting per level : مصنوعات کی کم از کم تعداد مقرر کرنا، جسے ہر وقت بآسانی دستیاب ہونا چاہیے۔

٭ ڈراپ شپنگ: ایک ایسا انتظام جس کے ذریعے ہول سیلرز یا مینوفیکچررز انوینٹری کے پورے عمل کا خیال رکھتے ہیں۔

٭ فرسٹ اِن فرسٹ آؤٹ: اس ترتیب میں سامان فروخت کرنا جس میں ان کی خریداری کی گئی تھی۔ یہ طریقہ کار کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کیلئے موزوں ہے۔

٭ ایکیوریٹ فورکاسٹنگ: اس میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے رجحانات، معیشت کی مجموعی حالت، ماضی کی فروخت کا حجم اور سیزن جیسے عوامل پر مستقبل کی فروخت کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔

٭ پراپر ریلیشن شپس مینجمنٹ: سپلائرز کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ضروری ہے کیونکہ آپ کو کم چلنے والی اشیا واپس کرنے، کچھ مصنوعات کی خریداری کو معطل کرنے یا تیزی سے فروخت ہونے والی اشیا کو دوبارہ اسٹاک کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

٭ انٹرمیڈیئری کا استعمال: کمپنیوں کے پاس یہ بھی انتخاب ہوتا ہے کہ وہ کسی انٹرمیڈیئری کے ذریعے ڈیجیٹل سطح پر اپنی مصنوعات فروخت کریں۔ اگر کوئی کمپنی انوینٹری کو نہیں سنبھالنا چاہتی تو اس تکنیک کو اپناسکتی ہے۔

تجاویز

ایک مؤثر انوینٹری مینجمنٹ سسٹم کے لیے ذیل میں بتائی گئی تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

٭ کم از کم کسی ایک شخص کو انوینٹری کا حساب رکھنے کا ذمہ دار بنائیں۔ یہ عمل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ متعلقہ شخص کے پاس ہمیشہ انوینٹری پر کسی بھی سوال کا جواب موجود ہو۔

٭ انوینٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر ریکارڈ رکھنے اور چیزوں کو آسان بنانے میں مدد کرتا ہے۔

٭ ڈیٹا غائب ہونے پر بیک اَپ سسٹم رکھیں۔

٭ فروخت کو خود بخود ٹریک کرنے کے لیے پوائنٹ آف سیل (POS) استعمال کریں۔

٭ کسی ایسی چیز پر زیادہ خرچ نہ کریں جسے ذخیرہ کرنا مہنگا پڑے۔

٭ ہمیشہ سپلائرز کے ساتھ سودے بازی (Bargain)کریں اور غور کریں کہ کیا کم مقدار میں خریدنا سستا پڑے گا۔

٭ ایک مؤثر انوینٹری ٹریکنگ سسٹم رکھیں، جس کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس ہونا چاہیے۔ آپ اس مقصد کے لیے گوگل اسپریڈشیٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں تاکہ تمام تبدیلیاں فوری طور پر نظر آجائیں۔

٭ مناسب اسٹاک آپٹیمائزیشن طریقہ کار نافذ کریں تاکہ انوینٹری ختم نہ ہو۔

٭ ایسا اسٹاک جو کافی عرصہ سے رکھا ہوا ہو، اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ڈسکاؤنٹس اور پروموشنز دیں۔ جلد خراب ہونے والی اشیا یا چیزوںکو ضائع کرنے کے مقابلے میں یہ بہتر طریقہ ہے۔

٭ دیگر موثر انوینٹری مینجمنٹ کی تکنیکس میں ترجیحات کا تعین کرنا، ہنگامی منصوبہ بندی اور باقاعدہ آڈیٹنگ (مثلاً فزیکل انوینٹری ، سائیکل کاؤنٹنگ اور اسپاٹ چیکنگ جیسے طریقوں کا استعمال) شامل ہیں۔

مؤثر انوینٹری مینجمنٹ بلاشبہ کمپنیوں کے ساتھ ساتھ معیشت کے دیگر شعبوں میں کاروبار کے لیے ایک اہم عمل ہے۔ کوئی بھی کمپنی جو اپنی انوینٹری پر گہری نظر رکھنے یا اپنے اکاؤنٹس کا جائزہ لینے میں ناکام رہتی ہے، وہ بلاشبہ انوینٹری سے متعلقہ ممکنہ چیلنجز اور غلطیوں کے لیے خود کو تیار کرتی ہے۔ درحقیقت، انوینٹری مینجمنٹ بآسانی کاروبار کو کامیاب یا ناکام بنا سکتی ہے۔

فوائد

ذیل میں درج چند بنیادی وجوہات کی بنا پر کمپنیوں کو مناسب انوینٹری مینجمنٹ سسٹم رکھنا چاہیے۔

٭ ایک اچھا انوینٹری مینجمنٹ سسٹم اس بات کا تعین کرنے میں مدد کر سکتا ہے کہ کاروبار میں کتنی انوینٹری ہونی چاہیے۔ اس سے مصنوعات کی کمی سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی گودام میں ضرورت سے زیادہ اسٹاک رکھے بغیر مناسب اسٹاک برقرار رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

٭ اسٹاک کا مناسب انتظام گاہکوں کو راغب کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔

٭ انوینٹری مینجمنٹ سسٹم کاروبار میں زیادہ منظم گودام بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ غیر منظم گودام سپلائی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ملازمین کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے، جس سے نظم گودام سے بالآخر پیداواری کارکردگی پر سمجھوتہ ہوگا۔

٭ کمپیوٹر سافٹ ویئر، بارکوڈ اسکینرز اور دیگر انوینٹری مینجمنٹ ٹولز پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔ یہ ٹولز زیادہ لوگوں کے کام کرنے کو کم کرنے میں مدد دےسکتے ہیں اور وہ افراد کہیں اور کام کرسکتے ہیں۔

٭ اچھے انوینٹری مینجمنٹ سسٹم سے اہم مالیاتی فوائد اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔ اس کے تحت پہلے سے موجود اور تمام نئی مصنوعات کا ریئل ٹائم اسٹاک کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک بہتر حکمت عملی ہے جو وقت اور پیسے کی بچت کرتی ہے۔