سوال: تراویح 20 رکعات پڑھنا ہی ضروری ہے یا کبھی تھکاوٹ یا کوئی مصروفیت ہو تو حسبِ سہولت جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں؟
یعنی اس بات کی وضاحت کر دیجیے کہ 20 رکعات تراویح کا ثبوت کہاں سے ہے؟ اور 20 رکعات تراویح کی حیثیت نفل و مستحب ہے یا سنّتِ تاکیدی یا واجب؟
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب: 20 رکعت تراویح ادا کرنا سنّتِ مؤکدہ ہے اور یہی رسولِ اکرم ﷺ کا معمول تھا، نبیٔ اکرم ﷺ نے 2 یا 3 روز تراویح کی باقاعدہ امامت بھی فرمائی تھی، لیکن تیسرے یا چوتھے روز امامت کے لیے تشریف نہ لائے، صحابۂ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین رسولِ اکرم ﷺ کے حجرۂ مبارک کے باہر انتظار کرتے رہے اور اس خیال سے کہ نبیٔ اکرم ﷺ سو نہ گئے ہوں، بعض صحابہ ؓ کھنکارنے لگے تو رسولِ اکرم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے خوف ہوا کہ یہ کہیں تم پر فرض نہ کر دی جائیں, اگر فرض کر دی گئیں تو تم ادا نہیں کر سکو گے، لہٰذا اے لوگو! اپنے گھروں میں ادا کرو۔ (متفق علیہ)
حدیث شریف میں رسول اللّٰہ ﷺ کا یہ معمول منقول ہے کہ آپ ﷺ ماہِ رمضان میں جماعت کے بغیر 20 رکعت تراویح اور وتر ادا فرماتے تھے، جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللّٰہ نے السنن الکبریٰ میں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت نقل کی ہے۔ (السنن الکبریٰ للبيھقي، کتاب الصلاۃ، باب ما روی فی عدد رکعات القيام فی شھر رمضان، رقم الحدیث:4962، ط: ادارہ تالیفات اشرفیہ و المصنف لابن أبی شيبۃ، کتاب صلاۃ التطوع و الامامۃ وأبواب متفرقۃ، كم يصلی فی رمضان رکعۃ، ج:2، ص:286، ط: طیب اکیدمي)
نیز اگر مجتہدین یا علمائے اُمّت کسی حدیث کو قبول کر لیں اور اس پر سب عمل کریں تو وہ متواتر کے معنی میں ہو جاتی ہے اور اُمّت کا کسی حدیث کو قبول کرنا اس کی صحت اور حجت ہونے کی قوی ترین دلیل ہے، حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کی مذکورہ حدیث اگرچہ خبرِ واحد ہے، لیکن صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم، تابعین، تبع تابعین، آئمہ مجتہدین اور تمام اُمت نے اسے قبول کیا ہے اور 20 رکعت تراویح ادا کرنا صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم اجمعین کا بھی معمول تھا، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے مسجدِ نبوی ﷺ میں باجماعت 20 رکعت تراویح کا اہتمام کروایا تو ان پر کسی نے نکیر نہیں کی، بلکہ تمام صحابۂ کرامؓ نے باجماعت تراویح کے اہتمام پر اتفاق کیا اور صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم کا 20 رکعات پر اتفاق یعنی اجماعِ صحابہ اس بات کی شہادت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تراویح 20 رکعات ہی پڑھائی ہیں، لہٰذا 20 رکعات تراویح ادا کرنا سنّتِ مؤکدہ ہے۔
اور سال میں ایک مرتبہ ہی اس کا موقع میسر آتا ہے، اس لیے مصروفیت اور تھکاوٹ کی وجہ سے 20 رکعات سے کم ادا کرنا اور اس کا معمول بنانا درست نہیں، اگر مصروفیت یا تھکاوٹ کی وجہ سے ایک ساتھ 20 رکعات نہ پڑھی جائیں تو سحری تک وقفے وقفے سے ادا کر لی جائیں، البتہ کبھی عذر (بیماری یا شرعی سفر) کی وجہ سے مکمل تراویح یا کچھ رکعتیں رہ جائیں تو گناہ یا کراہت نہیں ہے۔