• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ پولیس نے سندھ بھر کے312 گٹکا اور ماوا فروشوں کی فہرست تیار کرلی

جیکب آباد(نامہ نگار) سندھ پولیس نے سندھ بھر کے 312 گٹکا اور ماوا فروشوں کی فہرست تیار کرلی، فہرست میں پولیس افسران و اہلکاروں سمیت سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کے نام بھی شامل ہونے کا انکشاف، جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے سابق یوسی چیئرمین سمیت 5 افراد کے نام بھی فہرست میں شامل، جلد کاروائی کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس نے سندھ بھر کے مختلف ڈویژن کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے 312 گٹکا اور ماوا کا کاروبار کرنے والے اہم ڈیلروں کی فہرست تیار کرلی ہے، فہرست میں کراچی کے 106، حیدر آباد کے 103، میر پور خاص کے 76، سکھر کے 15 اور لاڑکانہ ڈویژن کے 12 افراد شامل ہیں، سندھ پولیس کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے 5 افراد کے نام بھی شامل ہیں،جن میں ایک سابق یو سی چیئرمین کا نام بھی شامل ہیں، سندھ پولیس کی جانب سے مضر صحت اشیا کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف جلد کاروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، ذرائع کے مطابقپولیس کی جانب سے مرتب کردہ فہرست میں پولیس اہلکاروں و افسران سمیت سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں، واضح رہے کہ 11 اکتوبر 2021 کو سندھ ہائیکورٹ میں گٹکا، ماوا اور دیگر مضر صحت اشیا کی فروخت کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی تھی جس میں عدالت نے گٹکا اور ماوا کی فروخت میں ملوث پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے فروخت میں ملوث افسران کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایت کی تھی اور جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے گٹکے کی فروخت میں پولیس کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، ایسے پولیس اہلکاروں اور افسران کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں، عدالت نے ریمارکس دیے کہ گٹکا اور ماوا کھانے والوں کو خطرناک بیماریاں لاحق ہورہی ہیں اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر گٹکے فروخت ممکن ہی نہیں ہے، عدالت نے حکم دیا کہ گٹکے اور مارے کی خرید و فروخت روکنے کیلئے رینجرز کی مدد لی جائے۔

اہم خبریں سے مزید