• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخو اکے 70فیصد سے زائد صحافی ذہنی دبائو کا شکار ہیں،شعبہ سائیکالوجی

پشاور( وقائع نگار) ملک بھر کی طرح خیبر پختونخو اکے 70فیصد سے زائد صحافی بھی مختلف مسائل کے باعث ذہنی دبائو کا شکار ہیں جبکہ کونسلنگ نہ ہونے کے باعث ذہنی دبائو میں مبتلاء صحافیوں کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جو انکے لئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں ، معاشرے میں ہر انسان کسی نہ کسی ذہنی دبائو کا شکار ہے اور یہ ذہنی دبائو بہت سی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی فرد ذہنی دبا ئو،پریشانی اور بے چینی کا شکار ہو تو بالکل نہ گھبرائیں اور ماہر نفسیات سے رجوع کریں،ان خیالات کا اظہار اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے شعبہ سائیکالوجی میں خدمات سرانجام دینے والی معلمہ گلشن تارہ نے پشاور پریس کلب میں صحافیوں کی کونسلنگ کے لئے منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئیے کیا اس موقع پر صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض ، چیرمین کیپیسٹی بلڈنگ کمیٹی پشاور پریس کلب سیف الاسلام سیفی اور دیگر سینئر صحافی بھی موجود تھے ،تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے گلشن تارہ نے کہا کہ ہر انسان اپنی حیثیت میں بہت قیمتی ہے اگر ہمیں ان کے بارے میں آگاہی ہو تو مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پر اگر ہمیں کوئی بھی ذہنی طور پر پریشان شخص مل جائے یا اگر کوئی شخص کسی ماہر نفسیات کے پاس محض اس غرض سے جا رہا ہو کہ اسکی پریشانی ختم ہو جائے تو ہم اسے فوری طور پر پاگل کا خطاب دے دیتے ہیں۔ ذہنی پریشانیوں کا اگر بر وقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ بڑھ کر ہمیں پاگل ضرور بنا سکتی ہیں اسی لئے یہ سوچ کر کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ہمیں ماہر نفسیات سے مشورہ کرنے سے خود کو روکنا نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی صحافیوں کو کافی مسائل کا سامنا ہے جس سے وہ ذہنی دبائو کاشکار ہیں اس لئے انہیں مایوس ہونے کی بجائے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ نفسیاتی امراض کی علامات میں نیند بہت متاثر ہوتی ہے۔ بعض مریضوں کو نیند آتی ہی نہیں یا پریشان کن خیالات کی وجہ سے بہت دیر سے آتی ہے۔ رات کو بار بار آنکھ کھل جاتی ہے۔ معمول سے بہت پہلے آنکھ کھل جاتی ہے اور بے چینی کی کیفیت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ بچوں میں احساس کمتری کی وجہ والدین خود ہوتے ہیں۔ والدین کسی بھی بات کو لیکر کر بچے کو ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں، مارنا پیٹنا حتی ٰکہ انہیں دھتکارنا اور سزا کے طور پر بچوں کو باتھ روم یا سٹور میں بند کر دینا ایسے میں بچوں میں ڈر اور خوف کے ساتھ ساتھ احساس کمتری بھی پیدا ہو جاتا ہے جو آگے جا کر بڑے مسائل کا باعث بنتا ہے ۔ ایسے میں ہم والدین کو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو مارا پیٹا نہ جائے بلکہ پیار سے سمجھایا جائے کیونکہ والدین بچوں کے لئے بہترین رہنما ثابت ہو سکتے ہیں اگر وہ ان سے بات چیت کریں اور زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں تو بچے کبھی بھی احساس کمتری کی شکار نہیں ہوں گے انہوں نے کہا کہ ڈپریشن کسی کو بھی ہوسکتاہے۔ ڈپریشن اگر زیادہ مدت تک رہے تو خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے اس کے علاوہ مالی حالات اور اردگرد کا ناسازگار ماحول بھی ذہنی تنائو کا باعث بنتا ہے۔
پشاور سے مزید